’ہنگو: میدان جنگ کا ایک منظر‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اونچے اور دلکش پہاڑوں کے درمیان واقع ہنگو شہر کا مرکزی بازار یوم عاشور کے ماتمی جلوس پر بم حملے کے ایک روز بعد بھی ایک ایسے میدان کی تصویر پیش کر رہا تھا جہاں گھمسان کی جنگ ہوئی ہو۔ بازار میں کرفیو کی وجہ سے صرف ایف سی اور پولیس اہلکار ہی دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم بازار کے دائیں بائیں علاقوں میں لوگوں کو آنے جانے کی اجازت تھی لیکن شاید خوف کی وجہ سے گلیوں میں کم لوگ ہی نظر آئے۔ بازار میں سے گزرے تو دکانوں کا سامان ٹوٹا پھوٹا بکھرا پایا۔ کیا بینک، کیا دکان، شاید ہی کوئی بچ پایا۔ ستر فیصد دکانیں تباہ تھیں۔ دھماکے کی جگہ پہنچے تو انسانی گوشت کے ٹکڑے، جوتے اور دیگر سامان اب بھی پڑے تھے۔ ہنگو کے مضافات خاص کر ابراہیم زئی کے علاقے سے بدستور مارٹر داغے جانے کا شور بازار کی خاموشی کو وقفے وقفے سے توڑتا رہا۔ ہنگو کی واحد فائر برگیڈ کو مشتعل افراد کی جانب سے جلانے کے بعد کوہاٹ اور ٹل سے منگوائی گئی فائر برگیڈ کی تین گاڑیوں کو دکانوں کے شٹر توڑ کر اندر جل رہی آگ کو بجھانے کی کوشش میں مصروف پایا۔ تاہم یہ بظاہر ان تین کے لیے ایک مشکل چیلنج ثابت ہو رہا تھا۔ ایک دکان کی آگ بجھا کر وہ دوسری کی جانب جاتے کہ پہلی والی میں دوبارہ آگ بھڑک اٹھتی۔ نوجوان سید احتشام الدین دو روز سے آگ بجھانے کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ ان کا کہنا تھا انہیں پانی کافی دور سے لانا پڑ رہا ہے۔ وہیں اپنی فرنیچر کی دکان سے جھانک رہے پریشان خوبان شاہ نے بتایا کہ وہ بنوں کے ہیں لیکن اب وہ اپنے دیگر مزدور ساتھیوں کے ساتھ وہاں جا نہیں سکتے۔ ’راستے بند ہیں اور گاڑیاں بھی۔‘ وہیں قریب میں جمشید خان کو اپنی لوٹی ہوئی دکان کا جائزہ لیتے پایا تو نقصان کے بارے میں جاننا چاہا۔ ٹین کے صندوق اور الماریاں فروخت کرنے والے جمشید کا کہنا تھا کہ ان کا چھ لاکھ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اہلسنت کے لوگوں کو ہنگو میں ان کی اور دیگر افراد کی املاک جلانے پر انتظامیہ سے شکایت تھی۔ سنی عالم دین مولانا محمد امین کا کہنا تھا کہ محرم کے دو روز کے دوران وہ اپنی دکانیں اور کاروبار حکام کے حوالے کر دیتے ہیں کہ وہ اس کی حفاظت کریں گے لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ لیکن شیعہ رہنما مولانا خورشید جواد کا کہنا تھا کہ نقصان شیعہ اور سنی دونوں کا ہوا ہے۔ ’اگر دکانیں صرف سنی اشخاص کی جلائی جاتیں تو درست تھا لیکن ہمارے بھی لوگوں کی دکانیں جلی ہیں۔‘ ہنگو سول ہسپتال پہنچے تو دھماکے میں زخمیوں سے ملاقات ہوئی۔ کسی کا بازور تو کسی کا کان دھماکے میں اڑ گیا۔ آٹھ لاشیں ایسی تھیں جن کی ابھی تک شناخت نہیں ہوسکی تھی۔ ان میں حکام کو شک ہے کہ ایک خودکش حملہ آور کی بھی ہے۔ مقامی لوگوں سے بات کی تو ان کا ماننا تھا کہ یہ حملہ مقامی لوگوں کا نہیں بلکہ باہر کے کسی شخص کی کارروائی تھی جو یہاں کے حالات کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔ ہنگو میں بسے پرانے رہائشی افراد کا کہنا ہے کہ ہنگو میں یہ کشیدگی پہلی نہیں بلکہ چوتھی مرتبہ دیکھی جا رہی ہے۔ پہلی مرتبہ ہنگو کو نظر انیسو اسی میں لگی جب پندرہ افراد ہلاک ہوئے۔ دوسری مرتبہ تناؤ انیسو اٹھانوے میں دونوں فرقوں کے درمیان ایک شخص کی ہلاکت پر منتج ہوا۔ سن دو ہزار ایک میں بھی ہنگو بازار میں دکانیں جلیں اور پندرہ ہلاکتیں ہوئیں۔ ہنگو میں اب چوتھی مرتبہ حالات خراب ہوئے ہیں۔ پانچ گھنٹے گزارنے کے بعد واپسی کا ارادہ کیا تو بعد از نماز جمعہ فائرنگ کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا جو آخری اطلاعات تک جاری تھا۔ سوچا مستقبل میں حالیہ کشیدگی کے ساتھ کتنی جانوں کا نقصان یاد کیا جائے گا۔ انتظامیہ فی الحال بےبس نظر آ رہی ہے۔ اہلکاروں کا خود ماننا ہے کہ صورتحال ان کے پورے قابو میں ابھی بھی نہیں ہے۔ | اسی بارے میں ہنگو شہرمیں کشیدگی، فائرنگ 10 February, 2006 | پاکستان ہنگو: دھماکے اور فائرنگ، 31 ہلاک09 February, 2006 | پاکستان عاشورہ کے جلوس میں دھماکہ، 8 ہلاک 09 February, 2006 | پاکستان عاشورہ پر سخت حفاظتی اقدامات09 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||