ہنگو شہرمیں کشیدگی، فائرنگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے شہر ہنگو میں کشیدگی بدستور قائم ہے اور آج دو پہر سے وہاں دوبارہ فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا جو آخری اطلاعات تک جاری تھا۔ فریقین کی جانب سے ہلکا اور بھاری اسلحہ استعمال کیا جا رہا تھا تاہم حکام کے مطابق مرنے والوں کی تعداد اب چالیس تک پہنچ گئی ہے۔ فائرنگ کے روکنے کے لیے مقامی علما اور شعیہ سنی رہنماؤں نے مساجد سے لوگوں کو پرامن رہنے کی اپیل شروع کر دی ہیں۔ ہنگو کے ناظم غنی الرحمان کے مطابق مرنے والوں کی مجموعی تعداد چالیس ہوگئی ہے۔ ابراہیم زئی کے علاقے میں فریقین نے پہاڑوں پر مورچے قائم کر رکھے ہیں اور فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان مسلح گروہوں کو وارننگ دی ہے کہ اگر انہوں نے یہ حملے نہ روکے تو ان کے خلاف ہیلی کاپٹر اسمتعال کئے جاسکتے ہیں۔ جمعرات کو ہنگو میں عاشورہ کے جلوس میں دھماکے کے بعد شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے جن میں نجی اور سرکاری املاک کو نذرِ آتش کر دیا گیا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ بات اب تقریباً یقینی ہے کہ یہ ایک خودکش حملہ ہی تھا اور اس سلسلے میں فورینزک ماہرین کو بلوا لیا گیا ہے۔ جمعہ کی دوپہر تک بھی کئی دکانوں میں آگ بھڑک رہی تھی۔ بازار میں تقریباً ستر فیصد دکانوں کو جلا دیا گیا ہے۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد ایمبولینسیں بھی سڑکوں سے گزر رہی تھیں۔ ایک تاجر محمد جمشید کی دکان بھی تباہ ہوئی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ انہیں چھ لاکھ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ’اس سب میں ہمارا کیا قصور ہے؟ ہم تو گھر پر بیٹھے ہوئے تھے۔‘
جلوس میں دھماکے تاحال شہر کا کنٹرول ایف سی اور پولیس ہی کے پاس ہے۔ شہر سے کچھ دور کہیں کہیں لوگ گھروں سے باہر نکلے ہیں اور چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کی صورت میں کل کے واقعات پر بات چیت کرتے نظر آئے۔ شہر کے وسط میں پولیس ریسکیو ون فائیو کی چوکی کو بھی راکٹ سے نشانہ بنایا گیا تھا۔اس کے کھڑکیوں اور دروازے کے شیشے ٹوٹ چکے تھے۔ بعض اطلاعات کے مطابق کئی گھروں کے لوگوں نے اپنے اہل و عیال کو امام بارگاہوں میں پہنچا دیا ہے تاکہ وہ ممکنہ حملے سے محفوظ رہیں۔ ناظم ہنگو کے مطابق تازہ ہلاکتیں کل رات کی فائرنگ میں ہوئی ہیں تاہم تازہ فائرنگ سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ نوٹ: اگر آپ یا آپ کے عزیز یا دوست اس وقت وہاں موجود تھے تو اس واقعے کا آنکھوں دیکھا حال لکھ بھیجئے۔ |
اسی بارے میں ہنگو: دھماکے اور فائرنگ، 31 ہلاک09 February, 2006 | پاکستان عاشورہ پر سخت حفاظتی اقدامات09 February, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||