ہنگو: دھماکے اور فائرنگ، 31 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے قصبے ہنگو میں صبح عاشورہ کے جلوس میں دھماکے اور اس کے بعد حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب کم سے کم اکتیس ہو گئی ہے۔ ڈسٹرکٹ ہسپتال ہنگو کے ڈاکٹر نسیم جان نے بی بی سی کو بتایا کہ تقریباً ساری لاشوں کی شناخت ہو گئی ہے۔ تاہم ہسپتال کے ایک اور ڈاکٹر کے مطابق ہسپتال میں لائی گئی لاشوں میں سے صرف اٹھارہ کی شناخت ہو سکی ہے۔ بی بی سی پشتو سروس کے عبد الحئی کاکڑ ہنگو میں موجود ہیں اور انہوں نے اطلاع دی ہے کہ علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور متصادم گروہوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔ یہ واقعہ ہنگو سے سات کلومیٹر دور ابراہیم زئی گاؤں میں پیش آیا، جہاں کچھ نو جوان مورچہ زن بھی ہوئے۔ جس وقت ہمارے نامہ نگار نے یہ خبر دی، اس وقت بھی ان کے قریب دو گولے گرے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مارٹر ابراہیم زئی کے قریب پہاڑی پر واقع شہو وارم گاؤں کی جانب سے داغے گئے۔ ایک عینی شاہد نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو لکھے گئے ای میل میں یہ بھی کہا ان کے گاؤں میں مارٹر گولے گرے ہیں۔ تاہم ابھی ان اطلاعات کی تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔ ادھر حکومت کے ذرائع اب تک ہلاکتوں کی تعداد بائیس بتا رہے ہیں۔ جلوس میں دھماکے ہسپتال ذرائع کے مطابق مرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ بھی ہوسکتا ہے کیونکہ زخمیوں میں درجنوں کی حالت تشویش ناک ہے۔ کئی زخمیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے دیگر علاقوں کو منتقل کئے جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر میں کشیدگی بدستور قائم ہے۔ ادھر ہنگو ٹل روڈ پر ایک مسافر گاڑی پر فائرنگ سے چار افراد جن میں ایک خاتون بھی شامل ہیں ہلاک جبکہ دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ صوبائی حکومت نے ہائی کورٹ کے ایک جج کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن بھی قائم کیا ہے جبکہ ہلاک ہونے والوں کے لئے ایک لاکھ روپے اور زخمیوں کے لئے پچاس ہزار روپے کے معاوضے کا بھی اعلان کیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے آٹھ ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مزید تحقیقات جاری ہیں تاہم فی الحال تمام کوششیں صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکنا ہے۔ اس واقعے کے بعد شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے اور مشتعل ہجوم نے نجی اور سرکاری املاک کو نذر آتش کر دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق تیس سے زائد دوکانوں اور گاڑیوں کو آگ لگائی گئی۔ اس موقعہ پر موجود افراد کے مطابق یہ خودکش حملہ تھا تاہم حکام ابھی اس کی تصدیق نہیں کر رہے۔ ہنگو کے شیعہ رہنما حسین علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ بھی اس موقعہ پر موجود تھے اور انہوں نے دو تین دھماکے سُنے جس کے بعد دھواں اور اندھیرا چھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود نہیں دیکھا تاہم لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ خودکش حملہ آور تھا جس کی لاش کا نچلا دھڑا انہیں ملا ہے۔ البتہ اس کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ ہنگو کے ایک اور شیعہ شہری عرفان خان نے بتایا کہ دھماکے کے بعد صورتحال اتنی خراب ہوئی کہ زخمیوں کو راستے بند ہونے کی وجہ سے ہسپتال بھی نہیں لیجایا جا سکا۔ ’ان کی ہاؤس جاب ڈاکٹروں نے مرہم پٹی کی۔‘ انہوں نے الزام لگایا کہ مقامی انتظامیہ نے عاشورہ کی موقع پر مناسب حفاظتی انتظامات نہیں کئے گئے تھے اور اس کی وجہ ناقص سیکورٹی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد سپاہی حفاظتی چوکیاں چھوڑ کر چلے گئے تھے لہذا انہوں نے اپنی حفاظت کا خود انتظام کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شہر کے دیگر مقامات پر بھی مظاہرین نے احتجاج کیا ہے اور ہنگو سے کوہاٹ جانے والی سڑک بند کر دی ہے۔ قریب میں ایک ٹرک کو نذر آتش بھی کیا ہے۔ حکام صورتحال پر قابو پانے کی کوششیں کر رہے ہیں اور سپیکروں پر اعلانات کے ذریعے عوام کو پرامن رہنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔ نیم فوجی ملیشا فرنٹئر کور اور پولیس کی مزید فورس بھی علاقے کو روانہ کر دی گئی ہے۔ اس واقعے کے بعد صوبے کے دیگر علاقوں میں بھی سیکورٹی فورسز کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ہنگو کو حکام پہلے ہی حساس علاقہ قرار دے چکے تھے۔ ماضی میں بھی اس علاقے میں اس قسم کے واقعات ہوچکے ہیں۔ نوٹ: اگر آپ یا آپ کے عزیز یا دوست اس وقت وہاں موجود تھے تو اس واقعے کا آنکھوں دیکھا حال لکھ بھیجئے۔ |
اسی بارے میں عاشورہ پر سخت حفاظتی اقدامات09 February, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||