BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 09 February, 2006, 11:39 GMT 16:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہنگومیں دھماکے: آنکھوں دیکھا حال
کراچی میں نویں محرم کے جلوس کے شرکاء

پاکستان کے شہر ہنگو میں جمعرات کی صبح محرم الحرام کے ایک ماتمی جلوس کے دوران دھماکے ہوئے جس میں درجنوں افراد ہلاک اور ایک بڑی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔


حسین اورکزئی:

جلوس مختلف راستوں سے ہوتا ہوا اپنی منزل کی طرف جا رہا تھا۔ اسی دوران کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور سارا علاقہ دھوئیں اور گرد کی لپیٹ میں آ گیا۔ مجھے ہلاک ہونے والوں کی صحیح تعداد کا تو نہیں معلوم لیکن دھماکے کے بعد جلوس کے شرکاء نے دکانوں کو آگ لگانا شروع کر دی اور ہنگو کے اردگرد کے علاقوں سے فائرنگ کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔ دونوں کمیونٹی کے لیڈروں نے لاؤڈ سپیکرز پر امن کی اپیلیں کرنا شروع کر دیں۔ شام کی نماز کے بعد قدرِ امن تھا اور فوج اور دیگر اداروں کی بھاری نفری گشت کر رہی تھی۔

صبح دھماکوں کے بعد مقامی پولیس اور فرنٹئیر کور شہر کو اپنے حال پر چھوڑ کر چلے گئے۔ بہت دیر تک شہر جنگ کا میدان بنا رہا۔ اس کے بعد شہر کو فوج کے حوالے کر دیا گیا، جس پر شہریوں نے سکون کا سانس لیا۔ مقامی لوگوں کو اس بات کا ڈر ہے کہ اورکزئی قبیلے کے لوگ بھاری ہتھیاروں کے ساتھ لڑنے نا آجائیں جس طرح انہوں نے 1997 میں کیا تھا۔


مولانا خورشید:

’میرا تعلق امام بارگاہ سے ہے اور میں مدرسہ جامعہ عسکریہ کا پرنسپل بھی ہوں۔
میں دھماکہ کی جگہ سے پچیس تیس قدم کے فاصلے پر تھا، یہ دھماکہ مین بازار ہنگو میں ہوا ہے۔ ہمارا جلوس صبح ساڑھے سات بجے نکلا۔ مجھے بھی مین بازار چوک میں وتقریر کرنی تھی۔

وہاں پر دو ڈھائی ہزار آدمی موجود تھے اور برانچ بازار میں بھی لوگوں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی جو ابھی مین بازار نہیں پہنچی تھی۔۔۔ لوگ ابھی آ رہے تھے۔

جلوس چوک میں پہنچا ہی تھا کہ ایک بہت بڑا دھماکہ ہوا اور پھر ہم نے دیکھا
کہ وہاں لاشیں ہی لاشیں بکھری ہوئی ہیں اور زخمی ہیں کافی سارے۔ بہت سی ایسی لاشیس دیکھیں جن کی شناخت نہیں ہو پائی کیونکہ کسی کا سر نہیں تھا کسی کا پاؤں نہیں تھا۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بہت بڑا بلاسٹ ہے۔ یہ خودکش حملہ ہے اس لیے کہ جس جگہ پر یہ بم پھٹا ہے اس جگہ پر ذمین بلکل پختہ ہے وہاں پر سڑک ہے وہاں کوئی چیز دفنائی نہیں جا سکتی۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا۔ دوسرا یہ کہ ایک لاش ایسی ملی ہے جس کا اوپر والا حصہ موجود نہیں تھا۔

چار گھنٹے تک زخمی پڑے رہے اور بار با ر ٹیلیفون کرنے باوجود کوئی ایمبولینس ہسپتال سے نہیں آئی اور نہ ہی حکومت نے ہمیں فراہم کی۔ ہم نے مقامی انتظامیہ سے بھی رابطہ کیا اور ان کو بھی بتایا کہ اتنے لوگ شدید زخمی ہیں اور آپ آئیں اور ان کو اٹھا کر لے جائیں لیکن انہوں نے بھی کچھ نہیں کیا۔

ایک پرائیویٹ گاڑی ہمیں مل گئی جس کی وجہ سے ہم نے اپنے زخمیوں کو چار گھنٹے کے بعد ہستال پہنچایا۔ ہنگو ایک حساس علاقہ ہے یہا ں مکمل انتظامات ہونے چاہیں تھے۔ پولیسں اور ایف سی کی محدود تعداد موجود تھی جو دھماکے کے بعد نظر نہیں آئی۔

جلوس ابھی رکا ہوا ہے وہ اپنے روٹ پرجائے گا۔‘


حسین علی شاہ:

’میں جلوس میں تھا یہ جلوس بازار سے گزر رہا تھا وہاں پر ایک تقریر بھی ہونی تھی۔ تقریر سے پہلے ابھی جلوس بازار سے باہر نہیں نکلا تھا کہ وہاں پر یہ دھماکہ ہوا۔ جلوس میں تقریباً آٹھ دس ہزار لوگ موجود تھے۔ اہل تشیع اور اہلِ سنت کے لوگ بھی تھے۔ میں دھماکے سے تیس گز کے فاصلے پر تھا۔ دھماکے سے گرد وغبار اٹھا اور آگ لگ گئی۔ آگ سے بھی کافی نقصان ہو گیا۔ پانچ چھے گھنٹے گزرگئے ہیں اور ہستپال سے ابھی تک کوئی نہیں پہنچا۔ ہسپتال میں ڈاکٹر نہیں ہیں کچھ بھی نہیں ہے ہم ان کو فون کر رہے ہیں۔

ہسپتال پانچ سوگز کے فاصلے پر ہے زخمی ابھی بھی پڑے ہیں۔ ہمارے اہل تشیح
اور اہل سنت کے آپس میں بہت اچھے تعلقات ہیں۔ یہ دہشتگردی ہی ہو سکتی ہے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ حالات خراب نہ ہوں۔ فرٹئیر کانسٹیبلری کی پہلے تو ڈیوٹی لگی تھی لیکن بعد میں ہٹا دیا گیا تھا۔‘



نوٹ: اگر آپ یا آپ کا کوئی دوست، عزیز دھماکوں کی جگہ پر موجود تھے یا اس سے متاثر ہوئے ہیں توہمیں اس کا آنکھوں دیکھا حال لکھ بھیجیے۔
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
زلزلے میں کئی دن بےہوش رہنے والے کی آپ بیتی’زمین پھٹنے لگی۔۔۔‘
’ آٹھ اکتوبر کا منظر میں کبھی نہیں بھولوں گا‘
دوہزار پانچ کے پانچ ہولناک واقعاتدکھ سے بھرا سال
دوہزار پانچ کے پانچ ہولناک واقعات
برف گرنے کے بعد زلزلہ زدگان پر کیا بیتی؟نئی قیامت کا انتظار
برف گرنےکےبعد زلزلہ زدگان پر کیا گزر رہی ہے؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد