ہنگومیں دھماکے: آنکھوں دیکھا حال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے شہر ہنگو میں جمعرات کی صبح محرم الحرام کے ایک ماتمی جلوس کے دوران دھماکے ہوئے جس میں درجنوں افراد ہلاک اور ایک بڑی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔
جلوس مختلف راستوں سے ہوتا ہوا اپنی منزل کی طرف جا رہا تھا۔ اسی دوران کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور سارا علاقہ دھوئیں اور گرد کی لپیٹ میں آ گیا۔ مجھے ہلاک ہونے والوں کی صحیح تعداد کا تو نہیں معلوم لیکن دھماکے کے بعد جلوس کے شرکاء نے دکانوں کو آگ لگانا شروع کر دی اور ہنگو کے اردگرد کے علاقوں سے فائرنگ کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔ دونوں کمیونٹی کے لیڈروں نے لاؤڈ سپیکرز پر امن کی اپیلیں کرنا شروع کر دیں۔ شام کی نماز کے بعد قدرِ امن تھا اور فوج اور دیگر اداروں کی بھاری نفری گشت کر رہی تھی۔ صبح دھماکوں کے بعد مقامی پولیس اور فرنٹئیر کور شہر کو اپنے حال پر چھوڑ کر چلے گئے۔ بہت دیر تک شہر جنگ کا میدان بنا رہا۔ اس کے بعد شہر کو فوج کے حوالے کر دیا گیا، جس پر شہریوں نے سکون کا سانس لیا۔ مقامی لوگوں کو اس بات کا ڈر ہے کہ اورکزئی قبیلے کے لوگ بھاری ہتھیاروں کے ساتھ لڑنے نا آجائیں جس طرح انہوں نے 1997 میں کیا تھا۔
’میرا تعلق امام بارگاہ سے ہے اور میں مدرسہ جامعہ عسکریہ کا پرنسپل بھی ہوں۔ میں دھماکہ کی جگہ سے پچیس تیس قدم کے فاصلے پر تھا، یہ دھماکہ مین بازار ہنگو میں ہوا ہے۔ ہمارا جلوس صبح ساڑھے سات بجے نکلا۔ مجھے بھی مین بازار چوک میں وتقریر کرنی تھی۔ وہاں پر دو ڈھائی ہزار آدمی موجود تھے اور برانچ بازار میں بھی لوگوں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی جو ابھی مین بازار نہیں پہنچی تھی۔۔۔ لوگ ابھی آ رہے تھے۔ جلوس چوک میں پہنچا ہی تھا کہ ایک بہت بڑا دھماکہ ہوا اور پھر ہم نے دیکھا چار گھنٹے تک زخمی پڑے رہے اور بار با ر ٹیلیفون کرنے باوجود کوئی ایمبولینس ہسپتال سے نہیں آئی اور نہ ہی حکومت نے ہمیں فراہم کی۔ ہم نے مقامی انتظامیہ سے بھی رابطہ کیا اور ان کو بھی بتایا کہ اتنے لوگ شدید زخمی ہیں اور آپ آئیں اور ان کو اٹھا کر لے جائیں لیکن انہوں نے بھی کچھ نہیں کیا۔ ایک پرائیویٹ گاڑی ہمیں مل گئی جس کی وجہ سے ہم نے اپنے زخمیوں کو چار گھنٹے کے بعد ہستال پہنچایا۔ ہنگو ایک حساس علاقہ ہے یہا ں مکمل انتظامات ہونے چاہیں تھے۔ پولیسں اور ایف سی کی محدود تعداد موجود تھی جو دھماکے کے بعد نظر نہیں آئی۔ جلوس ابھی رکا ہوا ہے وہ اپنے روٹ پرجائے گا۔‘
’میں جلوس میں تھا یہ جلوس بازار سے گزر رہا تھا وہاں پر ایک تقریر بھی ہونی تھی۔ تقریر سے پہلے ابھی جلوس بازار سے باہر نہیں نکلا تھا کہ وہاں پر یہ دھماکہ ہوا۔ جلوس میں تقریباً آٹھ دس ہزار لوگ موجود تھے۔ اہل تشیع اور اہلِ سنت کے لوگ بھی تھے۔ میں دھماکے سے تیس گز کے فاصلے پر تھا۔ دھماکے سے گرد وغبار اٹھا اور آگ لگ گئی۔ آگ سے بھی کافی نقصان ہو گیا۔ پانچ چھے گھنٹے گزرگئے ہیں اور ہستپال سے ابھی تک کوئی نہیں پہنچا۔ ہسپتال میں ڈاکٹر نہیں ہیں کچھ بھی نہیں ہے ہم ان کو فون کر رہے ہیں۔ ہسپتال پانچ سوگز کے فاصلے پر ہے زخمی ابھی بھی پڑے ہیں۔ ہمارے اہل تشیح نوٹ: اگر آپ یا آپ کا کوئی دوست، عزیز دھماکوں کی جگہ پر موجود تھے یا اس سے متاثر ہوئے ہیں توہمیں اس کا آنکھوں دیکھا حال لکھ بھیجیے۔ |
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||