عاشورہ کے جلوس میں دھماکہ، 8 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے قصبے ہنگو سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جمعرات کو دس محرم کے موقع پر نکالے جانے والے جلوس میں ایک دھماکہ ہوا ہے۔ دھماکے کے بعد فائرنگ اور تشدد کی بھی اطلاعات ہیں۔ اس تشدد کے نتیجے میں کم سے کم آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور درجنوں زخمی ہیں۔ پولیس کے ایک اہلکار نے اے پی کو بتایا ہے کہ دھماکے کے بعد لوگوں نے دکانوں اور گاڑیوں کو نذر آتش کرنا شروع کر دیا۔ صوبے کے پولیس سربراہ آئی جی پولیس رفعت پاشا نے اس دھماکے کی تصدیق کی ہے۔ علاقے میں کرفیو نافذ ہے اور فوج کوبھی بلا لیا گیا ہے۔ پولیس کے اہلکار ایوب خان نے خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک خود کش بم حملہ معلوم ہوتا ہے۔ ہنگو صوبہ سرحد کے شہر کوہاٹ کے قریب واقع ہے۔ پشاور سے ہارون رشید کی رپورٹ: صوبہ سرحد میں حکام کا اس واقعے کے بارے میں کہنا ہے کہ آج صبح ہنگو شہر میں محرم کے سلسلے میں ایک ماتمی جلوس کے دوران دھماکہ ہوا ہے۔ دھماکے کے بعد شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے اور مشتعل ہجوم نے نجی اور سرکاری املاک کو نذر آتش کر دیا۔ یہ دھماکہ صبح نو بج کر چالیس منٹ پر ایک سٹیج کے قریب ہوا جب ایک ماتمی جلوس وہاں سے گزر رہا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شہر کے دیگر مقامات پر بھی مظاہرین نے احتجاج کیا ہے اور ہنگو کوہاٹ سڑک بند کر دی ہے۔ قریب میں ایک ٹرک کو نذر آتش بھی کیا ہے۔ حکام صورتحال پر قابو پانے کی کوششیں کر رہے ہیں اور سپیکروں پر اعلانات کے ذریعے عوام کو پرامن رہنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔ مزید پولیس فورس بھی علاقے کو روانہ کر دی گئی ہے۔ اس واقعے کے بعد صوبے کے دیگر علاقوں میں بھی سیکورٹی فورسز کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ہنگو کو حکام پہلے ہی حساس علاقہ قرار دے چکے تھے۔ ماضی میں بھی اس علاقے میں اس قسم کے واقعات ہوچکے ہیں۔ | اسی بارے میں ’تشدد روکنے میں مدد لیں گے‘10 March, 2004 | پاکستان عاشورہ کے موقع پر گرفتاریاں18 February, 2005 | پاکستان لشکرِ جھنگوی کے آصف چھوٹوگرفتار28 September, 2005 | پاکستان کراچی میں دوسرے دن بھی ہنگامے01 June, 2004 | پاکستان کوئٹہ: فرقہ واریت میں ایک ہلاک09 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||