BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 February, 2006, 12:30 GMT 17:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہنگو:شیعہ سنی امن معاہدہ طے پا گیا

ہنگو
ہنگو میں دو روزہ تشدد میں چالیس افراد کی ہلاکت کے علاوہ نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
صوبہ سرحد کے شہر ہنگو میں حکام کے مطابق شیعہ اور سنی رہنما ایک امن معاہدے پر متفق ہوگئے ہیں۔ فریقین فائر بندی کے علاوہ پہاڑوں پر اپنے مورچے خالی کر کے فوج کے حوالے کرنے کے پابند ہوں گے۔

یہ مصالحت مقامی رہنماؤں اور متحدہ مجلس عمل کے پشاور سے آئے ہوئے ایک وفد کے درمیان ملاقات میں ہوا۔ جرگے کے فیصلے کے مطابق خلاف ورزی کرنے والے فریق پر دو کڑوڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ ان فیصلوں کی تصدیق ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس عبدالمجید نے کی۔

دو دن کے کشیدہ حالات کے بعد ہنگو سے موصول اطلاعات کے مطابق آج صبح آٹھ بجے کے بعد سے فائرنگ کا سلسلہ عمومی طور پر بند ہے۔

جرگے نے ہنگو میں امن و امان برقرار رکھنے اور گردو نواح کے پہاڑوں پر مورچے خالی کرانے کے لیئے دونوں فریقین کے بارہ بارہ افراد پر مشتمل ایک امن کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔

صوبہ سرحد کی حکومت نے ہفتے کے روز ایک اعلامیے کے ذریعے ہنگو میں ماتمی جلوس کے دوران خودکش حملے کے سلسلے میں پشاور ہائی کورٹ کے جج پر مشتمل ایک تحقیقاتی کمیشن قائم کر دیا ہے۔ کمیشن کو ایک ماہ کے اندر رپورٹ پیش کرنے کے لیئے کہا گیا ہے۔

سرحد حکومت نے پشاور ہائی کورٹ کے جج جسٹس فضل الرحمان خان پر مشتمل تحقیقاتی کمیشن کو ہنگو واقعات کی وجوہات و پس منظر جاننے، واقعہ کی ذمہ داری کا تعین کرنے اور تجاویز دینے کا کام سونپا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق علاقے میں مزید فوج بھی پہنچ رہی ہے۔

ہنگو میں ہلاکتوں اور توہین رسالت کے سلسلے میں کرم ایجنسی کے صدر مقام پاڑا چنار میں آج احتجاج اور ہڑتال ہوئی ہے۔

پشاور میں ایک نجی ٹی وی چینل کو کسی شخص نے اپنا نام حسین بسرا بتاتے ہوئے دعوی کیا کہ یہ خودکش حملہ ان کی کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی نے کیا ہے۔ اس دعوی کی آزاد یا سرکاری ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

ہنگو شہر میں عام لوگوں میں تاہم ابھی بھی خوف پایا جاتا ہے اور وہ حکومت سے ان کے محلوں میں فوج تعینات کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

پشاور میں ہی شعیہ الائنس جس میں اہل تشیح کی مختلف تظیمیں شامل ہیں ایک اخباری کانفرنس میں ہنگو میں فوج کے کردار پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

سابق سینٹر سید جواد ہادی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فوج کی موجودگی کے باوجود علاقے میں حملے جاری رہے۔

ہنگو شہر میں یوم عاشور کے موقعہ پر خودکش بم حملے اور بعد میں ہنگاموں میں چالیس افراد ہلاک جبکہ ساٹھ زخمی ہوئے تھے۔

اسی بارے میں
ہنگو شہرمیں کشیدگی، فائرنگ
10 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد