BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 29 January, 2007, 15:22 GMT 20:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عاشورہ: فوج اور فرنٹیئر کور تعینات
ماتمی جلوس
سکیورٹی دستےماتمی جلوسوں کے ساتھ ساتھ چلتے رہے
جمعہ کو اسلام آباد کے ایک ہوٹل کے باہر اور سنیچر کو پشاور کے قصہ خوانی بازار میں ہونے والے خود کش حملوں کے بعد ملک بھر میں محرم الحرام کے موقع پر انتہائی سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے۔

اس کے باوجود ڈیرہ اسماعیل خان میں آج ایک اور خود کش حملہ ہوا، تاہم حملہ آور سکیورٹی اہلکاروں کے گھیرے سے آگے نہیں جا سکا۔

وزیر مملکت برائے امور داخلہ ظفر اقبال وڑائچ کے مطابق پولیس، ملیشیا اور فوج کی موجودگی کے باوجود ملک کے عام شہریوں کو بھی اجتماعی سکیورٹی کی ذمہ داری بانٹنی ہو گی اور اپنے درمیان موجود دہشتگردوں سے چوکنا رہنا ہو گا۔

وفاقی دارالحکومت میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نمائندے اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں نو محرم کے ماتمی جلوس کے دوران انتہائی سخت حفاظتی اقدامات دیکھنے میں آئے۔ جامعہ اسدیہ کے اردگرد خار دار تاریں لگائی گئیں اور سینئر پولس افسران جلوس کے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔

شہر میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی تلاشی بھی لی جاتی رہی

جلوس میں شامل ہونے والوں کو پہلے پولیس اہلکاروں اور پھر جلوس کے منتظمین کے ہاتھوں علیحدہ علیحدہ تلاشی کے عمل سے گزرنا پڑا جبکہ کئی مقامات پر رینجرز کے دستے بھی تعینات کیےگئے۔ اسلام آباد میں سیکورٹی فورسز کے دستے گشت کر رہے ہیں اور اہم جگہوں پر پولیس نے ناکے لگا رکھے ہیں۔ شہر میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی تلاشی بھی لی جاتی رہی۔ کل دس محرم الحرام کا مرکزی جلوس راولپنڈی سے نکالا جائے گا جبکہ اسلام آباد میں علیحدہ سے کوئی اجتماع نہیں ہوگا۔

پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار ہارون رشید کے مطابق صوبہ سرحد میں ماسوائے ڈیرہ اسماعیل خان کے دیگر علاقوں میں نو محرم پرامن طریقے سے گزرا۔ پشاور میں صدر کے علاقے میں آج تعزیے کا جلوس نکلا جو اپنے روایتی راستوں سے ہوتا ہوا واپس امام بارگاہ حیدریہ پر اختتام پذیر ہوا۔ ہفتے کی رات خودکش حملے کے بعد حکام نے سکیورٹی انتظامات پر نظر ثانی کی تھی۔

پنجاب میں فوج
 پنجاب میں بھی چوبیس اضلاع میں فوج تعینات کی گئی ہے جو پولیس کے ہمراہ شہروں میں گشت کر رہی ہے۔ لاہور اور گوجرانوالہ میں دو روز کے لیے موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

شہر کے شیعہ اکثریتی علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی تھی اور پولیس کی بھاری نفری اہم مقامات پر تعینات رہی جبکہ کئی جگہوں پر چھتوں پر بھی پولیس تعینات رہی۔ پولیس کے علاوہ اہل تشیع نے خود بھی سکیورٹی انتظامات کر رکھے تھے، اور غیر متعلقہ لوگوں کو جلوس کے قریب نہیں آنے دیا گیا۔

پنجاب میں بھی چوبیس اضلاع میں فوج تعینات کر دی گئی ہے جو پولیس کے ہمراہ شہروں میں گشت کر رہی ہے۔ لاہور اور گوجرانوالہ میں دو روز کے لیے موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ امام بارگاہوں اور ماتمی جلوسوں میں شرکت کرنے والوں کو تلاشی کے بعد ہی شرکت کی اجازت دی جا رہی ہے، اور منتظمین کی شناخت کے لیے انہیں خصوصی بیج لگائے گئے ہیں۔

غیر متعلقہ لوگوں کو جلوس کے قریب نہیں آنے دیا گیا۔

ڈی آئی جی آپریشنز آفتاب چیمہ نے ہمارے نامہ نگار علی سلمان کو بتایا کہ اس بار پارکنگ سٹینڈ مذہبی تقریب کی جگہ سے خاصے دور بنائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس برس پولیس کو خاص طور پر چوکنا رہنے کی ہدایت کی گئی ہے کیونکہ ان کے بقول دہشتگرد پولیس کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

محرم کے حوالے سے بلوچستان میں کوئٹہ سمیت چھ اضلاع کو حساس قرار دیا گیا ہے جبکہ صرف کوئٹہ میں پچیس ایسے مقامات ہیں جہاں پولیس حکام کے مطابق کڑی نگرانی کی جاری ہے۔

کوئٹہ کے سٹی پولیس افسر راہو خان بروہی نے بی بی سی اردو کے عزیز اللہ خان کو بتایا ہے کہ فرنٹیئر کور، پولیس اور بلوچستان ریزرو پولیس کے قریباً چھ ہزار اہلکار مختلف مقامات پر تعینات کیے گئے ہیں اور شہر کے حساس علاقوں میں بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ گشت کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ کوئٹہ میں تین سال پہلے عاشورہ کے جلوس پر خود کش حملہ کیا گیا تھا جس میں لگ بھگ پچاس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

کوئٹہ میں فرنٹیر کانسٹیبلری کے جوانوں نے حفاظتی انتظامات سنبھالے ہیں

کراچی میں بھی نو محرم کے جلوس کے لیے پولیس اور رینجرز کا گشت ہوتا رہا جبکہ جلوس کے راستے یعنی محمد علی جناح روڈ کی طرف نکلنے والی تمام سڑکوں اور گلیوں کی مکمل ناکہ بندی کی گئی تھی، اور ایک ہیلی کاپٹر میں فضا میں گھومتا رہا۔ شہر میں حفاظتی انتظامات کئی دن پہلے سے شروع کر دیے گئے تھے اور کراچی آنے والی گاڑیوں اور بسوں کی تلاشی لی جاتی رہی۔

کراچی میں ہمارے نامہ نگار ادریس بختیار نے بتایا کہ آج کے جلوس کے دوران عزاداران نے ظہرین کی نماز کے بعد بارگاہ امام علی رضا کے قریب دھرنا دیا اور تین لاپتہ افراد کی تلاش یا رہائی کا مطالبہ کیا۔ حکام کی اس یقین دہانی کے بعد کہ ان میں سے ایک ڈاکٹر علی رضا کے بارے میں ان کے لواحقین کو آج رات تک آگاہ کر دیا جائے گا، جلوس پرامن طور پر روانہ ہو گیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد