پاکستان: سکیورٹی انتظامات سخت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور اور اسلام آباد بم دھماکوں کے بعد پاکستان میں یوم عاشور پر غیر معمولی سیکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ فوج، رینجرز اور قانون نافذ کرنےوالے دیگر اداروں نے پولیس کے ہمراہ ملک کے حساس قرار دیئے جانے والے شہروں میں گشت شروع کر دیا ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں دفعہ ایک سو چوالیس کے تحت موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ضلعی ناظم لاہور کے ترجمان کے مطابق یہ پابندی مفاد عامہ میں دو روز، نویں اور دسویں محرم، کے لیے لگائی گئی ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز لاہور آفتاب چیمہ نے کہا کہ اس سلسلے میں پولیس کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اور اگلے دو روز تک اس پابندی پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائےگا۔ گوجرانوالہ سمیت بعض دیگر شہروں میں بھی ڈبل سواری پر پابندی ہے۔ فوج نے گوجرانوالہ کے جناح سٹڈیم میں اپنا بیس کیمپ بنایا ہے اور شہر میں فلیگ مارچ شروع کر دی ہے۔ حکام کے مطابق ملک بھر میں فوج کی مزید نفری کو سٹینڈ بائی رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ادھر وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنی رہائش گاہ پر ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا جس میں دیگر حکام کے علاوہ پولیس اور انٹیلجنس ونگ کے اعلیٰ افسروں نے بھی شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ نے مساجد، امام بارگاہوں اور دیگر حساس مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ صوبائی حکومت نے اشتعال انگیز لٹریچر کے خلاف بھی ایک مہم فوری طور پر شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پولیس کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اشتعال انگیز قرار دیئے جانے والے لٹریچر کو فوری طور پر ضبط کیا جائے اور ایسے لٹریچر کے مصنف پرنٹر پبلشر کو بھی گرفتار کرلیا جائے۔ کئی علماء کی اضلاع میں نقل و حرکت پر پابندی لگائی جاچکی ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب بھر میں ماتمی جلوسوں پر خصوصی پولیس فورس لگائی جارہی ہے کئی جلوسوں میں سادہ لباس میں اہلکاروں کی تعداد دوگنی کردی گئی ہے۔ پولیس اور انٹیلجنس کے اہلکاروں نے شیعہ مسلک کے مذہبی رہنماؤں اور ماتمی جلوسوں کے منتظیمن سے خصوصی ملاقاتیں شروع کر دی ہیں۔ سبیلوں پر خصوصی نگرانی کا کہا جارہا ہے تاکہ اس میں زہر ملانے کی سازش نہ ہوسکے۔ اس کے علاوہ مختلف شیعہ جلوسوں کو محدود کرنے کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔ امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی سیکرٹری جنرل سید منتظر مہدی نے کہا ہے کہ انتظامیہ چونگی امرسدھو کے نزدیک سالانہ عاشورہ کے جلوس عزاداری کو روکنے کی کوشش کررہی ہے لیکن وہ جلوس نکالیں گے۔ حالیہ دھماکوں میں پولیس کے نشانہ بنائے جانے کے بعد پولیس فورس میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ لاہور پولیس کے سی سی پی او نے کہا ہے کہ انہوں نے پولیس افسران کو خصوصی طور پر چوکنہ رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ شہروں میں آنے جانے والی راستوں پر بھی خصوصی ناکے لگائے گئے ہیں۔ سندھ میں حکام نے بتایا کہ شہر میں داخل ہونے والی تمام گاڑیوں اور ریل گاڑیوں کو چیک کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں کشیدگی موجود ہے خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹیں بھی ہیں کہ کچھ گروہ امن امان کی صورتحال بگاڑنا چاہتے ہیں۔ پشاور میں نئے پولیس سربراہ کے تعیناتی کی گئی ہے اور اس واقعے کے بعد شہر میں فرنٹئیر کور اور کانسٹیبلری کی مزید نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق صوبے کے دیگر علاقوں میں بھی سکیورٹی فورسز کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ وزیراعلٰی کی سربراہی میں اعلی سطح کا ایک اجلاس صورتحال پر غور کے لیے رات گئے تک جاری رہا جس میں ہنگامی پلان تشکیل دیا گیا۔ | اسی بارے میں ہنگو: دھماکے اور فائرنگ، 31 ہلاک09 February, 2006 | پاکستان عاشورہ: پاکستان میں ہائی الرٹ 19 February, 2005 | پاکستان پاکستان میں خود کش حملوں کا بڑھتا رجحان18 July, 2006 | پاکستان بلوچستان: پانچ راکٹ داغے گئے26 January, 2007 | پاکستان ’بیرونی ہاتھ یقینی طور پر ملوث ہے‘27 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||