عاشورہ: پاکستان میں ہائی الرٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
محرم الحرام کے موقع پر پاکستان بھر میں ’ہائی الرٹ سیکیورٹی‘ کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ پولیس اور دیگر فورسز کی اضافی نفری بھی تعینات کی گئی ہے جبکہ فوج کو ’سٹینڈ بائی‘ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ بات وزارت داخلہ میں قائم ’ کرائسس مینجمنٹ سیل‘ کے سربراہ بریگیڈئیر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ نے ہفتے کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومتوں کو جامع ہدایات جاری کی گئی ہیں اور حساس علاقوں میں پولیس کے علاوہ رینجرز اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے دستے تعینات کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ انہوں نے صوبوں کو جاری کردہ جامع ہدایات، اور حساس علاقوں کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور کہا کہ وزارتِ داخلہ میں ایک ’ کنٹرول روم‘ قائم کیا گیا ہے جو چوبیس گھنٹے کام کر رہا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ صوبہ پنجاب کی حکومت نے صوبے بھر میں نو اور دس محرم الحرام کو موٹرسائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی عائد کی ہے۔ بریگیڈئیر چیمہ نے کہا کہ شمالی علاقہ جات میں پاک فوج کے دستے گشت کر رہے ہیں لیکن دیگر شہروں میں تاحال باضابطہ طور پر فوج تعینات نہیں کی گئی۔ البتہ انہوں نے بتایا کہ فوج کے دستوں نے کچھ شہروں میں’فلیگ مارچ‘ کیے ہیں اور اکا دکا علاقوں میں معمول کا گشت بھی جاری ہے۔ حکام کے مطابق ملک بھر کی امام بارگاہوں کے باہر پولیس کے دستے مقرر کیے گئے ہیں جبکہ مذہبی جلوسوں کے لیے روٹس مخصوص کیے گئے ہیں اور پولیس امن و امان برقرار رکھنے کے لیے جلوسوں کےساتھ رہےگی۔ اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس ٹو میں واقع جامعہ اسدیہ سمیت مختلف امام بارگاہوں کے منتظمین نے مجلس اور نماز کے لیے آنے والوں کی تلاشی لینے کے اپنے انتظام بھی کر رکھے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||