لاہور میں فوج کا گشت شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں مسلمانوں کے مقدس مہینے محرم الحرام کے موقع پر فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لیے غیر معمولی سکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں اور لاہور میں فوج نے گشت شروع کر دیا ہے۔ عینی شاہدوں کے مطابق لاہور میں فوج کے دستے گشت کرتے دیکھے گئے ہیں جبکہ شہر میں جگہ جگہ رائفلیں سیدھی تانے کھڑے پولیس کے مستعد اہلکار بھی دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب بھر میں پولیس کے گشت میں اضافہ کر دیاگیا ہے۔ پاکستان کےصوبے پنجاب کے چونتیس اضلاع میں خصوصی کنٹرول روم قائم کر دیے گئےہیں جہاں پولیس اہلکار چوبیس گھنٹے ڈیوٹی دے رہے ہیں۔ اس مہینے کےخاص طور پر پہلے دس روز کے دوران شیعہ مسلمان ماتمی جلوس نکالتے ہیں اور خصوصی مجالس برپا کی جاتی ہیں۔ سنی مسلمانوں کے بعض حلقے ان کی مخالفت کرتے ہیں اور ماضی میں محرم کے مہینے میں تشدد آمیز واقعات بھی پیش آچکے ہیں۔ لاہور پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق لاہور میں امام بارگاہوں میں باوردی اور سادہ پوش اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ صوبائی وزیر معدنیات نے ایک بیان میں کہا ہے صوبے بھر میں عزاداری کے جلوسوں کے راستوں کی خصوصی نگرانی کی جائے گی اور ان کے ساتھ کمانڈوز تعینات کیے گئےہیں۔ تمام اضلاع میں پولیس کی موجودگی میں روزانہ مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنماؤں کے اجلاس ہو رہے ہیں اور امن وامان کے قیام کے لیے ان کی آپس میں مذاکرات کے علاوہ ان سے سکیورٹی کی ضروریات کا بھی پوچھا جا رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||