’بیرونی ہاتھ یقینی طور پر ملوث ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سنیچر کی رات پشاور میں ہونے والے بم دھماکے میں ہلاک ہونے چیف کیپٹل سٹی پولیس ملک سعد، ڈی ایس پی سٹی خان رازق اور دیگر پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ اتوار کے روز پولیس لائن گراؤنڈ پشاور میں ادا کی گئی۔ نماز جنازہ میں وزیراعلیٰ سرحد اکرم خان درانی ، گورنر علی محمد جـان اورکزئی ، کورکمانڈر پشاور، اعلی پولیس و سول حکام ، صوبائی وزراء ، اراکین قومی اسمبلی و سینٹ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ادھر گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی نے کہا ہے کہ دھماکے میں بیرونی ہاتھ ملوث ہونے کو رد نہیں کیا جاسکتا تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ واقعے میں کون لوگ ملوث ہوسکتے ہیں۔ اتوار کی صبح لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی عیادت کے بعد صحافیوں سے مختصر بات چیت میں گورنر نے بتایا کہ’میرے خیال میں واقعہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہوا ہے اور یہ بہت بڑی منصوبہ بندی تھی جو ایک تنظیم کا کام نہیں ہو سکتا‘۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ’اس واقعے کے پیچھے بیرونی ہاتھ یقینی طورپر ہے اس وقت میں یہ نہیں بتاسکتا کہ وہ غیر ملکی ہاتھ کس کی ہے کیونکہ یہ بات قبل از وقت ہوگی لیکن اس میں بیرونی ہاتھ ملوث ضرور ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی اعلی سطح پر تحقیقات ہورہی ہے اور حقائق بہت جلد سامنے آجائیں گے۔ گورنر نے کہا کہ اس دھماکے کا عاشورہ سے کوئی تعلق نہیں تھا کیونکہ اگر یہ فرقہ وارایت کا معاملہ ہوتا تو حملہ امام بارگاہ سے برامد ہونے والے جلوس پر ہوتا لیکن حملے کا بظاہر نشانہ پولیس تھی۔ علی محمد جان اورکزئی کا کہنا تھا کہ وزیراعلی اکرم خان درانی نے بھی اپیل کی ہے اوروہ بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ اگر موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ماتمی اور دیگر جلسے جلوسوں کو امام بارگاہوں تک محدود کیا جائے تو بہتر ہوگا ورنہ کافی نقصان ہوسکتا ہے۔ صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کے تاریخی قصہ خوانی بازار میں کل رات بظاہر خودکش حملے میں دو اعلٰی پولیس اہلکاروں سمیت تیرہ افراد ہلاک اور تیس سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
صوبہ سرحد کے وزیر اعلی اکرم خان درانی نے پشاور میں سنیچر کی رات ہونے والے بم دھماکے کو ابتدائی اطلاعات کے مطابق خودکش حملہ قرار دیا ۔ انہوں نے کہا تھا کہ حملے میں تیرہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں پشاور شہر پولیس کے سربراہ ملک سعد اور ڈی ایس پی خان رازق اور مقامی یونین کونسل کے ناظم محمد علی صافی بھی شامل ہیں۔ پشاور میں محکمۂ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک سرکاری پریس نوٹ کے مطابق دھماکہ رات آٹھ بج کر چالیس منٹ پر تاریخی قصہ خوانی بازار کے علاقے ڈھکی دال گراں میں ہوا۔ دھماکے کی جگہ امام بارگاہ عزا خانہ کراروی کے قریب ہی ہے اور وہاں سے تقریبا ایک گھنٹے بعد عزاداروں کا ایک جلوس برآمد ہونا تھا۔ ڈی آئی جی سپیشل برانچ عبدالمجید مروت نے بتایا کہ موقع سے خودکش حملہ آور کی جیکٹ اور دستی بم کے ٹکڑے ملے ہیں جن کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ خودکش حملہ ہی تھا۔ قریبی دو کانوں کے شٹر بھی دھماکے سے تباہ ہوئے۔ انسپکٹر جنرل پولیس شریف ورک نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ پشاور سٹی پولیس چیف ملک محمد سعد اور ڈی ایس پی خان رزاق اس دھماکے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں تین سپاہی بھی شامل ہیں۔ تیس زخمیوں میں بھی تیرہ پولیس اہلکار بتائے جاتے ہیں۔
زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال لے جایا گیا ہے جہاں افراتفری کا سماں تھا۔ پولیس نے شعبہ حادثات کو گھیرے میں لے کر صحافیوں کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں دی۔ تا حال کسی نے ابھی اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ وزیر اعلی اکرم خان درانی کا کہنا تھا کہ اس حملے کا بظاہر ہدف پولیس تھی۔ ملک سعد تقریبا دو ماہ قبل ہی ڈی آئی جی بنوں عابد علی کی ہلاکت کے واقعہ کے بعد پشاور سٹی پولیس چیف تعینات ہوئے تھے۔ ماضی کے برخلاف پشاور میں محرم کے آغاز ہی کڑے سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد شہر میں فرنٹئیر کور اور کانسٹیبلری کی مزید نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ قدرے تاخیر سے لیکن سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری کی موجودگی میں امام بارگاہ سے وہ ماتمی جلوس نکلا اور مقررہ روٹ سے ہوتا ہوا واپس اسی امام بارگاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔ سرکاری بیان کے مطابق تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جبکہ صوبے کے دیگر علاقوں میں بھی سکیورٹی فورسز کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔وزیراعلٰی کی سربراہی میں اعلی سطح کا ایک اجلاس صورتحال پر غور کے لیے رات گئے تک جاری تھا۔ | اسی بارے میں پشاور ’خودکش‘ حملہ، ایک ہلاک17 November, 2006 | پاکستان پشاور میں دھماکہ ،ایک ہلاک01 December, 2006 | پاکستان پشاورایئرپورٹ: بم دھماکہ،ایک ہلاک26 December, 2006 | پاکستان پشاور میں درجنوں دکانیں جل گئیں19 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||