BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 December, 2006, 03:32 GMT 08:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاورایئرپورٹ: بم دھماکہ،ایک ہلاک

پشاور ایئرپورٹ کار بم دھماکہ
جس کار میں بم نصب تھا اس کے پرخچے اڑ گئے
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں پولیس کا کہنا ہے کہ منگل کی صبح شہر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے باہر کار بم دھماکے میں ایک شخص ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ پشاور ایئرپورٹ کے داخلی گیٹ کے باہر سڑک پار کھڑی گاڑیوں میں صبح سات بج کر دس منٹ پر ہوا۔

ابتدائی تفتیش کے مطابق دھماکےمیں سفید رنگ کی آلٹو گاڑی استعمال کی گئی تھی جو مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

دھماکہ خیز مواد والی گاڑی ایک فوجی گراؤنڈ کی دیوار کے قریب کھڑی کی گئی تھی اور دھماکے سے دیوار کا ایک حصہ بھی گر گیا۔ دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ گاڑی کا سی این جی ٹینک فوجی گراؤنڈ میں سینکڑوں گز دور جا گرا۔

دھماکے سے متعددگاڑیوں کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچا جبکہ تین افراد کو شدید زخمی حالت میں حیات ٹیچنگ ہسپتال پہنچایا گیا۔ایک ڈاکٹر کے مطابق لائے جانے والے زخمیوں میں سے ایک راستے میں ہی دم توڑ چکا تھا۔

ہسپتال کے عملے کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص کا تعلق بونیر کے علاقے سے تھا۔ ہسپتال کے ڈاکٹر ظاہر شاہ کے مطابق پولیس ہلاک شدہ شخص کا شناختی کارڈ لے گئی ہے۔

تاحال ان دھماکوں کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے۔ماضی میں صوبہ سرحد میں ہونے والے دھماکوں کے بارے میں حکام نے’بیرونی ہاتھ‘ کے ملوث ہونے کے اشارے دیئے تھے تاہم اس مرتبہ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور تاحال کوئی گرفتاری عمل نہیں آئی ہے۔

دھماکے سے متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا

پشاور پولیس کے سربراہ ملک سعد کا کہنا ہے کہ بظاہر دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی کے نمبر سمیت چند شواہد ملے ہیں جن سے تحقیقات آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پشاور میں گزشتہ تین ماہ میں آٹھ دھماکوں میں جو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا اس مرتبہ بھی وہی ملا ہے۔ واقعے کے بعد شہر میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی اور جگہ جگہ گاڑیوں کی تلاشی شروع کر دی گئی۔

ایس ایس پی (تحقیقات) قاضی جمیل نے بی بی سی کو بتایا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاہم ابھی بم کی ساخت یا حملہ آور کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

پشاور کا ہوائی اڈہ چھاونی کے علاقے میں واقع ہے اور دھماکے کے وقت ائرپورٹ پر زبردست بھیڑ تھی کیونکہ دبئی سے ایک پرواز پشاور پہنچنے والی تھی۔ اس پرواز کے مسافروں کو بعد میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ انہیں بھاری سامان کے ساتھ ٹیکسیوں کے لیئے کافی دور تک پیدل جانا پڑا۔

پشاور میں گزشتہ اکتوبر کے جناح پارک کے قریب ایک دھماکے سے سات افراد ہلاک اور چالیس کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔

ادھر قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں سوموار کی رات گئے لڑکیوں کے ایک سکول میں بم دھماکے سے تین کمروں کو نقصان پہنچا ہے۔ ذرائع کے مطابق سکول چوکیدار اس روز چھٹی پر تھا کہ نامعلوم افراد نے عمارت میں گھس کر دھماکہ خیز مواد نصب کیا۔

قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں کچھ عرصے سے مقامی طالبان کا ایک گروہ لوگوں کو لڑکیوں کی تعلیم سے منع کرنے کے علاوہ موسیقی کی دوکانوں کو نشانہ بنا چکا ہے۔

اسی بارے میں
پشاور میں دھماکہ ،ایک ہلاک
01 December, 2006 | پاکستان
پشاور میں بم دھماکہ
13 October, 2006 | پاکستان
پشاور کے ہسپتال میں دھماکہ
06 October, 2006 | پاکستان
زرعی یونیورسٹی میں دھماکہ
05 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد