BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 21 October, 2006, 14:50 GMT 19:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دھماکے میں غیر ملکی ہاتھ: حکام

پشاور میں بم دھماکہ
پاکستان کے صوبہ سرحد میں حکام کا کہنا ہے کہ پشاور میں جمعے کے دھماکے میں غیرملکی ہاتھ ملوث تھا تاہم انہوں نے اس بابت کسی ملک کا نام لینے سے انکار کیا ہے۔ دھماکے کی تحقیقات جاری ہیں اور ابھی تک کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی۔

گورنر سرحد لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ علی محمد جان اورکزئی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ اب تک کی تفتیش سے ظاہر ہوتا ہے کہ پشاور میں گزشتہ ایک ماہ میں ہونے والے چار دھماکے ایک ہی گروپ کی کارروائی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دھماکوں کا مقصد صرف خوف اور دہشت پھیلانا تھا ناکہ نقصان پہنچانا۔ ’یہ انہوں نے قصداً ایسا کیا تھا وراننگ شاٹس کے طور پر۔ یہ جان بوجھ کر ایک منصوبہ بندی کے تحت تھا تاکہ بڑا جانی نقصان ہو، لوگوں میں خوف پھیلے اور دہشت طاری ہو جائے‘

گورنر نے بتایا کہ خفیہ اداروں کو مزید متحرک کر دیا گیا ہے اور وہ پرامید ہیں کہ جلد کسی نتیجے پر پہنچ سکیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں کہ آیا یہ لوگ پاکستان کے اندر کے ہیں یا باہر کے تو ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ان واقعات کا تجزیہ کیا ہے اور ان کا خیال ہے کہ یہ اندرونی گروپ نہیں بلکہ اس کے پیچھے باہر کا ہاتھ ہے۔

’لیکن چونکہ ہم دستیاب خفیہ معلومات کی بنیاد پر حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ پائے ہیں لہذا وہ کسی ملک کا نام لینا پسند نہیں کریں گے۔ البتہ میں اس پر متفق ہوں کہ یہ بیرونی سازش تھی۔’

ادھر وزیر اعلیٰ سرحد اکرم خان نے بھی پشاور میں صحافیوں سے بات چیت میں انہیں خدشات کا اظہار کیا۔ تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ ایک ہفتے کہ اندر حقائق سامنے لائے جائیں گے۔

صوبائی وزیر اطلاعات آصف اقبال نے دھماکے میں چند اہم شواہد ملنے کی بات کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی بنیاد پر وہ جلد مجرموں تک پہنچ جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے کے بعد شہر میں سادہ لباس اور وردی میں مزید سکیورٹی اہلکار بازاروں اور دیگر اہم مقامات پر تعینات کر دیئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر کے علاقے میں تو سکیورٹی کیمرے بھی نصب کیئے گئے ہیں۔

صوبائی وزیر نے تاجروں اور عام لوگوں سے بھی ہوشیار رہنے کی اپیل کی ہے۔

اسی بارے میں
پشاور میں بم دھماکہ
13 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد