پشاور میں بم دھماکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبائی دارالحکومت پشاور میں ایک بم دھماکہ کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہوگیا ہے۔ پولیس کے مطابق دھماکہ جمعرات کی شام پانچ بج کر بیس منٹ پر افطاری کے وقت جی ٹی روڈ پشاور میں ڈائیوو بس سٹینڈ کے سامنے فٹ پاتھ پر رکھے ہوئے بم پھٹنے سے ہوا جس سے وہاں پر موجود ایک راہگیر روح اللہ زخمی ہوا۔ پولیس کا کہنا ہے یہ ایک گھریلو ساخت کا بم تھا جو فروٹ کے کریٹ میں نصب کیا گیا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ دھماکے کے اطلاع ملتے ہی بم ڈسپوزل سکواڈ اور اعلیٰ پولیس حکام بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے۔ پشاور میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران یہ چوتھا بم دھماکہ تھا۔ اس سے پہلے ایک بم غربی پولیس تھانے کے حدود میں پھٹا تھا جس میں درجنوں گاڑیوں کو نقصان پہنچا تھا۔ علاوازیں لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور کوہاٹ روڈ پر گیس پائپ لائن کو بھی دو الگ لگ دھماکوں میں نشانہ بنایا گیا تھا لیکن پولیس تاحال ان کارروائیوں میں ملوث ملزمان کا کھوج لگانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ ایس ایس پی پشاور افتخار خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان دھماکوں کا بظاہر مقصد شہر میں خوف و ہراس پھیلانا ہے تاہم ان کےمطابق پولیس کو آج کے دھماکے کے بعد کچھ ایسے شواہد ملے ہیں جس سے توقع کی جارہی ہے کہ شہر میں ہونے والے ان مرحلہ وار بم دھماکوں میں ملوث اصل ملزمان تک پہنچنے میں وہ بہت جلد کامیاب ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد شہر میں سکیورٹی کا انتظام سخت کردیاگیا ہے اور شہر کو دوسرے علاقوں سے ملانے والے تمام اہم شہروں پر پولیس کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔ واضع رہے کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران پشاور شہر میں امن وامان کی صورتحال انتہائی خراب رہی ہے جبکہ اغواء برائے تاوان ، قتل اور ڈکیتی کی وارداتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے اور صوبائی حکومت ان جرائم کو روکنے میں اب تک ناکام رہی ہے۔ | اسی بارے میں زرعی یونیورسٹی میں دھماکہ05 October, 2006 | پاکستان پشاور کے ہسپتال میں دھماکہ 06 October, 2006 | پاکستان ISI دفتر کے سامنے سے راکٹ برآمد07 October, 2006 | پاکستان صدر ہاؤس کے قریب دھماکہ04 October, 2006 | پاکستان ڈی جی خان بم دھماکہ: دو ہلاک23 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||