پشاور: انسانی جان اتنی ہی ارزاں کیوں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور میں جمعے کی صبح پولیس پر مبینہ خودکش حملے میں ایک شخص کی ہلاکت نے عوامی حلقوں میں سکیورٹی کی بگڑتی صورتحال پر تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ پشاور کے رہائشی ابھی رمضان میں بم دھماکوں کو بھُلا نہیں پائے تھے کہ تازہ حملے نے انہیں مزید فکر لاحق کر دی ہے۔ ’دہشت گردی کے خلاف جاری عالمی جنگ’ کے دوران گزشتہ کئی برسوں میں اس قسم کے واقعات رفتہ رفتہ پشاور کے قریب آتے رہے۔ پہلے مشرق وسطی، پھر افغانستان، وزیرستان اور بعد میں درگئی، اب خود پشاور۔ مذہبی سوچ کے لوگوں کے لیے قبائلی علاقے باجوڑ میں ان کے لیے انتہائی مقدس مقام ان کے ایک مدرسے پر حملہ یقیناً غم وغصے کا موجب تھا۔ ہر شخص برہم تھا۔ جواب میں حکومت خصوصًا فوج نے سکیورٹی انتظامات میں غیرمعمولی اضافہ کیا۔ پولیس تو اسے ’یقینی طور پر خودکش حملہ‘ قرار دے رہی ہے لیکن بعض شواہد ایسے ہیں کہ ان سے کئی سوال بھی پیدا ہوتے ہیں۔ پہلے تو یہ ہی کہ خودکش حملہ آوروں کی پہلی کوشش اپنے دشمن کے بڑے اہداف کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔ یہاں صرف دو پولیس سپاہیوں کو کیوں نشانہ بنایا گیا؟ دوسرا سوال یہ ابھرتا ہے کہ پولیس کو ہی اس حملے کے ہدف کے طور پر کیوں چنا گیا؟ اس کا مدرسے پر بمباری کے واقعے سے براہ راست کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ باجوڑ کے بعد زیادہ غصے کا رخ فوج کی طرف تھا جس کا ایک اظہار درگئی میں پنجاب رجمنٹ کے زیرتربیت فوجیوں پر خودکش حملے کی صورت میں کیا گیا۔ پشاور کے جس علاقے یعنی پشتخرہ میں یہ حادثہ پیش آیا وہ ویسی بھی جرائم کی وجہ سے کافی بدنام علاقہ ہے۔ روزانہ چوری، ڈکیتی اور اغوا کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ ایسا علاقے میں لوگ اپنی حفاظت کے لیے بھی اسلحہ بارود رکھتے ہیں۔ تازہ واقعہ اگر واقعی خودکش حملہ تھا تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسانی جان اتنی ارزاں ہوئی ہے کہ صرف دو پولیس سپاہیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش میں بیس سالہ حملہ آور ندیم خان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ لیکن اگر واقعی ایسا ہے تو اس سے ایک بڑے تشویشناک رجحان کا بھی پتہ ملتا ہے۔ مبینہ خودکش حملہ آور کے بھائی سید ولی شاہ کی بات اگر تسلیم کر لی جائے کہ ان کے بھائی کے ’جہادی‘ تنظیموں کے کارکنوں سے تعلقات تھے تو پھر بات قدرے واضع ہوتی ہے۔ اس کا مساجد میں اکثر رہنا اور مذہبی کیسٹیں سننا بھی اس کی سوچ کو واضع کرتے ہیں۔ لیکن اس واقعے سے دو تشویشناک باتوں کے اشارے ملتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ خودکش حملوں کو فروغ دینے والے کس طرح ایک ان پڑھ سیدھے سادھے نوجوان کو اس حملے کے لیئے کتنی آسانی سے تیار کرلیتے ہیں اور دوسرا یہ کہ اس قسم کا یہ آخری حملہ نہیں تھا۔ اس قسم کے مزید واقعات خارج از امکان نہیں۔ چند روز قبل ایک مقامی ہوٹل کی لابی میں جرمن سفارت کاروں سے ایک ملاقات کے دوران دو لمبی داڑھی والے نوجوان ہاتھوں میں شاپنگ بیگ لیے گزرے تو غیرملکیوں کو تو چھوڑیں خود مقامی افراد میں خوف اور ہلچل پیدا ہوگئی۔ جب یہ دو افراد گزر گئے تو سب نے اطمینان کا سانس لیا۔ اس واقعے سے ظاہر ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی پائلٹوں کی جانب سے کاماکازی یعنی خودکش حملوں سے جو دنیا میں ایک نیا ہتھیار متعارف کروایا گیا وہ اب کتنی خوفناک حد تک پھیل گیا ہے۔ القاعدہ نے گیارہ ستمبر کے نیویارک پر حملوں سے اسے نئی شکل دی۔ اب خونی حملوں کی یہ شکل بظاہر گلی گلی کوچے کوچے پہنچ چکی ہے۔ سکیورٹی فورسز پہلے ہی گوریلہ جنگ میں بے بس رہتے تھے اب جانی نقصان پہنچانے کی یہ تازہ صورت ان کے لیے مشکلات میں اضافے کا سبب ہے۔ تاہم عام آدمی کو بھی اس نے تشویش اور فکر لاحق کر دی ہے۔ | اسی بارے میں لاہور میں دھماکہ، چودہ زخمی17 November, 2006 | پاکستان پشاور ’خودکش‘ حملہ، ایک ہلاک17 November, 2006 | پاکستان گورنرسرحدپرحملہ: ملزم نہ دینے کی سزا14 November, 2006 | پاکستان باجوڑ: حکومت، اپوزیشن اختلافات14 November, 2006 | پاکستان درگئی اور باجوڑ: آخر تعلق کیا ہے؟11 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||