کراچی: سکیورٹی مزید بڑھا دی گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد اور پشاور میں بم دھماکوں کے بعد کراچی میں چیکنگ بڑہانے سمیت شہر کے داخلی راستوں کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے۔ سندھ کے محکمہ داخلہ کے سیکریٹری محترم غلام محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر میں میں داخل ہونے والی تمام گاڑیوں اور ریل گاڑیوں کو چیک کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں کشیدگی موجود ہے خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس بھی ہیں کہ کچھ گروہ امن امان کی صورتحال بگاڑنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب
پولیس حکام نے ہوٹل کے منتظمین کو مشکوک خودکش حملہ آوروں کی تصاویر بھی فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ کراچی پولیس حکام نے سنیچر کو شہر کے معروف ہوٹلوں کے چیف سکیورٹی افسران سے ایک مشترکہ ملاقات کی جس میں میریٹ ، شیرٹن، پرل کانٹینٹل، ریجنٹ پلازہ، آواری ٹاورز ، بیچ لگزری اور مہران ہوٹل کے نمائندوں نے شرکت کی۔ پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے ایک اعلامیے کے مطابق ڈی آئی جی کراچی مشتاق شاھ نے ہوٹل کے چیف افسران کو ہدایت کی کہ داخل ہونے کے لیے مرکزی گیٹ کے علاوہ دیگر گیٹ استعمال نہ کیے جائیں، مرکزی دروازوں پر ہوٹل کے محافظوں سمیت پولیس اہلکاروں کی تعیناتی بھی یقینی بنائی جائے گی۔ مشتاق شاھ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہوٹلز منتظمین کو ہدایت کی گئی کہ وہ ہوٹل کے اندر اور اطراف میں نصب کلوز سرکٹ کیمروں کو اپ ڈیٹ رکھیں اور تربیت یافتہ افراد کی مدد سے مانیٹرنگ کی جائے۔ کسی فرد کو بغیر تلاشی کے نہ جانے دیا جائے اور نہ ہی سامان چھوڑا جائے۔ انہوں نے کہا ہوٹل منتظمین کو ہوٹلوں کے پارکنگ ایریا کی کڑی نگرانی کرنے اور اطراف میں کسی کو پارکنگ کی اجازت نہ دینے کی ہدایت کی ہے۔ دوسری طرف شہر کے مصروف ترین علاقے ایمپریس مارکیٹ میں واقع سی ڈیز اور ویڈیو کیسٹ کے کاروباری مرکز رینبو سینٹر میں سنیچر کی شام کو پولیس کو بم کی اطلاع ملنے پر خوف ہراس پھیل گیا۔
صدر کے ٹاؤن پولیس افسر طاہر نوید نے بتایا کہ کسی شخص نے ایمرجنسی ٹیلی فون نمبر ون فائیو پر اطلاع دی کہ رینبو سینٹر میں بم رکھا گیا ہے، جس پر بم ڈسپوزل اسکواڈ نے پہنچ کر عمارت کی مکمل تلاشی لی۔ اس موقع پر فائر برگیڈ کی گاڑیاں اور ایمبولینسیں بھی پہنچ گئیں دکانداروں اور مکینوں سے عمارت خالی کرا لی گئی۔ ٹی پی او کے مطابق عمارت کو کلیئر کردیا گیا ہے، اب پولیس یہ اطلاع دینے والے کے بارے میں معلومات لے رہی ہے، جس نے موبائیل فون سے اطلاع دی تھی۔ | اسی بارے میں کراچی: ہائی الرٹ، تعلیمی ادارے بند15 February, 2006 | پاکستان پاکستان: مزید خود کش حملوں کا خطرہ13 November, 2006 | پاکستان مدرسے پر بمباری: 80 افراد ہلاک30 October, 2006 | پاکستان پاکستان میں سکیورٹی الرٹ26 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||