’طالبان، القاعدہ ملوث ہوسکتے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان ہے کہ جمعہ کو اسلام آباد میں ہونے والے خودکش حملے میں طالبان یا القاعدہ کے حمایت یافتہ شدت پسند ملوث ہو سکتے ہیں۔ اس واقعے کی تفتیش کرنے والے اداروں کے مطابق یہ حملہ افغان سرحد کے نزدیک قبائلی علاقوں میں پاکستانی فوج کے آپریشن کا ردعمل بھی ہو سکتا ہے۔ تاحال کسی تنظیم نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ حملہ آور کی باقیات کی مدد سے اسے شناخت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق خود کش حملہ آور کی ہلکی داڑھی تھی اور ایک اندازے کے مطابق اس کی عمر بیس سے تیس برس کے درمیان تھی۔ دھماکے کے بعد وفاقی دارالحکومت میں سخت حفاظتی انتطامات کا سلسلہ جاری ہے اور دوسرے دن اسلام آباد کی سڑکوں پر فوجی اور نیم فوجی دستوں نے بھی اسلام آباد میں جمعہ کی دوپہر میریٹ ہوٹل کے پاس ایک خودکش حملے میں دو افراد ہلاک اور کم از کم پانچ زخمی ہوگئے تھے۔ سیکرٹری داخلہ سید کمال شاہ نے بتایا تھا کہ مارے جانے والوں میں ایک خود کش بمبار اور دوسرا ہوٹل کا سکیورٹی گارڈ تھا۔ہوٹل کے سکیورٹی گارڈ کا نام طارق تھا جو حملہ آور کو ہوٹل میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش میں ہلاک ہوا۔ | اسی بارے میں کراچی میں ہائی الرٹ26 January, 2007 | پاکستان نوشہرہ کے جلوزئی کیمپ میں دھماکہ 15 January, 2007 | پاکستان بلوچستان :دھماکہ ریل کی پٹری تباہ18 January, 2007 | پاکستان چمن: آئل ٹینکر دھماکے سے تباہ14 January, 2007 | پاکستان ہنگو کے بازار میں دھماکہ25 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||