ٹانک میں دھماکہ، ہنگو میں فائرنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ٹانک میں ایک بارودی سرنگ کے دھماکے میں پولیس کے دو اہلکار شدید زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں عیسیٰ خان اور عمران نامی اہلکار شامل ہیں جنہیں ٹانک سے علاج کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے ایک سینئر افسر محسن شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کی ایک گشتی گاڑی اس وقت ایک بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی جب وہ وانا،ٹانک روڈ پر معمول کےگشت پر تھے۔ انہوں نے بتایا کہ تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس دھماکے میں کس کا ہاتھ ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وزیرستان کے حالیہ واقعات کا اس دھماکے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ادھر صوبہ سرحد کے جنوب مغربی ضلع ہنگو میں ہفتے کی شب نامعلوم افراد کی جانب سے پولیس موبائل پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک اے ایس آئی ہلاک جبکہ تین پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔ پولیس نے اس واقعے کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیا ہے۔ پشاور سے تقریباًً سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہنگو میں یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مرکزی ٹل روڈ پر تبلیغی مرکز کے قریب گھات لگائے نامعلوم مسلح افراد نے پولیس موبائل پر اچانک گولیوں کی بوچھاڑ کردی جس سے اسسٹنٹ سب انسپکٹر محمد یاسین موقع پر ہلاک جبکہ تین سپاہی سعید الرحمان ، منیراور افتخار زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو سول ہسپتال ہنگو میں داخل کرادیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق اے ایس آئی کو سر میں کئی گولیاں لگی ہیں جس سے وہ موقع پر ہلاک ہوگئے۔ ہنگو تھانہ کے ایس ایچ او سعید خان نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے گفتگو میں بتایا کہ یہ واقعہ ہنگو شہر سے کچھ ہی فاصلے پر پیش آیا اور ابتدائی تحقیقات سے جو بات سامنے آئی ہے اس میں ’ٹارگٹ کلنگ ’ کے عنصر کو رد نہیں کیا سکتا۔ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ واقعہ میں کون لوگ ملوث ہوسکتے ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ پولیس ہر زاویے سے واقعہ کی تفتیش کر رہی ہے۔ | اسی بارے میں ’ہم انتقامی کارروائی کریں گے‘17 January, 2007 | پاکستان وزیرستان میں امن معاہدے پر زور16 January, 2007 | پاکستان میران شاہ: فوجی قلعے پر راکٹ حملہ18 March, 2006 | پاکستان بنوں چھاؤنی پر راکٹ حملہ12 March, 2006 | پاکستان پولیٹکل محرر سمیت 6 ہلاک29 September, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||