BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 28 January, 2007, 02:11 GMT 07:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور میں دھماکے کے عینی شاہد

 ملک سعد
وزیراعلی نے سرحد نے ہلاک ہونے والے پولیس اہلکار ملک سعد اور ڈی ایس پی خان رازق کے اہل خانہ کو پچاس اور پچیس لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا
پشاور دھماکے کے ایک عینی شاہد پولیس کانسٹیبل مزمل خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم امام بارگاہ سے بازار دل گراں آ رہے تھے۔ میں سی سی پی ملک سعد ، ایس پی سٹی شیر اکبر خان اور ڈی ایس پی سٹی خان رازق کے ساتھ ہی تھا کہ شاہ جی چائے فروش کی دوکان کے قریب ایک زوردار دھماکہ ہوا اور ہر طرف افراتفری پھیل گئی ہمیں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ خودکش حملہ تھا یا ریموٹ کنٹرول سے کیا گیا‘۔

ایک اور عینی شاہد سلیمان جو ماتمی جلوس کے فلم بنا رہے تھے انہوں نے بتایا کہ’انہیں ٹھیک طرح سے یاد نہیں کہ کیا ہوا تھا بس اتنا معلوم ہے کے جیسے کسی نے اوپر سے کوئی چیز ڈال دی ہو اور اس کے بعد شدید دھماکہ ہوا اور میں نے دیکھا کہ لوگ ادھر ادھر بھاگنے لگے ، کچھ لوگوں کے جسم کے اعضاء بھی زمین پر نظر آئے‘۔

صوبہ سرحد کے وزیر اعلی اکرم خان درانی نے پشاور میں سنیچر کی رات ہونے والے بم دھماکے کو ابتدائی اطلاعات کے مطابق خودکش حملہ قرار دے چکے ہیں اور ان کے مطابق حملے میں تیرہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

رات گئے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں زخمیوں کے عیادت کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو ابتدائی اطلاعات ملی ہیں ان کے مطابق یہ

ہلاک ہونے والوں کے لیے رقوم
 ہلاک ہونے والے چیف کیپٹل سٹی پولیس ملک سعد اور ڈی ایس پی خان رازق کے اہل خانہ کو پچاس اور پچیس لاکھ روپے دینے جبکہ دیگر پولیس اہلکاروں اور شہریوں کو دس اور دو دو لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا
ایک خودکش حملہ تھا تاہم اس سلسلے میں تفتیش جاری ہے اور حقائق جلد ہی سامنے آجائیں گے۔ وزیراعلی کا کہنا تھا کہ دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں چھ پولیس اہلکار ، دو ناظمین یونین کونسل ، یونین کونسل اندر شہر کے ناظم محمد علی صافی اور یونین کونسل نوتھیہ کے ناظم آصف باغی اور دیگر عام شہری شامل ہیں۔

اس سے قبل پشاور وزیراعلی سرحد کی قیادت میں ایک اعلی سطح اجلاس ہوا جس میں دھماکے کے بعد شہر میں سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری اور پولیس کے اعلی اہلکاروں نے شرکت کی۔

وزیراعلی نے اس موقع پر واقعہ میں ہلاک ہونے والے چیف کیپٹل سٹی پولیس ملک سعد اور ڈی ایس پی خان رازق کے اہل خانہ کو پچاس اور پچیس لاکھ روپے دینے جبکہ دیگر پولیس اہلکاروں اور شہریوں کو دس اور دو دو لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد