’پشاور حملہ آور کا سراغ نہیں ملا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں سنیچر کی رات خودکش حملے کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک حملہ آور کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ پشاور کے نئے پولیس سربراہ ڈی آئی جی عبدالمجید مروت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ آور کی شناخت کے سلسلے میں ابھی کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حملے میں استعمال ہونے والے دھماکہ خیز مواد کی تحقیقاتی رپورٹ آگئی ہے جس کے مطابق اس حملے میں میں دو سے ڈھائی کلو وزنی دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ آور کے پاس دو دستی بم بھی تھے۔’ہمیں وہ بیلٹ ملی ہے اور وہ تار ملی ہے جس سے یہ بیلٹ بنائی جاتی ہے۔لیڈ پِن بھی ملی ہے جواینٹی ٹینک ڈیوائس میں استعمال ہوتی ہے اور سکروز بھی ملے ہیں۔‘ عبدالمجید مروت کو خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے ڈی آئی جی ملک سعد کی جگہ فوری طور پر پشاور کا پولیس سربراہ تعینات کیا گیا ہے۔اس سے قبل وہ ڈی آئی جی سپیشل برانچ تھے۔ مجید مروت کا کہنا تھا کہ حملہ آور کی شناخت یا اس کا تعلق کس گروپ یا جماعت سے ہوسکتا ہے اس بارے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ ’ابھی عینی شاہدین سے تفصیلی بیان بھی نہیں لیا گیا ہے۔‘ وزیر اعلی اکرم خان درانی سمیت کئی اعلی سرکاری اہلکار حملے کے فوراً بعد اس کو پولیس پر حملہ قرار دیتے رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا ہدف اہل تشیع نہیں تھے جن کا ایک ماتمی جلوس کچھ وقت بعد وہاں سے برآمد ہونا تھا۔ لیکن کئی لوگ اس سے متفق دکھائی نہیں دیتے۔ سابق انسپکٹر جنرل پولیس عباس شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ موقع پر دونوں ٹارگٹ موجود تھے لہذا ہوسکتا ہے حملہ آور نسبتاً آسان ہدف کی جانب چلا گیا۔ ’یہ تو تحقیقات کرنے والے ہی بتا سکیں گے کہ ہدف کون تھا تاہم بیک وقت دونوں موجود تھے یعنی پولیس کے اعلی اہلکار بھی اور امام بارگاہ بھی۔ اس سے یہ واضع نہیں ہوتا کہ وہ آیا کس کے لیئے تھا۔‘ پشاور پولیس سربراہ عبدالمجید مروت کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ حملہ آور نے بدحواسی کے عالم میں دونوں میں سے پولیس کو چن لیا ہو۔ ’اگر آپ کو یاد ہو تو پشتخرہ کے پاس دو ماہ قبل ایک خودکش حملہ آور نے یا تو بدحواسی میں یا پھر ان سے کچھ دب جاتا ہے یہ دھماکہ ہو جاتا ہے۔ تاہم اس مرتبہ وہ آیا پوری نیت کے ساتھ تھا۔‘ پولیس اہلکار کا خیال ہے کہ یہ صوبہ کے قبائلی علاقوں سے ملحق علاقوں میں پولیس پر ہونے والے حملوں کا تسلسل ہی ہے۔ جنوبی وزیرستان کی سرحد پر واقعے ٹانک شہر میں نامعلوم حملہ آوروں کے ہاتھوں پولیس اہلکار اغوا بھی ہوئے اور ہلاک و زخمی بھی۔ عبدالمجید مروت کا کہنا تھا کہ یہ وہی سلسلہ ہے۔ ’یہ تو پکی بات ہے کہ ٹانک، نوں اور ڈی آئی خان کے بعد اب پشاور میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔‘ ادھر گورنر سرحد علی محمد اورکزئی نے اتوار کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے یہ انکشاف بھی کیا کہ یہ اغواکاروں کی کارروائی بھی ہوسکتی ہے جن کے خلاف وہ سرگرم تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اغوا کاروں کی جانب سے دھمکیاں بھی مل رہی تھیں۔ تاہم تجزیہ نگار اس سے متفق نظر نہیں آتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں اغواکاروں نے خودکش حملے کرکے انتقام لینے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ غالب امکان یہی ہے کہ ماضی کی طرح شاید اس مرتبہ بھی تحقیقاتی ٹیموں کو اس معمے کو حل کرنے میں کوئی خاطر خواں کامیابی حاصل نہ ہوسکے۔ | اسی بارے میں پشاور: بم دھماکے میں 12 افراد ہلاک27 January, 2007 | پاکستان ’بیرونی ہاتھ یقینی طور پر ملوث ہے‘27 January, 2007 | پاکستان پشاور میں دھماکے کے عینی شاہد28 January, 2007 | پاکستان پشاور پولیس کا دوہرا نقصان29 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||