BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 29 January, 2007, 04:32 GMT 09:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور پولیس کا دوہرا نقصان

سعد
ملک محمد سعد کی ایک یادگار تصویر۔ اس وقت کے آئی جی پولیس محمد رفعت پاشا انہیں ڈی آئی جی کے رینک لگاتے ہوئے
صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں حکام کا کہنا ہے کہ پیر کی سہ پہر ایک خودکش حملے میں ایک پولیس اہلکار سمیت تین افراد ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوئے ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ حملہ ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے لیاقت پارک کے قریب ہوا جہاں پولیس عزاداری میں شرکت کے لیئے آنے والے لوگوں کی تلاشی لے رہے تھے۔
پولیس نے محرم کے سلسلے میں شہر میں جگہ جگہ ناکہ بندی کر رکھی تھی اور اندرون شہر داخل ہونے والوں کی تلاشی لی جا رہی تھی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق مبینہ خود کش حملہ آور نے تلاشی دینے سے انکار کیا تھا اور خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس میں اس کے علاوہ ایک پولیس اہلکار موقع پر ہلاک ہو گیا۔
ایک زخمی عام شہری نصیر ہسپتال پہنچ کر دم توڑ گیا۔ دیگر چھ زخمیوں میں دو پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔
گزشتہ تین دنوں میں صوبہ سرحد میں ہونے والا یہ دوسرا خود کش حملہ تھا۔
سرکاری ادارے ڈیرہ اسماعیل خان کو ماضی میں فرقہ وارانہ تشدد کی وجہ سے کافی حساس قرار دیتے رہے ہیں۔

پشاور کے حملے میں دو اعلی پولیس اہلکاروں سمیت تیرہ افراد ہلاک ہوئے تھے

صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں گزشتہ روز کے خودکش حملے میں ایک مرتبہ پھر پولیس کو نہ صرف بڑا جانی نقصان اٹھانا پڑا بلکہ اچھے کردار کی شہرت رکھنے والے اعلی اہلکار کھونے پڑے ہیں۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ملک محمد سعد کی نہ صرف محکمہ پولیس کے اندر بلکہ باہر بھی تمام شعبہ ہائے زندگی کے افراد عزت کرتے اور بطور ایک اصول پسند شخص کے جانتے تھے۔

اس سے قبل انتالیس سالہ ڈی آئی جی بنوں عابد علی کو گزشتہ ماہ نامعلوم افراد نے پشاور کے قریب گولیاں مار کر ہلاک ک دیا تھا۔ وہ بھی ایسے پولیس افسروں میں شامل تھے جن کی وجہ سے لوگوں کا اس اہم محکمے پر تھوڑا بہت اعتماد برقرار تھا۔

ملک محمد سعد انیس سو انسٹھ میں صوبہ سرحد کے شہر کوہاٹ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے تیس سال کی عمر میں پولیس میں شمولیت اختیار کی اور کئی اہم عہدوں پر فائز رہے۔

تاہم گزشتہ ماہ ڈی آئی جی بنوں کی ہلاکت کے واقعے کے بعد پشاور پولیس کی قیادت میں تبدیلی کی گئی اور ملک سعد کو یہ ذمہ داری سونپی گئی۔

پشاور میں امن عامہ کی بگڑتی صورتحال کے پس منظر میں اس اعلان کے دوسرے روز وہ سرکاری ٹی وی کے ایک پشتو پروگرام میں آئے تو کمپیر نے ان سے پہلا سوال یہی کیا کہ وہ انہیں اس تعیناتی پر مبارک باد دیں یا ان سے تعزیت کریں۔ ان کا جواب تھا ’دونوں‘۔

پشاور میں مرحوم نے بطور میونسپل کارپوریشن کے سربراہ اور ڈی جی، سی ایم ڈی ڈی جو کارکردگی دکھائی اسے آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ وہ ہاکی ایسوسی ایشن سے بھی منسلک تھے۔انہوں نے سوگواران میں دو بیٹے، ایک بیٹی اور ایک بیوہ چھوڑی ہے۔

ہلاک ہونے والے خان راززق اپنی زندگی کے اس یادگار دن پر جب انہیں اس وقت کے آئی جی اور ڈی آئی جی نے ڈی ایس پی کے رینک لگائے

سرحد پولیس کو دوسرا نقصان چون سالہ ڈی ایس پی خان رازق کی شکل میں اٹھانا پڑا۔ وہ بھی ان افراد میں شامل تھے جو اپنے کردار، خوش اخلاقی اور محنت کی وجہ سے اے ایس آئی کے عہدے سے ڈی ایس پی تک پہنچے۔

نوشہرہ کلاں سے تعلق رکھنے والے خان رازق کو محرم کی ڈیوٹی کے لیے ہی خصوصی طور پر تین جنوری کو مردان سے واپس پشاور ٹرانسفر کیا گیا تھا۔

خان رازق شاید ہی پشاور کے کسی تھانے میں تعینات نہ ہوئِے ہوں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے تحت بوسنیا میں بھی فرائض انجام دیے تھے۔ وہ اپنے اخلاق کی وجہ سے صحافیوں سے بھی بہت دوستانہ روابط رکھتے تھے۔

انہوں نے سوگواران میں تین بیٹیاں، دو بیٹے اور بیوہ چھوڑے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد