پولیس افسروں کی توہین عدالت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائی کورٹ نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب عارف بھنڈر کے قتل کے ملزموں کی گرفتاری کے بارے میں پریس کانفرنس کرنے پر لاہور پولیس کے دو اعلی افسروں کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کردیے ہیں۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس (آپریشن) اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل (تفتیش) نے چوبیس جنوری کو اخباری کانفرنس کرکے بھنڈر اور ان کے چھ ساتھیوں کے بارہ جنوری کو ہونے والے قتل کے الزام میں چار ملزموں کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا۔ عدالت عالیہ نے جمعہ کو عارف بھنڈر کے والد اکبر بھنڈر کی آئینی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے دونوں پولیس افسروں سے کہا کہ انہیں عدالت میں زیرسماعت معاملہ پر پریس کانفرنس کرنے کی جرات کیسے ہوئی اور یہ کہ انہوں نے عدالت عالیہ کو چھوٹا دکھانے اور اسے بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔ سماعت کے اختتام پر اپنے حکم نامہ میں عدالت عالیہ نے کہا کہ دونوں افسروں سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو وہ کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔ عدالت عالیہ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ ان دونوں افسروں کو نوٹس جاری کیاجاتا ہے کہ وہ ایک ہفتہ میں وضاحت کریں کہ کیوں نہ ان کے خلاف عدالت کی توہین کرنے کے الزام میں متعلقہ قانون کے تحت کاروائی کی جائے۔ تاہم عدالت عالیہ میں دونوں افسروں نے موقف پیش کیا تھا کہ اس بارے میں پریس والے پولیس سے پوچھ رہے تھے اور متضاد خبریں شائع ہو رہی تھیں اس لیے صوتحال واضح کرنے کے لیے انہوں نے اخباری کانفرنس کی۔
اس کا نوٹس لیتے ہوئے عدالت عالیہ نے ایڈوکیٹ جنرل سے کہا کہ دونوں اعلی افسران پندرہ منٹ میں عدالت میں پیش ہوں جس پر دونوں افسران عدالت عالیہ میں پیش ہوگئے۔ عدالت عالیہ میں عارف بھنڈر کیس کی تفتیش کے بارے میں پولیس نے ایک تفصیلی رپورٹ بھی پیش کی۔ آئی جی پولیس پنجاب احمد نسیم نے عدالت عالیہ سے کہا کہ اب تک گرفتار نہ کیے جاسکنے والے ملزموں کی گرفتاری کے لیے پولیس ہر کوشش بروئے کار لائے گی اور پولیس کو اس کام کے لیے ایک ہفتہ کی مزید مہلت دی جائے۔ انیس جنوری کو ہونے والی پہلی سماعت کے موقع پر بھی پولیس نے ملزموں کی گرفتاری کے لیے عدالت عالیہ ایک ہفتہ کی مہلت مانگی تھی۔ چیف سیکرٹری پنجاب سلمان صدیق نے عدالت عالیہ میں لاہور پولیس میں پولیس آرڈر مجریہ سنہ دو ہزار دو کے مطابق پولیس اہلکاروں کی تقرریاں نہ ہونے کا اعتراف کیا اور کہا کہ عاشورہ محرم کی وجہ سے فوری طور پر تبادلے اور نئی تقرریاں نہیں کی جاسکتیں اس لیے انہیں مہلت دی جائے۔ عدالت عالیہ نے چیف سیکرٹری کو چار فروری تک کا وقت دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت کے موقع پر وہ اس بارے میں رپورٹ پیش کریں۔ لاہور ہائی کورٹ نے اس معاملہ کی مزید سماعت نو فروری تک کے لیے ملتوی کردی۔ عدالت عالیہ کا ایک تین رکنی بینچ بارہ جنوری کو قتل کیے جانے والے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل عارف بھنڈر کے والد اکبر بھنڈر کی آئینی رٹ درخواست کی سماعت کررہا تھا جس میں درخواست گزار نے کہا تھا کہ پولیس ملزموں کو گرفتار نہیں کررہی اور اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہی۔ عدالت عالیہ کا تین رکنی بینچ جسٹس مزمل خان، جسٹس ایم بلال خان اور جسٹس سید شبر رضا رضوی پر مشتمل تھا۔ دوسری طرف، وکلا نے جمعہ کو چھٹے روز مسلسل ماتحت عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور ایوان عدل سے لاہور ہائی کورٹ تک جلوس نکالا۔ |
اسی بارے میں آٹھ قتل: مقامی سیاست کا شاخسانہ12 January, 2007 | پاکستان پنجاب میں وکلاء کی ہڑتال15 January, 2007 | پاکستان عدلیہ کی توہین، آئی جی کی طلبی13 November, 2003 | پاکستان مختار مائی توہین عدالت کی زد میں28 June, 2005 | پاکستان توہین عدالت ، میجر ضمانت پر رہا24 January, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||