توہین عدالت ، میجر ضمانت پر رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرگودھا میں وکلاء برادری نے ایک میجر کی عدالت میں مبینہ بدتمیزی پر کی جانے والی دو روزہ احتجاجی ہڑتال بدھ کے روز ختم کرتے ہوئے عدالتی کاروبار شروع کر دیا۔ دریں اثناء سرگودھا کے ایڈیشنل سیشن جج نے توہین عدالت کے الزام میں گرفتار فوجی افسرکو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ سرگودھا کی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر خالد اقبال مسرت کا کہنا ہے کہ وکلاء کی ہڑتال کرنے کا فیصلہ ہی غلط تھا۔ ضلع سرگودھا کے وکیلوں نے پیر کی دوپہر اس وقت عدالتوں میں کام سرگودھا کے ایک وکیل سجاد عباس نیازی نے بتایا کہ فوج کے میجر شکیل نے عدالت میں ڈائس پر چڑھ کر سول جج رائے آفتاب احمد سے ہاتھ ملایا اور مطالبہ کیا کہ ان کی بہن کا کیس پہلے سنا جائے۔ میجر کی بہن نے اپنے شوہر کے خلاف جہیز کی واپسی اور خرچ کی ادائیگی کا مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔ جج نے انہیں ڈائس سے اترنے کو کہا جس پر میجر شکیل نے مبینہ طورپرایسا رویہ اختیار کیا جو جج کو عدالت کی توہین کے مترادف تصور کیا گیا۔ مقامی وکلاء کے مطابق ان کے رویے سے عدالت کی معمول کی کارروائی بھی رک گئی تھی۔ اس دوران میجر نے کچھ ایسے کلمات بھی ادا کیئے جن پر عدالت میں موجود وکیلوں کو اعتراض ہوا اور انہوں نے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کو عدالت بلا لیا۔ اس دوران سول جج نے میجر کو حراست میں لینے کا حکم دیدیا۔ فوج کے میجر کو فوری طور پر توہین عدالت اور کار سرکار میں مداخلت کے دو نوٹس جاری کر کے ان سے جواب طلب کیا۔ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر شمس نوید چیمہ کے مطابق میجر نے نوٹس کے جواب دینے اور اپنے رویے پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا جس پر عدالت نے انہیں تعزیرات پاکستان کی دونوں دفعات کے تحت ایک ایک ماہ قید کی سزا سنائی اور عدالتی تحویل میں جیل بھجوا دیا۔ اس واقعہ کے بعد سرگودھا کے وکیلوں نے عدالتوں کا بائیکاٹ کرکے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ اطلاعات کے مطابق سرگودھا کےگیارہ سو کے لگ بھگ وکیلوں نے پیر اور منگل کو کام نہیں کیا تھا تاہم بدھ کی صبح نو بجے کے بعد وکیل ہڑتال ختم کرکے عدالتوں میں پیش ہوگئے۔ادھر عدالت کی توھین کے ملزم میجر شکیل کی، جو دو روز تک جیل میں رہے تھے، عدالت نےضمانت پر رہائی کا حکم دیا ہے۔ اس سے قبل سول جج کی درخواست پر سیشن جج نے میجر شکیل کی بہن کا کیس دوسری عدالت منتقل کر دیا گیا تھا۔ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر خالد اقبال مسرت نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء رہنماؤں نے ہڑتال کا فیصلہ کرکے غلطی کی تھی کیونکہ میجر شکیل نے کوئی اتنا بڑا جرم نہیں کیا تھا۔ان کے بقول عدالت سے جلدی فیصلے کا کہنا ایک معمول کی بات ہے اس پر اتنی بڑی ہڑتال کا جواز نہیں تھا۔ | اسی بارے میں کیا جنرل کے اہل خانہ قانون سے بالاتر ہیں؟15 October, 2003 | پاکستان فوجیوں سے جھگڑا، پولیس دباؤ میں17 October, 2003 | پاکستان سویلین سے لڑائی، میجر زخمی09 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||