BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 October, 2003, 17:41 GMT 22:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوجیوں سے جھگڑا، پولیس دباؤ میں

فوج اور عدلیہ کی گاڑیوں کے شیشوں پر لگے کاغذ نہ اتارے جائیں

لاہور میں فوج کے میجر جنرل کی گاڑی سےکالے شیشے اتارنے کے تنازعہ میں بالآخر متعلقہ ایس پی کپیٹن ریٹائرڈ احمد مبین اور اے ایس پی محمد علی نیکو کارا کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔

ان افسروں کو منگل کی شب شروع ہونے والے اس تنازعہ کے بعد سے کام کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ دو روز کی غیر اعلانیہ انکوائری کے بعد آئی جی پنجاب پولیس نے رات گئے ان کے تبادلے کا نوٹیفیکشن جاری کردیا۔ آئی جی پنجاب کے ترجمان نے جمعرات کی رات گیارہ بجے اخبارات کے دفاتر میں فون کرکے تبادلے کی خبر سرکاری طور پر فراہم کی ۔

منگل کی شب گلبرگ میں ہونے والے اس واقعہ میں ایس ایچ او کو لائن حاضر کیا جاچکا ہے جبکہ لاہور پولیس کے ایک کانسٹیبل کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے پہلے ہی گرفتار کیا جا چکاہے جس نے اب مقامی عدالت سے ضمانت کرانے کے بعد حوالات سے رہائی پا لی ہے۔

اس طرح اس واقعہ میں سزا یافتہ پولیس افسروں کی تعداد چار ہوگئی ہے اور اس میں ایس پی سے لیکر کانسٹیبل تک کے رینک کے افسر شامل ہیں اورسب سے کم تر عہدہ رکھنے والے کے حصہ میں سب سے بڑی سزا آئی ۔

کانسٹیبل نذیر، منڈی بہاءالدین کے رہائشی ہیں۔ وہ پولیس چوکی غالب مارکیٹ میں تعینات تھے اور وہیں سوتا تھے۔ معطلی کے بعد ان کا بوریا بستر تھانے سے اٹھا دیا گیا۔

تھانہ غالب مارکیٹ کے ڈیوٹی افسر کوثر نے بتایا کے وہ اب پولیس لائن میں قیام پذیر ہیں اور پولیسں لائن کے محرر کے مطابق ’وہ چھ بجے کی گنتی میں تو حاضر ہوا تھا لیکن اب نجانے کہا چلا گیا اس کی چارپائی خالی پڑی ہے ۔‘

اس واقعہ میں پولیس کے اعلی افسر سے لیکر ماتحت تک سب ہی اخبار نویسوں سے بات کرنے سے گریزاں ہیں۔ جو جتنے بڑے رینک پر ہے اتنا ہی محتاط یا خوفزدہ ہے ۔

پولیس کا گاڑیوں کے کالے شیشوں کے خلاف مہم بند کرنے کا کسی نے اعلان تو نہیں کیا لیکن منگل کی شب وہ آخری شب تھی جب لاہور کی سڑکوں پر ناکے اور شیشے ’شفاف‘ کیے جاتے رہے۔

پولیس فورس میں بددلی پائی جاتی ہے ۔ جب تک صرف کانسٹیبل کو سزا ملی تھی اس وقت تک چھوٹے رینک کے ملازمین یہ کہہ کر شکوہ کرتے دکھائی دیتے تھے کہ ’ماتحت تو بیچارہ حکم کا غلام ہوتا ہے وہ اپنے افسرکی بات نہ مانے تو اسے سزا ملتی ہے اور جب کچھ غلط ہو تو ھی سزا اس کا مقدر ہوتی ہے ‘۔

ایک اخبار کی اطلاع کے مطابق جب فوجی حکام نے پولیس افسران کو طلب کیا تو وہ کانسٹیبل نذیر کو ہتھکڑیاں لگا کر اپنے ساتھ فوجی دفتر 114 بریگیڈ میں لے گئے تھے ۔اور ایس ایچ او نے بے حد پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ خود اس کے خلاف اپنے بیان پر مقدمہ درج کیا تھا ۔لیکن یہ اقدام بھی فوجی افسروں کاغصہ ٹھنڈا نہیں کر سکا۔ایک پولیس افسر نے آف دی ریکارڈ تبصرہ کیا تھا کہ ’وہ کسی بڑے افسر کے سر کی قربانی مانگ رہے ہیں ‘۔

ایک اطلاع کے مطابق دو روز تک پنجاب پولیس کے افسروں نے ایس پی ماڈل ٹاؤن کیپٹن احمد مبین کی جان بچانے یعنی ان کا تبادلہ رکوانے کی ہر ممکن کوشش کی۔فوجی افسروں سے معافیاں مانگی گئیں اور پولیس افسران وفود کی صورت میں بااثر حکام کے گھروں پر حاضری دیتے رہے ۔

فوج کے محکمہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجر شاہد نے فوج کا موقف بتانے سے پہلے تو یہ کہ کر انکار کردیا کہ یہ تو اسلام آباد میں موجود آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل شوکت سلطان بتائیں گے۔

ایک فوجی افسر نے اس شرط پر کہ ان کا نام کہیں نہیں آۓ گا اور نہ اسے فوج کا سرکاری موقف سمجھا جائےگا، کہا ہے کہ ’یہ معاملہ شیشے سے کاغذ اتارنے کا نہیں بلکہ پولیس کی بدتمیزی کا ہے‘ ۔

انہی کا کہنا ہے کہ’ جب کانسٹیبل میجر جنرل صباحت حسین کی گاڑی کے کالے شیشے اتار رہا تھا تو فوجی ڈرائیور نے کہا تھا کہ اگر یہ تمہارے آئی جی یا ڈی آئی جی کی گاڑی ہوتی تو تم یہ سلوک نہ کرتے لیکن کانسٹیبل پھر بھی باز نہ آیا‘ ۔ انہی کا کہنا تھا کہ’ اس گاڑی میں خواتین بیٹھی تھیں لیکن اس کا بھی خیال نہیں کیا گیا۔‘

منگل کی رات کو لاہور پولیس کے جوانوں کے لیے نشر ہونے والا یہ وائرلیس پیغام اہم ہے کہ ’صرف فوج اور عدلیہ کے افسران کی گاڑیوں کے شیشوں پر لگے کالے کاغذ نہ اتارے جائیں‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد