BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 19 October, 2003, 06:51 GMT 11:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوجیوں نے پِٹائی کردی

محمد رفیق
موٹر وے پولیس کے انسپکٹر محمد رفیق نے تیز رفتاری پر ایک فوجی گاڑی کا چالان کیا تھا

ملتان میں ہائی وے پولیس کے ایک اہلکار کو مبینہ طور پر تیز رفتاری سے چلائی جانے والی ایک فوجی گاڑی کے ڈرائیور کا چالان کرنے پر مار مار کر زخمی کر دیا گیا۔ پولیس اہلکار کے مطابق یہ واقعہ چالان کرنے کے چار گھنٹے کے بعد پیش آیا۔ اس کا کہنا ہے کہ اسے پندرہ کے قریب افراد نے مارا جس میں باوردی لوگ بھی شامل تھے۔

ایک ترجمان نے بتایا کہ اس واقعے کے بارے میں اعلیٰ سطح پر فوجی حکام سے رابطہ کیا گیا ہے ۔

پولیس کے سب انسپکٹر محمد رفیق نے بتایا ہے کہ ان کو وائرلیس پر پیغام ملا تھا کہ ایک گاڑی ہائی وے کی مقررہ رفتار سے زیادہ چلایی جا رہی ہے۔ محمد رفیق سے کہا گیا تھا کہ یہ پِک اپ گاڑی اب ان کے پوزیشن کے نزدیک ہے اور وہ اس کو روک لیں۔

محمد رفیق کے مطابق یہ گاڑی ترانوےکلومیٹر گھنٹہ کی رفتار سے چلائی جا رہی تھی۔ انہوں نے گاڑی کو اشارہ دے کر روکا اور ڈرائیور سے لائسنس دکھانے کو کہا۔ اس پر ڈرائیور نے اپنا لائسنس تو دکھا دیا لیکن یہ بھی کہا کہ یہ فوجی گاڑی ہے لہذا اس کا چالان کرنے کی جرات نہ کی جائے۔لیکن محمد رفیق کا کہنا ہے انہوں نے دو سو روپے کا جرمانہ کر دیا۔

اس پر گاڑی میں سوار فوجی اہلکاروں نے سخت غصے کا اظہار کیا اور موٹروے پولیس کو برا بھلا کہا۔ سب انسپکٹر کے مطابق وہ لوگ جرمانہ ادا کیے بغیر وہاں سے چلے گئے۔

ایس ائی محمد رفیق کا کہنا ہے کہ وہ چار گھنٹے بعد اپنی ڈیوٹی ختم کر کے جب موٹر وے پولیس کے بریفنگ سینٹر گئے تو وہاں تقریباً پندرہ افراد نے ان پر حملہ کردیا اور انہیں پیٹنا شروع کر دیا۔ محمد رفیق کا کہنا ہے کہ ان میں سے کئی افراد فوجی وردی میں ملبوس تھے۔

محمد رفیق بری طرح زخمی ہوئے اور ان کو نشتر ہسپتال کے وارڈ نمبر پانچ میں داخل کر دیا گیا۔

جب نیشنل ہائی وے اور پاکستان موٹروے پولیس سے اس واقعے کے بارے میں رابطہ کیا گیا تو ایک ترجمان نے بتایا کہ اعلیٰ سطح پر فوجی حکام سے اس واقعہ کے بارے میں ایک شکایت درج کرا دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کارروائی پر فیصلہ کرنے سے پہلے وہ فوجی حکام کے جواب کا انتظار کریں گے۔

ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق حملہ آوروں کا تعلق فرنٹئیر ورکس آرگنائزیشن سے تھا جو کہ فوج کا تعمیراتی ادارہ ہے۔

یہ پچھلے دو ماہ میں ملتان میں ہونے والے اس نوعیت کا چوتھا واقعہ ہے۔ اپریل میں ایک دکاندار کو اس وقت فوجیوں غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑا تھا جب ایک ٹریفک پولیس اور فوجیوں کے جھگڑے میں اس نے پولیس والے کے دفاع میں کچھ کہا تھا۔

دوسرے واقعہ میں پولیس کے چار اہلکاروں کو اس لئے نوکری سے فارغ کر کےگرفتار کر لیا گیا تھا کیونکہ انہوں نے موٹر سائیکل پر سوار تین فوجی کیڈٹوں کا چلان کیا تھا۔ اور حال میں ملتان کے ایک دکاندار اور فوج کے ایک میجر میں اس وقت تصادم ہوا جب دکاندار نے میجر کو اس کے دکان کے آگے گاڑی کھڑے کرنے سے منع کیا تھا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد