پنجاب میں وکلاء کی ہڑتال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ جمعہ کو لاہور میں دو وکلاء کے قتل کے خلاف احتجاج کے طور پر سوموار کو پنجاب کے کئی بڑے شہروں میں وکیلوں نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جبکہ حکومت نے لاہور کے پولیس سربراہ کو تبدیل کردیا ہے۔ بارہ جنوری کی صبح لاہور میں ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل عارف بھنڈر کو ان کے چھ ساتھیوں سمیت قتل کردیا گیا تھا جبکہ ان کے قتل پر احتجاج کرنے والے ایک وکیل نیاز سندھو کو بھی شام کو گولی مار دی گئی تھی۔
سوموار کو لاہور میں ماتحت عدالتوں میں وکلاء کے بائیکاٹ کا مسلسل تیسرا دن تھا۔ وکلاء نے جمعہ اور ہفتہ کو بھی ماتحت عدالتوں کا بائیکاٹ کیا تھا۔ سوموار کو ماتحت عدالتوں کے ساتھ ساتھ لاہور ہائی کورٹ میں بھی وکلاء نے آدھے دن کے لیے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔ پنجاب کے دوسرے شہروں گوجرانوالہ، فیصل آباد اور ملتان میں بھی وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔ لاہور میں وکیلوں نے احتجاجی جلوس نکالا جو ایوان عدل سے شروع ہوکر پنجاب اسمبلی تک گیا جہاں وکلاء نے کچھ دیر دھرنا دیے رکھا۔
دوسری طرف پنجاب حکومت نے لاہور پولیس میں اعلیٰ سطحی انتظامی تبدیلیاں کی ہیں۔ حکومت نے لاہور کے سٹی پولیس چیف ایڈیشنل انسپکٹر جنرل خواجہ خالد فاروق کو ہٹا کر ان کی جگہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل انور ورک کو سٹی پولیس چیف مقرر کردیا ہے جبکہ لاہور کے ڈی آئی جی آپریشنز عامر ذوالفقار کی جگہ آفتاب چیمہ کو تعینات کردیا گیا ہے۔ پولیس میں انتظامی تبدیلیوں کو وکلا ء کے قتل اور شہر میں سٹریٹ کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ پولیس کے اعداد وشمار کے مطابق لاہور شہر میں سنہ دو ہزار چھ میں چھ سو ایک افراد قتل کیے گئے جبکہ اس سے گزشتہ سال سنہ دو ہزار پانچ میں قتل کیے جانے والے افراد کی تعداد پانچ سو سینتیس تھی۔ گزشتہ سال اکتیس افراد ایسے تھے جنہیں ڈکیتی کی وارداتوں میں مزاحمت کرنے پر ہلاک کردیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں آٹھ قتل: مقامی سیاست کا شاخسانہ12 January, 2007 | پاکستان ججوں کی ہلاکت: فیصلہ متوقع23 December, 2006 | پاکستان صحافی قتل، حادثہ میں 10 ہلاک 15 September, 2006 | پاکستان ڈی آئی جی بنوں ہلاک18 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||