BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 15 January, 2007, 14:02 GMT 19:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب میں وکلاء کی ہڑتال

لاہور میں وکلا کا احتجاج
لاہور میں وکلا کا احتجاج اور دعا
گزشتہ جمعہ کو لاہور میں دو وکلاء کے قتل کے خلاف احتجاج کے طور پر سوموار کو پنجاب کے کئی بڑے شہروں میں وکیلوں نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جبکہ حکومت نے لاہور کے پولیس سربراہ کو تبدیل کردیا ہے۔

بارہ جنوری کی صبح لاہور میں ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل عارف بھنڈر کو ان کے چھ ساتھیوں سمیت قتل کردیا گیا تھا جبکہ ان کے قتل پر احتجاج کرنے والے ایک وکیل نیاز سندھو کو بھی شام کو گولی مار دی گئی تھی۔

سالانہ وارداتیں
 لاہور شہر میں سنہ دو ہزار چھ میں چھ سو ایک افراد قتل کیے گئے جبکہ اس سے گزشتہ سال سنہ دو ہزار پانچ میں قتل کیے جانے والے افراد کی تعداد پانچ سو سینتیس تھی
پولیس کے اعداد و شمار

سوموار کو لاہور میں ماتحت عدالتوں میں وکلاء کے بائیکاٹ کا مسلسل تیسرا دن تھا۔ وکلاء نے جمعہ اور ہفتہ کو بھی ماتحت عدالتوں کا بائیکاٹ کیا تھا۔

سوموار کو ماتحت عدالتوں کے ساتھ ساتھ لاہور ہائی کورٹ میں بھی وکلاء نے آدھے دن کے لیے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔

پنجاب کے دوسرے شہروں گوجرانوالہ، فیصل آباد اور ملتان میں بھی وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔

لاہور میں وکیلوں نے احتجاجی جلوس نکالا جو ایوان عدل سے شروع ہوکر پنجاب اسمبلی تک گیا جہاں وکلاء نے کچھ دیر دھرنا دیے رکھا۔

عارف بھنڈر کا جنازہ
لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر عمران مسعود نے اعلان کیا ہے کہ لاہور میں قتل کے ملزموں کی گرفتاری تک وکلاء کا احتجاج مسلسل جاری رہے گا۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ وہ تین دنوں میں ملزموں کو گرفتار کرے۔

دوسری طرف پنجاب حکومت نے لاہور پولیس میں اعلیٰ سطحی انتظامی تبدیلیاں کی ہیں۔

حکومت نے لاہور کے سٹی پولیس چیف ایڈیشنل انسپکٹر جنرل خواجہ خالد فاروق کو ہٹا کر ان کی جگہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل انور ورک کو سٹی پولیس چیف مقرر کردیا ہے جبکہ لاہور کے ڈی آئی جی آپریشنز عامر ذوالفقار کی جگہ آفتاب چیمہ کو تعینات کردیا گیا ہے۔

پولیس میں انتظامی تبدیلیوں کو وکلا ء کے قتل اور شہر میں سٹریٹ کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔

پولیس کے اعداد وشمار کے مطابق لاہور شہر میں سنہ دو ہزار چھ میں چھ سو ایک افراد قتل کیے گئے جبکہ اس سے گزشتہ سال سنہ دو ہزار پانچ میں قتل کیے جانے والے افراد کی تعداد پانچ سو سینتیس تھی۔

گزشتہ سال اکتیس افراد ایسے تھے جنہیں ڈکیتی کی وارداتوں میں مزاحمت کرنے پر ہلاک کردیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
ججوں کی ہلاکت: فیصلہ متوقع
23 December, 2006 | پاکستان
صحافی قتل، حادثہ میں 10 ہلاک
15 September, 2006 | پاکستان
ڈی آئی جی بنوں ہلاک
18 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد