ججوں کی ہلاکت: فیصلہ متوقع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں دہشت گردی کی ایک خصوصی عدالت نے اس مشہور مقدمہ کی سماعت مکمل کر لی ہے جس میں سیالکوٹ جیل میں یرغمال بنائے جانے والے چار جج پولیس فائرنگ کے دوران ہلاک ہوگئے تھے۔ اس مقدمہ میں ایک ڈی آئی جی اور دو ضلعی پولیس افسروں سمیت پچیس افراد کو سنگین فوجداری دفعات کا سامنا ہے۔ گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی کے جج مستقیم احمد نے اشارہ دیا ہے کہ سنیچر کو اس مقدمہ کا فیصلہ سنایا جاسکتا ہے۔ یہ واقعہ کوئی ساڑھے تین برس قبل پیش آیا تھا جب سیالکوٹ جیل کے قیدیوں نے معائنےپر آئے ججوں کو یرغمال بنا لیا اور پھر پولیس کی فائرنگ اور جوابی فائرنگ سے چار جج ہلاک ہوئے جبکہ انہیں یرغمال بنانے والے پانچ قیدی بھی مارے گئے۔ پولیس نے اس وقت کے سیشن جج محمد یوسف اوجلہ کے بیان پر مقدمہ درج کیا جو بعد میں مقدمہ قتل میں تبدیل ہوگیا۔ اس مقدمہ میں ڈی آئی جی پولیس دو ضلعی پولیس افسروں ایلیٹ فورس کے ایک انسپکٹر اور ایس ایچ او سمیت پندرہ پولیس اہلکاروں،جیل سپرنٹنڈنٹ سمیت جیل کے سات اہلکار اور مقامی اسپتال کے ایک ڈاکٹر کو نامزد کیا گیا۔ استغاثہ کا کہنا ہے پولیس نے فائرنگ کرنے کا غلط فیصلہ کیا تھا اور اسی کے باعث ہلاکتیں ہوئیں۔ اس مقدمہ کے وکیل استغاثہ ایک مقتول جج کے والد غلام عباس بخاری ہیں انہوں نے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں بحث کو سمیٹتےہوئے پولیس پر ناقص تفتیش کرنے اور حقائق کو ضائع کرنے کے الزام لگائے۔ انہوں نے کہا کہ جائے وقوعہ سے ایسی گولیوں کے خول ملے ہیں جو ایلیٹ فورس اور پولیس استعمال کرتی ہے اور جو وکیل استغاثہ کے بقول اس بات کی شہادت ہے کہ ہلاکتیں پولیس کی فائرنگ سے ہوئی تھیں۔ وکیل استغاثہ کا کہنا ہے کہ پولیس کو پیغام بھجوایا گیا تھا کہ وہ ہائی کورٹ کے جج اور سیشن جج کی اجازت کے بغیر آپریشن نہ کریں اور اگر ضرورت پڑے تو فوجی کمانڈوز کے ذریعے آپریشن کروایا جائے لیکن استغاثہ کے بقول ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس گوجرانوالہ ملک اقبال نے ہدایات کی خلاف ورزی کرتےہوئے آپریشن کیا اور جج ہلا ک ہوئے۔ ڈی آئی جی ملک اقبال نے اعلی عدالت سے اپنی ضمانت کروالی تھی ان کا موقف ہےکہ ان کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے اور انہوں نے اس وقت کے حالات کے مطابق اپنی سوچ کے تحت بہترین فیصلہ کیا تھا اور ان کے بقول ایسا نہ کرنے کی صورت میں زیادہ بے گناہ انسانوں کی جان جاسکتی تھی۔ وکیل صفائی کا کہنا ہے کہ یہ ریسکیو آپریشن تھا اور کوئی کلنگ آپریشن نہیں تھا ان کا کہنا ہے کہ ملزمان نے بیالیس عورتوں اور بچوں سمیت بے گناہ افراد کو یرغمال بنالیاتھا اور ان کی جانیں خطرے میں تھیں جو اس پولیس آپریشن کے نتیجےمیں بچ گئیں۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جمعہ کو دونوں اطراف کے وکلاءنے اپنی اپنی بحث کو سمیٹا جس کے بعد انسداد دہشت گردی کے جج مستقیم احمد نے عندیہ ظاہر کیا کہ سنیچر کو اس اہم مقدمہ کا فیصلہ سنایا جاسکتاہے۔ | اسی بارے میں سیالکوٹ: عدالت سے چار قیدی فرار20 October, 2003 | پاکستان جیکب آبادجیل میں قیدیوں کا احتجاج29 October, 2004 | پاکستان سرگودھا جیل میں ہنگامہ، 9 زخمی03 September, 2004 | پاکستان قیدیوں کا کارنامہ 01 July, 2004 | پاکستان ’جوانی تو جیل میں کٹ گئی‘04 November, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||