گدھا زدوکوب:اپیل سماعت کیلیےمنظور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائی کورٹ نے ایک گدھے کو زدوکوب کرنے کے سلسلے میں ایک زیریں عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل سماعت کے لیے منظور کرلی ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق پیر کو لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شیخ عبدالرشید نے ضلع خوشاب کے علاقے نورپور تھل کے مکیں نگاہ حسین کی اپیل پر اس کے ہمسائے محمد رمضان کو عدالتی نوٹس جاری کردیا۔ نورپور تھل کے تھانے میں درج ہونے والی ایف آئی آر کے مطابق ملزم محمد رمضان نے نگاہ حسین کے گدھےکو زخمی کیا تھا۔ یہ گدھا نگاہ حسین نے حال ہی میں چھ ہزار روپے میں خریدا تھا اور ایف آئی آر میں اسے’فیملی ڈنکی‘ کا نام دیا گیا ہے۔ نگاہ حسین نے واقعہ کی تفتیش کرنے والے مجسٹریٹ کے روبرو ویٹرنری ڈاکٹر کی رپورٹ بھی پیش کی جس میں تصدیق کی گئی ہے کہ گدھے کو شدید ضربات پہنچائی گئی ہیں۔
تاہم مجسٹریٹ نے محمد رمضان کے خلاف یہ مقدمہ اس بنیاد پر خارج کردیا کہ مدعی نگاہ حسین نے گدھے کو عدالت میں پیش نہیں کیا اس لیے عدالت تاہم نگاہ حسین کا موقف یہ ہے کہ زخمی گدھے کے دفاع میں عدالت میں جو میڈیکل سرٹفیکیٹ پیش کیا گیا وہ ایک کافی ثبوت ہے۔ جہاں تک اس اعتراض کا تعلق ہے کہ گدھا ذاتی حیثیت میں عدالت کے روبرو کیوں نہیں لایا گیا تو نگاہ حسین کا کہنا ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے کیونکہ گدھا اپنے دفاع میں کچھ کہنے سے قاصر ہے۔ نگاہ حسین نے لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی ہے کہ دستیاب ثبوت اور شواہد کی بنیاد پر مقدمے کا فیصلہ کیا جائےاور ملزم رمضان کی بریت پر نظرثانی کی جائے۔ عدالت نے ملزم رمضان کو نوٹس جاری کردیا ہے۔
اس سے قبل صوبہ سندھ کے قصبے پنگریو میں بھی ایک گدھا اس وقت وجہ تنازعہ بن گیا جب شدید گرمی کے سبب اسکے مالک نے اسے ایک دوکان سے سیون اپ خرید کر پلادی۔ بوتل پلانے پر دوکاندار مشتعل ہوگیا۔ جس پر تو تو میں میں بڑھ کر لڑائی میں تبدیل ہوگئی اور گدھا ریڑھی والوں نے دوکان پر پتھراؤ کیا۔ پولیس نے امنِ عامہ میں خلل ڈالنے کے الزام میں گدھے کے مالک اور دو کاندار کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||