پنجاب میں پولیس پر ایک اور حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پنجاب میں پولیس کے ایک ڈپٹی انسپکٹر جنرل کو فائرنگ کرکے زخمی کردیا گیا ہے۔ پولیس نے اسے راہزنی کی ایک واردات قرار دے کر نامعلوم افراد کے خلاف تعزیرات پاکستان کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔ پولیس ترجمان کے مطابق تاحال ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جاسکا تاہم ان کی گرفتاری کے لیے کوشش کی جارہی ہے۔ پولیس کے مطابق ڈی آئی جی اتوار کی رات لبرٹی مارکیٹ میں ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور سے نکل کر اپنی کار کی جانب جارہے تھے جب مبینہ طور پر دو موٹرسائیکل سواروں نے ان سے ان کا بٹوہ اور موبائل فون چھین لیا جبکہ مزاحمت کرنے پر ایک ملزم نے ان کی پشت پر فائر کیا۔
مقامی پولیس نے اسے سٹریٹ کرائم کا واقعہ قرار دیا ہے۔ پولیس کے اعداد و شمارکے مطابق گزشتہ ایک دو برس میں کراچی اور لاہور میں سٹریٹ کرائم میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ لاہور میں گزشتہ مہینوں کے دوران ایسے چند واقعات ہوچکے ہیں جن کا نشانہ پولیس افسر بنے اور انہیں سٹریٹ کرائم یا ڈکیتی چوری قرار دیا گیا۔ گلبرگ میں ایک زیر تربیت اسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس کو گولی ماری گئی اور ایس ایچ او ماڈل ٹاؤن سے ان کی گاڑی چھینی گئی۔ اس کے علاوہ قصور میں تعینات ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کے گھر پر لاہور میں ڈکیتی کی واردات ہوئی۔ لاہور کے ایڈیشنل آئی جی پولیس خواجہ خالد فاروق کی ہمشیرہ کے گھر نقب زنی کی واردات ہوچکی ہے۔ لاہور کے علاوہ سرحد اور بلوچستان میں بھی پولیس افسروں پر حملے ہوچکے ہیں گذشتہ مہینے ڈی آئی جی بنوں عابد علی اور ان کے گن مین کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا۔ ان کی ہلاکت سے چند دن پہلے بنوں میں ہی ایک پولیس اہلکار کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا تھا جسے ڈی آئی جی عابد علی نے ایک خود کش حملہ قرار دیا تھا۔ | اسی بارے میں ڈي آئی جی قتل کا کوئی سراغ نہیں 20 December, 2006 | پاکستان 9 سال سے مطلوب، ہفتے میں گرفتار28 December, 2006 | پاکستان اسلام آباد میں سینئر صحافی قتل01 November, 2006 | پاکستان ایس پی سمیت 5 افسران گرفتار 09 August, 2006 | پاکستان ڈی آئی جی بنوں سپردِ خاک 19 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||