BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 10 October, 2006, 18:57 GMT 23:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
23 افراد ہلاک: اورکزئی لڑائی بند

جرگہ عارضی جنگ بندی کرانے میں بھی ناکام رہا
پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں آٹھ دن کے دوران 23 افراد کی ہلاکت کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مداخلت کے بعد فوری جنگ بندی ہو گئی ہے اور فریقین کو الگ کردیا گیا ہے۔

گزشتہ روز قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے مزار کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد اب حالات معمول پر آنے شروع ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف قبائلی جرگے نے علاقے میں مستقل امن کے قیام اور فریقین کے درمیان فوری جنگ بندی کرانے کےلیے اپنی کوششیں تیز کردی ہیں۔

لوئر اورکزئی ایجنسی کے صدر مقام کلایہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کرم ایجنسی کے سابق ممبران قومی اسمبلی و سینیٹ اور دیگر قبائلی مشیران پر مشتمل جرگہ نے منگل کو کلایہ میں شیعہ اور سنی رہنماؤں سے الگ الگ

شدید جانی نقصان کا خدشہ
 قانون نافذ کرنے والے ادارے بر وقت مداخلت نہ کرتے تو علاقے میں بڑا جانی و مالی نقصان ہونے کا خطرہ تھا

ملاقاتیں کیں اور ان سے علاقے میں مسقتل امن اور جنگ بندی کے حوالے سے مختلف آپشنز پرمذاکرات کیے۔ اگرچہ غیر اعلانیہ جنگ بندی کے باعث علاقے میں بدستور بے یقینی کی فضا قائم ہے اور فریقین بھی پہاڑوں پر مورچے سنبھالے ہوئے ہیں تاہم پولیٹکل حکام کو امید ہے کہ آئندہ دودنوں تک مقامی روایات کے مطابق (کانڑے) یعنی عارضی جنگ بندی کا اعلان ہوجائے گا جس کے بعد علاقے میں موجود تمام مورچے خالی کرالیے جائیں گے۔

اورکزئی ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ شیر عالم محسود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ علاقے میں سکیورٹی فورسز کو مکمل کنٹرول حاصل ہے اور ایک ہفتے سے جاری بھاری ہتھیاروں کی فائرنگ کا سلسلہ بند ہوگیا ہے۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ آئندہ چند روز تک حالات مکمل طور پر معمول پر آ جائیں گے۔

انہوں نے پیر اور اتوار کے روز لیڑی کے مقام پر فریقین کے مابین ہونے والی شدید لڑائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بر وقت مداخلت نہ کرتے تو علاقے میں بڑا جانی و مالی نقصان ہونے کا خطرہ تھا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پیر کی صبح ہی سے ایک فرقے کے درجنوں مسلح افراد نے قریب سے میاں انور شاہ مزار میں محصور دوسرے فریق کے حامیوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملے شروع کر دیے جس کی وجہ سے محصور افراد کمزو پڑ گئے اور قریب تھا کہ مزار مزاحمت کاروں کے ہاتھوں سے نکل جاتا تاہم اس دوران ملیشا فورسز نے مداخلت کرکے مزار کا کنٹرول خود اپنے ہاتھوں میں لیا جس کےبعد دونوں فریقوں کو وہاں سے ہٹا دیاگیا۔

28 ہلاک یا 50 ہلاک
 سرکاری اعداد وشمار کے مطابق جھڑپوں میں اب تک 28 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ غیر سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد پچاس کے قریب ہو سکتی ہے

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ صرف اتوار اور پیر کے روز ہونے والی لڑائی میں فریقین کے تئیس کے قریب افراد ہلاک بتائے جاتے ہیں اور مزار کے احاطے سے بھی کئی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ تاہم سرکاری ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق جھڑپوں میں اب تک 28 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ غیر سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد پچاس کے قریب ہو سکتی ہے۔

ادھر جنگ زدہ علاقے میں زندگی آہستہ آہستہ معمول پر آنی شروع ہوگئی ہے ۔ مقامی لوگوں نے ایک ہفتے کے مسلسل لڑائی کے بعد پہلی بارگھروں سے نکل کر قریبی بازاروں میں خریداری کی۔ تاہم دوسری طرف علاقے میں تمام تعلیمی ادارے تاحال بند ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ اگر پولیٹکل حکام لڑائی شروع ہوتے ہی برقت کارروائی کرتے تو اتنی ہلاکتیں نہ ہوتیں۔

اسی بارے میں
لشکر کے مبینہ کارکن گرفتار
04 October, 2006 | پاکستان
ٹانک:ایف سی کا اہلکار ہلاک
03 October, 2006 | پاکستان
’جاسوسی‘ کے شبہے میں قتل
28 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد