BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 October, 2006, 17:01 GMT 22:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اورکزئی کشیدگی:دو مزید ہلاک

فائرنگ
گزشتہ چھے دنوں سے دونوں فرقوں کے درمیان گولی باری جاری ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں دو فرقوں کے درمیان جاری فسادات کے دوران تازہ جھڑپوں میں مزید دو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں ۔

فسادات کے باعث لوگوں نے علاقے سے نقل مکانی بھی شروع کردی ہے۔

صوبائی دارلحکومت پشاور کے جنوب مغرب میں تقریبناً 150 کلومیٹر کے فاصلے پر واقعہ لوئر اورکزئی کا علاقہ لیڑی میں آج چھٹے روز بھی شدید لڑائی جاری رہی۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ متنازعہ میاں انور شاہ مزار میں محصور لوگوں اور اطراف میں رہنے والے قبائلی لوگوں کے درمیان ساری رات فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا جس میں مزید دو آفراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں ۔

عینی شاہدوں نے کہا کہ جمعہ اور سنیچر کی درمیانی رات دونوں فریقوں کی جانب سے پہاڑوں پر بنے ہوئے مورچوں سے بھی ایک دوسرے پر بڑے پیمانے پرحملے کیئےگئے۔

کلایہ کے ایک رہائشی مظفرخان نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ رات قبائلیوں کی طرف سے ایک دوسرے پراسلحے سے حملے کیئےگئےجس سے سارا علاقہ لرز کر رہ گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر لڑائی فوری طورپر بند نہیں کی گئی تو علاقے میں بڑے پیمانے پر اموات ہوسکتی ہیں۔

ادھر پولیٹیکل انتظامیہ

 کلایہ کے ایک رہائشی مظفرخان نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ رات قبائلیوں کی طرف سے ایک دوسرے پراسلحے سے حملے کیئےگئےجس سے سارا علاقہ لرز کر رہ گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر لڑائی فوری طورپر بند نہیں کی گئی تو علاقے میں بڑے پیمانے پر اموات ہوسکتی ہیں۔
نے پشاور کےصحافیوں کی ایک ٹیم کو اورکزئی ایجنسی میں داخل ہونے سے روک دیا ہے ۔

عرب ٹی وی ’الجزیرہ’ اور ’بی بی سی اردو’ سے تعلق رکھنے والے پشاور کے تین صحافیوں پر مشتمل ایک ٹیم اورکزئی ایجنسی میں چند دنوں سے جاری فرقہ ورانہ فسادات کی کوریج کے لیئے سنیچر کی صبح جب پشاور سے اورکزئی کے علاقے بویہ چیک پوسٹ پہنچی تو وہاں پر موجود ملیشاء اہلکاروں نے انہیں آگے ایجنسی کے حدود میں داخل ہونے سے روک دیا۔

صحافیوں کی درخواست کے باوجود انہیں قبائلی علاقے کے حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ ملیشاء اہلکاروں کا موقف تھا کہ اعلی حکام نےانہیں سختی سے ہدایت کی ہے کہ میڈیا کے کسی بھی کارکن کو اس چیک پوسٹ سے آگے جانے کی اجازت نہیں ہے۔

دریں اثناء لوئر اورکزئی کے صدر مقام کلایہ اور اطراف میں واقع علاقوں سے لوگوں نے لڑائی کے شدت کی وجہ سے نقل مکانی شروع کردی ہے۔ کلایہ سے چالیس کلومیٹر دور بندوبستی علاقہ کچا پکا پہنچنے والے درجنوں افراد نے بی بی سی کو بتایا کہ لیڑی میں بدستور گھمسان کی لڑائی ہورہی ہے جبکہ فریقین مورچوں سے بھی ایک دوسرے پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملے کررہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ لوئراورکزئی کےعلاقےگوئین، بر باک، سنگھڑانی ، شنا ناکہ، حیدرخیل، فیروزخیل، برامدخیل، منی خیل اور میرہ زئی کے علاقے خالی ہوگئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی لوگ جنگ زدہ علاقوں سے کوہاٹ، ہنگو اور دیگر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہورہیں ہیں۔

ادھر علاقےمیں بدستور خوف وہراس کی فضا قائم ہے۔ سکول اور بازار بند ہیں جبکہ بعض علاقوں میں کھانے پینے کے اشیاء کی قلت بھی پیدا ہوگئی ہے۔
پولیٹکل حکام کا کہنا ہے کہ کرم ایجنسی کا ایک نمائندہ اور غیر جانب دار جرگہ جنگ بندی کرانے کے کوششوں میں لگا ہوا ہے تاہم انہیں ابھی تک کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے جبکہ چھ دن گزرنے کے باوجود انتظامیہ لڑائی روکنے میں بے بس نظر آرہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد