BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 October, 2006, 02:44 GMT 07:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اورکزئی ایجنسی شیعہ سنی فسادات

فائل فوٹو
جھڑپ میں بھاری اسلحہ اتعمال کیا گیا (فائل فوٹو)
پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں ایک مزار کے تنازعے پر دو مذہبی فرقوں کے مابین فسادات میں کم سے کم ایک شخص ہلاک اور سات سے زائد افراد زحمی ہوگئے ہیں۔

دن کے وقت شروع ہونے والی یہ لڑائی رات جاری رہی اور بھاری اسلحہ کے آزادانہ استعمال کی وجہ سے ہلاکتوں اور زخمی ہونے والوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

پولیٹکل حکام کے مطابق لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب ایک فرقے کے کچھ مسلح آفراد نے پیر کی صبح لوئر اورکزئی ایجنسی کے ہیڈ کوارٹرز کلایہ میں لیڑی کے مقام پر واقع متنازعہ مزار ’میاں زیارت‘ میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر مخالف فرقے کے افراد نے مزار پر ہلابول دیا اور فائرنگ شروع کردی۔

کلایہ میں عینی شاہدوں اور ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ لڑائی میں اب تک ایک شخص ہلاک اور سات سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو کلایہ اور ہنگو کے ہسپتالوں میں داخل کرادیا گیا ہے۔

ایک عینی شاہد سردار نے کلایہ سے ٹیلی فون پر بی بی سی کو بتایا کہ دوپہر کو شروع ہونے والی لڑائی میں دونوں طرف سے بھاری اسلحہ مارٹر گن اور راکٹ لانچر استعمال کیئے جا رہے ہیں جس کے باعث خدشہ ہے کہ ہلاکتوں اور زخمی ہونے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جو لوگ مزار کے اندر داخل ہوگئے تھے ان کی جانب سے مزاحمت ہو رہی ہے اور وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں پورے علاقے میں سنائی دیتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فسادات دن کے وقت شروع ہوئے تھے لیکن حکومت کی جانب سے ان کو روکنے کےلیئے تاحال کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا ہے۔

ادھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مزار پر پہلے سے تعنیات ملیشاء کے تین اہلکار بھی فائرنگ کی زرد میں آکر زخمی ہوئے ہیں تاہم حکام سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

لوئر اورکزئی کا علاقہ لیڑی کے مقام پر واقع ’میاں زیارت‘ کا مزار دونوں مذہبی فرقوں کے مابین ایک متازعہ علاقہ تصور کیا جاتا ہے جس پر کئی سالوں سے تنازعہ چلا آرہا ہے اور جس میں اب تک دونوں طرف سے درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے حالات کو کنٹرول کرنے کےلیئے مزار پر ملیشاء فورسز کی ایک مستقل چوکی قائم کی تھی اور متنازعہ علاقہ میں داخلے کا دونوں فرقوں پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

اسی بارے میں
باڑہ جھڑپوں میں تین ہلاک
21 July, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد