BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 July, 2006, 00:08 GMT 05:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باڑہ جھڑپوں میں تین ہلاک

 باڑہ
باڑہ میں دو مذہبی گروہوں کے مابین خون ریزجھڑپوں میں درجنوں لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں دو اسلامی گروپوں کے مابین تصادم میں تین افراد کے ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کے بعد وہاں پر حالات ایک بار پھر کشیدہ ہوگئے ہیں۔

بدھ کے روز خیبر ایجنسی کے تحصیل باڑہ سے پندرہ کلومیٹر دور واقع دورافتادہ علاقے مانڑے میں اس وقت تصادم ہوا جب حکومت مخالف تنظیم لشکر اسلامی نے حال ہی میں منظر عام پر آنے والی ایک اور اسلامی گروپ انصارالاسلام کے درجنوں رضاکاروں کو یرغمال بنانے کی کوشش کی۔

اس موقع پردونوں گروپ میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں انصار الاسلام کے دو جبکہ لشکر اسلامی کا ایک رضاکار ہلاک ہوا۔

جھڑپ کے دوران لشکر اسلامی نے مخالف تنظیم کے کئی کارکنوں کو یرغمال بھی بنایا۔

مقامی لوگ اس تصادم کی وجہ علاقے میں ان مذہبی گروپوں کی جانب سے اجارداری قائم کرانے اور ایک دوسرے کے خلاف ایف ایم ریڈیو کے ذریعے سے بیان بازی بتائی جاتی ہے۔

لشکر اسلامی کے ترجمان مصری گل نے بی بی سی کو فون کرکے بتایا کہ انصارالاسلام کو حکومت نے ہمارے خلاف کھڑا کیا ہے اور یہ لوگ علاقے میں شر پھیلانا چاہتے ہیں۔ ’ہم نے کئی دفعہ ان لوگوں کو جرگے کے ذریعے سے بھی سمجھایا لیکن یہ مخالفت پر اتر آتے ہیں‘۔

ادھر لشکر اسلامی کے کمانڈر منگل باغ نے گزشتہ روز اپنے ایف ایم ریڈیو نشریات میں باڑہ سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی مولانا خلیل الرحمان اور فاٹا کے سینٹر حمید اللہ جان آفریدی کے گھروں کو بموں سے اڑانے کی دھمکی دی تھی جس کے بعد پولیٹکل انتظامیہ نے ان کے گھروں پر سیکورٹی دستے تعینات کردیئے تھے۔

حال ہی میں منظر عام پر آنے والی اسلامی تنظیم انصار الااسلام کے بارے میں مقامی لوگوں کی رائے ہے کہ اسے مقامی انتظامیہ کی حمایت حاصل ہے اور اسے لشکراسلامی کا اثر ورسوخ ختم کرنےکےلیئے بنایا گیا ہے۔

تاہم انصار الاسلام کے ترجمان عزت اللہ اس بات کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی تنظیم کا علمائے دیوبند سے تعلق ہے اور وہ علاقے میں امن چاہتے ہیں۔

واضع رہے کہ پشاور سے متصلہ قبائلی علاقہ باڑہ میں اس سال مارچ کے مہینے میں انہی گروپوں کے دو مذہبی پیشواؤں مفتی منیر شاکر اور پیر سیف الرحمان کے مسلح حامیوں کے مابین خون ریز جھڑپیں ہوئی تھیں جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں
مذہبی گروہ پر کارروائی معطل
25 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد