باڑہ بازار: اتوار سے ایک بار پھر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گورنر سرحد لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ علی محمد جان اورکزئی نے سنیچر کو قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں باڑہ بازار فوری طور پر دوبارہ کھولنے کا حکم جاری کیا ہے۔ توقع ہے کہ یہ بازار ایک ماہ سے زائد کی بندش کے بعد اتوار سے دوبارہ کھلے گا۔ ایک ماہ قبل منگل باغ کی سربراہی میں ایک مقامی گروہ کی جانب سے امن عامہ کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کی ایک کوشش کے بعد حکومت نے بازار بند کر دیا تھا۔ گروپ نے اس موقع پر علاقے میں اغوا، ڈکیتی اور دیگر جرائم کے لیئے اسلامی سزاؤں کا اعلان بھی کیا تھا۔ سنیچر کو پشاور میں جاری کیئے جانے والے ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ گورنر نے یہ فیصلہ چند روز قبل گورنر ہاوس پشاور میں ایک جرگے کی درخواست پر کیا ہے۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ قدم حکومت نے اپنی مصالحت اور بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کی پالیسی اور مقامی رسم و رواج کے تحت اٹھایا ہے۔ تاہم مقامی انتظامیہ اور قبائلی عمائدین کے درمیان
مقامی حکام نے واضع کیا کہ امن عامہ برقرار رکھنا مقامی انتظامیہ کی ذمہ داری ہوگی۔ اس مقصد کے لیئے بازار کے اردگرد چھ نئی حفاظتی چوکیاں بھی قائم کی جائیں گی۔ بازار میں کاروبار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے دس جون کو بند کیئے جانے کے بعد سے انہیں کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ باڑہ بازار علاقے میں تھوک سامان کی ایک بڑی منڈی کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ یہاں کے تاجر حکام سے اسے دوبارہ کھولنے کا مطالبہ شروع سے کر تے آ رہے تھے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بازار دوبارہ کھولنے کا فیصلہ قبائلی عمائدین پر اس کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ حکومت نے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ وہ باڑہ بازار کو ترقی دے کر اسے تمام ضروری سہولیات بھی مہیا کرے گی۔ | اسی بارے میں باڑہ: کرفیو ختم، کشیدگی برقرار 11 June, 2006 | پاکستان سی ڈیز، وی سی آر اورخواتین پرپابندی 10 June, 2006 | پاکستان باڑہ اسلامی مرکز پر حکومتی کنٹرول01 April, 2006 | پاکستان باڑہ سے لوگوں کی نقل مکانی29 March, 2006 | پاکستان کشیدگی برقرار، بازار بند، 25 ہلاک28 March, 2006 | پاکستان باڑہ میں فسادات اور ہلاکتیں28 March, 2006 | پاکستان مذہبی گروہ پر کارروائی معطل25 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||