BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 April, 2007, 09:51 GMT 14:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پارہ چنار:لڑائی پھیل گئی، فوج طلب

ہنگو(فائل فوٹو)
پاکستان کے بعض علاقوں میں تواتر سے فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات رونما ہوئے ہیں(فائل فوٹو)
پارہ چنار سے ملنے والی آخری اطلاعات تک لڑائی اردگرد کے علاقوں میں بھی پھیل گئی ہے اور فریقین ایک دوسرے کے خلاف اسلحے کا آزانہ استعمال کر رہے ہیں۔

اس سے قبل پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں حکام نے صدر مقام پارہ چنار میں دو گروہوں کے درمیان فائرنگ کے واقع کے بعد غیرمعینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا تھا۔

پشاور میں سرکاری اہلکار ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق کر رہے ہیں تاہم پارہ چنار میں ہسپتال کے ذرائع تین افراد کے ہلاک اور تیرہ کے زخمی ہونے کی اطلاع دے رہے ہیں۔

حالات کشیدہ
 پارہ چنار میں انیس سو چھیاسی کے بعد سے فرقہ ورانہ تشدد کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ بعض مبصرین اس کی وجہ پاکستان کی افغان پالیسی قرار دیتے ہیں۔ اس شہر کے حالات اب اتنے کشیدہ رہنے لگے ہیں کہ اب وہاں ایک چھوٹا سا واقعہ بھی قبائلی جنگ کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔

پشاور میں امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے اس واقعے کے خلاف پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا ہے۔

اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے ایک رہنما حاجی علی اکبر نے اس صورتحال کی ذمہ داری مقامی انتظامیہ پر ڈالی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے انتظامیہ کو پیشگی اطلاع دی تھی۔ ان سے ٹیلیفون پر بات کے دوران پس منظر میں راکٹ چلنے کی آٰواز سنی جاسکتی تھی۔

مقامی اہلکاروں نے بتایا تھا کہ کرفیو سے پہلے شہر میں فرقہ وارانہ جھڑپ ہوئی تھی۔ جس میں دس افراد زخمی ہوئے تھے۔ زخمیوں کو ایجنسی ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔

وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تین افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔

شہر میں کرفیو پر عمل درآمد کے لیے فرنٹیر کور کے دستے بھی بھیجے دیے گئے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ دونوں فرقوں میں ربیع الاول سے تناؤ کا آغاز ہوا تھا۔

پارہ چنار میں انیس سو چھیاسی کے بعد سے فرقہ ورانہ تشدد کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ بعض مبصرین اس کی وجہ پاکستان کی افغان پالیسی قرار دیتے ہیں۔ اس شہر کے حالات اب اتنے کشیدہ رہنے لگے ہیں کہ اب وہاں ایک چھوٹا سا واقعہ بھی قبائلی جنگ کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد