پارہ چنار:لڑائی پھیل گئی، فوج طلب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پارہ چنار سے ملنے والی آخری اطلاعات تک لڑائی اردگرد کے علاقوں میں بھی پھیل گئی ہے اور فریقین ایک دوسرے کے خلاف اسلحے کا آزانہ استعمال کر رہے ہیں۔ اس سے قبل پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں حکام نے صدر مقام پارہ چنار میں دو گروہوں کے درمیان فائرنگ کے واقع کے بعد غیرمعینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا تھا۔ پشاور میں سرکاری اہلکار ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق کر رہے ہیں تاہم پارہ چنار میں ہسپتال کے ذرائع تین افراد کے ہلاک اور تیرہ کے زخمی ہونے کی اطلاع دے رہے ہیں۔
پشاور میں امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے اس واقعے کے خلاف پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا ہے۔ اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے ایک رہنما حاجی علی اکبر نے اس صورتحال کی ذمہ داری مقامی انتظامیہ پر ڈالی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے انتظامیہ کو پیشگی اطلاع دی تھی۔ ان سے ٹیلیفون پر بات کے دوران پس منظر میں راکٹ چلنے کی آٰواز سنی جاسکتی تھی۔ مقامی اہلکاروں نے بتایا تھا کہ کرفیو سے پہلے شہر میں فرقہ وارانہ جھڑپ ہوئی تھی۔ جس میں دس افراد زخمی ہوئے تھے۔ زخمیوں کو ایجنسی ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔ وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تین افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔ شہر میں کرفیو پر عمل درآمد کے لیے فرنٹیر کور کے دستے بھی بھیجے دیے گئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں فرقوں میں ربیع الاول سے تناؤ کا آغاز ہوا تھا۔ پارہ چنار میں انیس سو چھیاسی کے بعد سے فرقہ ورانہ تشدد کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ بعض مبصرین اس کی وجہ پاکستان کی افغان پالیسی قرار دیتے ہیں۔ اس شہر کے حالات اب اتنے کشیدہ رہنے لگے ہیں کہ اب وہاں ایک چھوٹا سا واقعہ بھی قبائلی جنگ کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ | اسی بارے میں ہنگو: امام بارگاہ پر راکٹ حملہ30 January, 2007 | پاکستان ڈیرہ اسماعیل خان میں فرقہ وارانہ تناؤ10 March, 2007 | پاکستان سال بعد بھی ملزموں کا سراغ نہیں31 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||