BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 June, 2006, 16:25 GMT 21:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرم ایجنسی تصادم، پندرہ ہلاک

مزدور
کرم ایجنسی میں پانی کا مسئلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں دو قبائل کے درمیان پانی کے مسئلہ پر خونریز لڑائی کے بعد جنگ بندی بدستور قائم ہے۔

مقامی حکام نے اس لڑائی میں چودہ افراد کے ہلاک جبکہ پینتس کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔ مقامی قبائلی پندرہ سے زیادہ افراد کے ہلاک ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔

کرم ایجنسی کے صدر مقام پارہ چنار سے تقریباً دس کلومیٹر دور یہ لڑائی ملی خیل اور بنگش قوم کی شاخ بشہرہ کے درمیان ایک ندی سے پانی کی ترسیل پر پیر کی صبع شروع ہوئی تھی۔

افغان سرحد پر واقعہ اکثر قبائلی علاقے خشک پہاڑی خطوں پر مشتمل ہیں تاہم کرم ایجنسی وہ علاقہ ہے جہاں کے لوگوں میں اکثریت کا انحصار زراعت پر ہے۔

اسی لیئے اسے پھلوں، پھولوں اور سبزیوں کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے۔

تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے دباؤ کی وجہ سے تاہم قدرتی وسائل جیسے کہ پانی کی کمی بڑے مسئلے کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔

مصالحتی کوششیں پیر کی رات تک مفید ثابت نہیں ہوسکی تھیں۔ تاہم منگل کے روز مقامی انتظامیہ نے قبائلی جرگے کے ذریعے فریقین کو جنگ بندی پر رضامند کر لیا۔ حکام نے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیئے نیم فوجی ملیشیا کو بھی علاقے میں تعینات کر دیا تھا۔

اس عارضی جنگ بندی کو حتمی شکل دینے کے لیئے جرگے کی کوششیں جاری ہیں۔

اس ندی پر دونوں قبائل کے درمیان یہ ایک دیرینہ تنازعہ بتایا جاتا ہے۔ اس قضیئے کے حل کے لیئے ماضی میں بھی ایک جرگہ منعقد ہوا تھا تاہم فریقین کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے وہ ناکام ہوگیا تھا۔

پشاور میں گورنر سرحد لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ علی محمد جان اورکزئی کی جانب سے جاری کیئے گئے ایک بیان کے مطابق وہ آج تمام دن اس مسئلہ پر مقامی انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں رہے۔ گورنر نے پولیٹکل انتظامیہ کو اس واقعے کی وجوہات معلوم کرکے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔

بیان کی دلچسپ بات یہ وضاحت ہے کہ اس قضیئے کے حل کے لیئے مقامی انتظامیہ کو کلیدی کردار دیا گیا جبکہ سیکورٹی فورسز نے پس پشت رہ کر تعاون کیا۔ اس کے علاوہ پولیٹکل حکام اور سیکورٹی فورسز کی جانب سے اقدامات کے فیصلے کا اختیار پولیٹکل ایجنٹ کو دیا گیا تھا۔

ادھر گورنر نے تمام قبائلی علاقوں کی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں ان مسائل اور تنازعات کی نشاندہی کریں جو کسی بھی وقت قبائلی تصادم کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس کا مقصد ان تنازعات کا پرامن حل تلاش کرنا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد