کرم ایجسنی: تصادم کیوں شروع ہوا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کہتے ہیں پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے صدر مقام پارا چنار کا نام چنار کے ایک ایسے قدآور درخت کی وجہ سے پڑا جس کی چھاؤں میں بیٹھ کر مقامی قبائلی اپنے تنازعات بات چیت کے ذریعے حل کیا کرتے تھے۔ اس خطے کو شاید اب اس صدیوں پرانے قیام امن کے طریقے کی پھر سے اشد ضرورت ہے۔ اس مرتبہ کشیدگی کی وجہ بارہ ربیع الاول کے موقع پر شہر میں اہل سنت کا روایتی جلوس بتایا جاتا ہے جو فریقین کے مابین موجودہ خونریزی کا باعث بنا۔ اہل تشیع کا الزام ہے کہ ماضی کے معاہدوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اس جلوس میں ان کے خلاف نعرہ بازی ہوئی اور ان کے عقائد کو نشانہ بنایا گیا۔ چند روز بعد اہل تشیع نے جب ایک جلوس نکالنے کی کوشش کی تو نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کردی جس سے پھر علاقے میں ایسی آگ بھڑک اٹھی جسے پوری طرح سے بجھانا مقامی انتظامیہ کے لیے مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ فوج بھی طلب ہوئی اور جنگی ہیلی کاپٹر بھی استعمال ہوئے لیکن صورتحال اب بھی حکام کے مکمل قابو میں نہیں آسکی ہے۔ کئی لوگ اس بات پر حیران ہیں کہ آخر کئی برسوں کے امن کو یکدم کس کی نظر لگ گئی۔ ہر کوئی کہتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک سازش کے تحت ہوا لیکن یہ سازش کس کی ہوسکتی ہے اس بارے میں کوئی کچھ حتمی انداز میں کہنے کی حالت میں نہیں۔ کوئی خفیہ اداروں اور کوئی انتہا پسند تنظیموں کا نام لیتا ہے لیکن وہ ایسا اس موقع پر کیوں کر رہے ہیں اس بارے میں کوئی بھی واضح نہیں۔ پاکستان کے دیگر علاقوں کی طرح کرم ایجنسی میں بھی اسی کی دہائی کے اواخر تک فرقہ وارانہ تشدد ناپید تھا۔ شیعہ سنی ایک ہی محلے میں ساتھ ساتھ رہتے تھے، امن تھا، بھائی چارہ تھا۔
لیکن کئی مبصرین کے خیال میں چند کلومیٹر کی دوری پر واقع افغانستان میں جاری جنگ کا اثر یہاں بھی ہوا۔ سرحد پار صوبہ خوست میں مجاہدین کو اسلحہ اور رقوم کی ترسیل کا دیگر راستوں کے علاوہ یہ بھی ایک اہم راستہ تھا۔ کرم ایجنسی قبائلی علاقوں میں اورکزئی کے علاوہ وہ علاقہ ہے جہاں شیعہ آبادی کافی زیادہ ہے۔ کہتے ہیں فوجی آمر ضیاالحق نے سنی مجاہدین کو ان شیعوں کے خلاف کھلی چھٹی دے رکھی تھی جو اس لڑائی کے لیے اپنا علاقہ استعمال نہیں ہونے دے رہے تھے۔ بیرونی امداد سے دونوں فرقوں کے مدرسے کھلے اور تلخی میں اضافہ ہوا جو آج بھی وقفے وقفے سے مار دھاڑ کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پارا چنار میں لڑائی کی ابتداء تو شاید فرقہ وارانہ وجوہات سے ہوتی ہے لیکن بعد میں یہ قبائلی جنگ کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ ابتدائی لڑائی کے برعکس اب بھی مختلف علاقوں میں جاری جھڑپوں کی وجہ قبائلی اور ذاتی دشمنیاں زیادہ بتائی جاتی ہیں۔ لیکن جس خطے میں شدت پسندی کا سیلاب روکے سے نہ رک رہا ہو اور جہاں ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کی دستیابی کوئی بڑا مسئلہ نہ ہو ایسے علاقے میں لڑائیاں کرم ایجنسی جیسی صورت ہی اختیار کرلیتی ہیں۔
تقریبًا پانچ لاکھ آبادی کے شہر پارا چنار میں ابھی تو کرفیو کو صرف چند دن ہوئے ہیں لیکن اس سے قبل اس طرح کی مشکل صورتحال سے کئی مرتبہ گزر چکا ہے۔ انیس سو چھیانوے میں دیواروں پر ہتک آمیز نعرہ بازی اس وقت نو روز تک فرقہ وارانہ لڑائی کا سبب بنی جس میں دو سو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ وہ برا وقت ابھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ تھا کہ ایک مرتبہ پھر انہیں اسی مشکل سے گزرنا پڑا۔ کرم ایجنسی تعلیم و ترقی کے اعتبار سے دیگر ایجنسیوں سے کافی آگے سمجھا جاتا ہے۔ یہاں خواندگی کی شرح چھ فیصد سے زیادہ ہے۔ یہی ترقی بعض لوگوں کے دل میں یہ شک ڈالتی ہے کہ تھوڑے تھوڑے عرصے کے بعد انہیں کیوں پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اب ایک مرتبہ پھر حکومت مقامی قبائلی جرگوں کی مدد سے جنگ بندی کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم اسے کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں مل رہی۔ پرانے ایک دو چنار کے درخت شاید ابھی بھی محفوظ ہوں۔ |
اسی بارے میں ’لڑائی کی شدت ناقابلِ بیان ہے‘10 April, 2007 | پاکستان پارہ چنار:لڑائی پھیل گئی، فوج طلب06 April, 2007 | پاکستان پارہ چنار: فرقہ وارانہ تصادم میں 8 ہلاک07 April, 2007 | پاکستان ’جھڑپیں بند نہ ہوئیں تو فوج استعمال کریں گے‘08 April, 2007 | پاکستان پاراچنار فسادات: ’امریکی ایجنڈہ ہے‘08 April, 2007 | پاکستان فریقین پر فوج کی گولہ باری09 April, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||