میڈیکل کالج کرم ایجنسی میں نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی فوجی حکومت کی جانب سے قبائلی علاقوں کے لیئے پہلے میڈیکل کالج کو کُرم ایجنسی سے پشاور منتقل کرنے کی تجویز پر مختلف عوامی حلقے ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ تاہم حکومت کا موقف ہے کہ قبائلی علاقوں میں سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے یہ کالج وہاں قائم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ حکومت پاکستان نے دو سال قبل قبائلی علاقوں میں میڈیکل اور انجینئرنگ کالج قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان میں میڈیکل کالج کرم جبکہ انجینئرنگ کالج باجوڑ میں قائم کرنے کی تجویز تھی۔ اس وقت کے گورنر سرحد افتخار حسین شاہ نے پارہ چنار میں میڈیکل کالج کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کالج کا بورڈ بھی نصب کر دیا گیا جبکہ ابتدائی کلاسیز کے لیئے عمارت کا تعین بھی کر دیا گیا تھا۔ لیکن اب حکومت کا کہنا ہے کہ کرم ایجنسی میں مناسب سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے وہاں میڈیکل کالج قائم نہیں کیا جاسکتا۔ اس پر قبائلی علاقوں کے عوام میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ٹرائیبل سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے میر افضل کا حکومتی موقف کے بارے میں کہنا تھا کہ اگر سہولیات کی کمی ہی وجہ تھی تو ماضی میں ڈیرہ اسماعیل، بنوں اور دیگر دورا فتادہ مقامات پر تعلیمی ادارے کیوں قائم کیئے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کالج کی تعمیر نہ ہونے سے ناصرف یہ علاقہ تعلیمی طور پر پسماندہ رہے گا بلکہ صحت کے اعتبار سے بھی اس کا کافی برا اثر پڑے گا۔ حکومت کا اس تنازعے کے بارے میں کہنا تھا کہ ابھی کالج پشاور منتقل کرنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے اور فی الحال یہ تجویز زیر غور ہے۔ قبائلی علاقوں کے لیئے حکومت کے ترجمان شاہ زمان خان نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں خدشہ ہے کہ کالج کے قبائلی علاقے میں قیام سے اعلی تعلیم یافتہ اساتذہ وہاں نہیں جائیں گے۔ دوسرا وہاں ہسپتال کی سہولت نہ ہونے کی وجہ کالج قائم نہیں ہوسکتا۔ پاکستان میں ماضی میں بھی ایسے اہم تعلیمی اداروں کے قیام کے مسلے پر کافی بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا جس میں انسانی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔ اس وقت کی ضرورت یہ ہے کہ حکومت کسی بھی فیصلے پر پہنچنے سے پہلے اس پر تمام فریقین کی بات بھی ضرور رکھے۔ | اسی بارے میں مسئلہ قبائلی انا کا28.09.2002 | صفحۂ اول جنگ افغان اور پاکستان کے قبائلی علاقے10.09.2002 | صفحۂ اول فوج قبائلی علاقےمیں کیسے پہنچی01.01.1970 | صفحۂ اول مزید پانچ افراد انتظامیہ کے حوالے16 January, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||