کرم: فائر بندی کی کوشش اور ہلاکتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی کی طرف سے تشکیل دیئے گئے ضلع ہنگو کے عمائدین پر مشتمل چالیس رکنی قبائلی جرگہ نے کرم ایجنسی کے فرقہ وارانہ فسادات سے متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر فریقین کے درمیان مستقل فائر بندی کے لیے مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔ ادھر اطلاعات کے مطابق گاؤں چار دیوار میں مسلح افراد نے حملہ کر کے پانچ افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق شیعہ مسلک سے بتایا جا رہا ہے۔ جرگہ میں متحارب سُنی اور شیعہ فرقوں کو مساوی نمائندگی دی گئی ہے۔ جرگہ کے ارکان امن و امان کے قیام کے لیے پارا چنار سمیت کرم ایجنسی کے ہر اس علاقے میں جائیں گے جہاں کچھ روز سے فرقہ وارانہ فسادات جاری ہیں اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد سو کے لگ بھگ بتائی جا رہی ہے۔ پہلے مرحلے میں جرگہ بدھ کو لوئر کرم کے صدر مقام صدہ پہنچا تھا، جہاں رات گزارنے کے بعد جمعرات کو فریقین کے ساتھ مستقل فائر بندی کے لیے بات چیت شروع کر دی گئی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ کئی روز تک جاری رہنے والے فرقہ وارانہ تصادم میں سب سے زیادہ ہلاکتیں صدہ میں ہی ہوئی ہیں۔ فوج نے اگرچہ گزشتہ روز فریقین کے درمیان عارضی فائر بندی کرا دی تھی لیکن صدہ میں حالات مجموعی طور ابھی بھی کشیدہ ہیں۔
ہنگو کے علاقے دوابہ سے صدہ کے راستے میں مقامی قبائلیوں نے اپنے گھروں کے سامنے عارضی قسم کے چیک پوسٹیں بنائی ہوئی ہیں، جہاں لوگوں کی جامہ تلاشی لی جاتی ہے اور ان کے شناختی کارڈ چیک کیے جاتے ہیں۔ ٹل پارچنار سڑک بند ہونے کی وجہ سے صدہ جانے والی تمام ٹریفک تورہ آوڑی کے راستے جا رہی ہے۔ اس پہاڑی راستے پر ہر گاؤں اور علاقے میں مسلح جوان ، بچے اور بوڑھے ہنگو سے پبلک ٹرانسپورٹ یا نجی گاڑیوں میں سوار لوگوں کوغور سے دیکھتے ہیں۔ کچھ گھروں کے سامنے لوگوں نے سبیلیس لگائی ہوئی تھیں جس میں لوگوں کو پانی اور شربت بھی پلایا جاتا ہے۔ صدہ سے ایمبولیس اور نجی گاڑیوں میں لاشیں اور زخمیوں کو لے کر ہنگو ، کوہاٹ اور پشاور لے جاتی نظر آتی ہیں۔ صدہ پہنچے والے ہر شخص کو بارود کی بو محسوس ہوتی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں مختلف جگہوں پر بھاری اسلحے کے استعمال سے آگ لگی ہوئی ہے۔ سب سے زیادہ لوگ صدہ ہسپتال کے اندر اور آس پاس کے علاقوں میں دیکھے گئے ہیں جو زخمیوں کے ساتھ آئے ہوئے تھے۔
بازار میں موجود ایک دکاندار نے بتایا کہ مارٹر کا گولہ اس کے دوکان پر آکرگرا ہے جس سے وہاں پر موجود تمام سامان خاکستر ہوگیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ لڑائی میں لوگوں کا کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے حکومت کو چاہیے کہ دکانداروں کو معاوضہ دیں۔ مقامی لوگوں میں اس بات پرشدید نارضگی پائی جاتی ہے کہ حکومت نے فریقین کے مابین عارضی جنگ بندی کرانے کےلیے فوجی کاروائی میں دیر کیوں کی ہے۔ کئی لوگوں نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت پہلے ہی دن یہ کاروائی کرتی تواتنے جانوں کا ضیاع نہ ہوتا۔ |
اسی بارے میں پارا چنار:’ہم بھوکے مر جائیں گے‘10 April, 2007 | پاکستان ’لڑائی کی شدت ناقابلِ بیان ہے‘10 April, 2007 | پاکستان فریقین پر فوج کی گولہ باری09 April, 2007 | پاکستان پاراچنار فسادات: ’امریکی ایجنڈہ ہے‘08 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||