پارا چنار:’ہم بھوکے مر جائیں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں گزشتہ جمعہ سے جاری فسادات اور اس کے بعد کرفیو کے نفاذ سے عام لوگوں کی زندگی مشکلات کا شکار ہوگئی اور یوں لگتا ہے کہ عوام متحارب فرقہ ورانہ گروہوں، تشدد اور کرفیو کے یرغمال بن گئے ہیں۔ زمین پر راکٹ اور میزائل فائر ہو رہے ہیں تو فضا میں کوبرا فوجی ہیلی کاپٹر گشت کر رہے ہیں۔خوراک سے لے کر ادویات تک ہر شے کی قلت بتائی جا رہی ہے۔ پارا چنار سے تعلق رکھنے والی خیر بی بی نے روتے ہوئے بتایا: ’میرا گھر اجڑ گیا ہے۔گھر میں پکانے کے لیے کچھ بھی نہیں۔ میرا گھر والا جمعے کے دن آٹا لینے کے لیے نکلا اور پھر واپس نہیں آیا ۔میرا بچہ زخمی ہو گیا تھا، جب اس کو ہسپتال لے جانے کے لیے گھر سے نکلی تو فوج نے مجھ پر فائرنگ کر دی جس سے میری دونوں ٹانگیں زخمی ہو گئی ہیں۔ دو دن سے ہم نے کچھ نہیں پکایا۔‘ کھانے پینے اور علاج معالجے کی سہولیات کے نہ ہونے کی شکایات کے ساتھ یومیہ روزگار پر انحصار کرنے والے بھی روزگار نہ ملنے کی وجہ سے مسائل کا شکار ہیں۔
مسرت حسین ایک ریڑھی بان ہیں۔ انہوں نے فسادات اور کرفیو کی وجہ سے کاروبار بند ہونے کی شکایت کرتے ہوئے بتایا: ’ فسادات شروع ہونے کے بعد ریڑھا کہاں چلا سکتا ہوں۔ کرفیو لگا ہوا ہے اور میں گھر میں بند پڑا ہوں۔ کھانے پینے کے لیے کچھ نہیں ہے اور بجلی بھی بند ہے۔ دن بھر ریڑھا چلا کر جو کماتا تھا وہی کھاتے تھے۔ اب توگھر میں پڑے زخمیوں کو بھی ہسپتال لے جانے کا نہیں سوچ سکتے۔ سب بند پڑے ہیں۔ ہم بھوکے مر جائیں گے۔‘ کرفیو کے باعث مقامی آبادی کے لیئے بازار جا کر کچھ خریدنا نہات مشکل ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں پارہ چنار کی ایک خاتون نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا: ’گیس نہیں ہے کہ کھانا پکایا جا سکے ۔آٹا اور گھی بھی اب ختم ہو رہا ہے۔ جن رشتہ داروں کے گھر فسادات میں جل چکے ہیں وہ بھی اب ہمارے گھر میں رہ رہے ہیں جس کی وجہ سے راشن وقت سے پہلے ختم ہو رہا ہے۔‘ پارا چنار کے عنایت اللہ نے کہا کہ کئی لوگ اب بھی گھروں کے منہدم ہونے کی وجہ سے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں لیکن نہ تو ان کو نکالنے کا کوئی بندوبست ہے اور نہ ہی ہسپتال لےجانےکا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر علاج کی غرض سے گھر سے نکلتے بھی ہیں تو فوج نے دیکھتے ہی گولی مار دینے کا حکم دیا ہوا ہے۔ ’کئی لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ جیسے دولت خان کی مارکیٹ میں انتیس لوگ دب گئے ہیں لیکن تعصب اتنے عروج پر ہے کہ لوگ انسانیت کے ناطے بھی ملبے میں دبے لوگوں کو نہیں نکال رہے۔‘ پارا چنار میں حکومت اور قبائلی عمائدین کی کوششوں کے باجود حالات کشیدہ ہیں اور امن و امان کی جلد بحالی کے امکانات کافی کم نظرآ رہے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ اگر امن جلد بحال بھی ہوگیا تو اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ قتل اور فسادات کا کھیل کب اچانک شروع ہوجائے۔ |
اسی بارے میں کرم ایجنسی میں مزید فوج 09 April, 2007 | پاکستان پاراچنار فسادات: ’امریکی ایجنڈہ ہے‘08 April, 2007 | پاکستان ہلاکتیں 50 تک ہو سکتی ہیں: شیرپاؤ07 April, 2007 | پاکستان پارہ چنار:لڑائی پھیل گئی، فوج طلب06 April, 2007 | پاکستان قبائلی علاقوں میں چودہ فوجی ہلاک23 March, 2004 | پاکستان کرم ایجنسی کی مسجد میں 2 ہلاک21 July, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||