’مشرف نے کراچی کو جاگیر بنا دیا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ نواز کی سندھ کی قیادت نے کہا ہے کہ بارہ مئی کے واقعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کراچی کو جنرل مشرف نے ایم کیو ایم کو جاگیر کے طور پر الاٹ کر دیا ہے۔ اتوار کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے سندھ سے تعلق رکھنے والے مرکزی نائب صدور امداد چانڈیو اور مشاہداللہ نے کہا کہ صدر پرویز مشرف فوج اور دیگر اداروں میں اردو بولنے والے لوگوں کو آگے لا رہے ہیں اور لسانی بنیادوں پر فیصلے ہو رہے ہیں۔ امداد چانڈیو نے کہا کہ سندھ میں لاقانونیت کی حکمرانی ہے اور سندھ پولیس کراچی میں عملاً ایم کیو ایم کی اور اندورن سندھ سرداروں کی پرائیویٹ فورس بن کر رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس کے اعلی افسران کی تعیناتی ایم کیو ایم کی مرضی سے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارہ مئی کو کراچی روانڈا یا کانگو کے کسی شہر کا منظر پیش کر رہا تھا، حکومت نام کی کسی شے کا وجود نہیں تھا اور کروڑوں شہریوں کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ مشاہداللہ نے الزام لگایا کہ ایم کیو ایم نے گیارہ مئی کی رات اپنے ڈھائی سے تین ہزار کارکن ایئرپورٹ کے اطراف پھیلا دیے تھے اور اگر چیف جسٹس رینٹ اے کار والی گاڑیوں میں ہائی کورٹ کی طرف روانہ ہوتے تو انہیں قتل کر دیاجاتا: ’ہم ببانگ دہل کہتے ہیں کہ بارہ مئی کو چیف جسٹس کے قتل کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر ایم کیو ایم کو نہ روکا گیا تو یہ پاکستان کےلیے دوسری مکتی باہنی بن جائے گی۔‘
انہوں نے کہا کہ بارہ مئی کے واقعات کی ذمہ داری وفاقی و صوبائی حکومتوں اور ایم کیو ایم پر عائد ہوتی ہے اور اب یہ سپریم کورٹ کا فرض ہے کہ کم سے کم تین ججوں پر مشتمل ایک ٹرائیبیونل تشکیل دیکر ذمہ داروں کا تعین کرے اور انہیں قرار واقعی سزا دے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بارہ مئی کو ایم کیو ایم کا کوئی کارکن ہلاک نہیں ہوا۔ ’ان کا صرف ایک بندہ ہارٹ اٹیک سے مرا جبکہ انہوں نے ہمارے ایک شہید کارکن جہانزیب کا جنازہ پڑھایا’۔ مشاہداللہ نے کہا کہ سندھ کے مشیر داخلہ، جنہوں نے بارہ مئی کو خود گن اٹھا رکھی تھی، اب میڈیا میں اپوزیشن جماعتوں پر الزامات لگا رہے ہیں۔ انہوں نے ایم کیو ایم کی ڈاکومنٹری کو خودساختہ قرار دیا اور کہا کہ ’اگر گوئبلز بھی آج زندہ ہوتا تو ان کے پراپیگنڈے کو دیکھ کر شرمندہ ہوتا۔‘ انہوں نے کہا کہ اردو بولنے والے لوگوں کی اکثریت ایم کیو ایم کے ساتھ نہیں ہے اور اگر شفاف انتخابات ہوں تو ایم کیو ایم کو شکست ہوگی۔ مشاہداللہ نے کہا کہ مسلم لیگ نواز کے چار کارکن فائرنگ میں ہلاک ہوئے جبکہ ممنون حسین، اقبال ظفر جھگڑا اور ان سمیت دیگر رہنماؤں نے بڑی مشکل سے جانیں بچائیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ خوفزدہ نہیں ہیں اور جمہوری انداز سے ہر طرح کے جبر کا مقابلہ کرتے رہیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||