کراچی تشدد، متحدہ کی وڈیو جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکمران جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے ہفتہ کو ایک وڈیو سی ڈی جاری کی ہے جس میں 12 مئی کو کراچی کے مختلف علاقوں میں ہونے والے تشدد کے واقعات کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ اس وڈیو میں حزب اختلاف کی بعض جماعتوں کے کارکنوں کو اسلحہ کی نمائش اور فائرنگ کرتے اور گاڑیاں نذر آتش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ وڈیو فلم 10 منٹ دورانیے کی ہے اور اسے ’کڑوا سچ‘ کا نام دیا گیا ہے جس میں گرومندر، شاہراہ فیصل اور جناح ہسپتال میں اسلحہ کی نمائش، تشدد اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات کے مناظر فلمبند ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے جوائنٹ انچارج عبدالحسیب نے ’حق پرست‘ ارکان اسمبلی حیدر عباس رضوی اور فیصل سبزواری کے ساتھ ہفتہ کو یہاں پارٹی کی صدر دفتر 90 پر صحافیوں کو یہ وڈیو دکھائی۔ فیصل سبزواری نے وڈیو کے تمام مناظر کو روک روک کر دکھاتے ہوئے ہر منظر کے بارے میں بریفنگ بھی دی۔ فلم گرومندر کے ایک منظر سے شروع ہوئی جہاں متحدہ کی ریلی کے شرکاء پرامن طور پر تبت سینٹر کی جانب رواں دواں تھے کہ اچانک گولیوں کی گھن گرج شروع ہوتی ہے اورشرکاء محفوظ مقامات کی جانب اندھا دھند بھاگنا شروع کردیتے ہیں۔ اس کے بعد شاہراہ فیصل پر سی او ڈی کے مقام پر پیپلز پارٹی کے جلوس کا ایک منظر دکھایا گیا جس کی قیادت پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی شیری رحمان اور سید نوید قمر کررہے تھے اور اس جلوس میں شریک مسلح افراد مخالف سمت میں فائرنگ کر رہے تھے۔
اسی شاہراہ پر موٹر سائیکلوں کو آگ لگاتے دکھایا گیا جن میں سے بعض کے ہاتھوں میں پارٹی کے جھنڈے تھے۔ اس منظر کے بارے میں فیصل سبزواری نے کہا کہ ’پی پی کے لوگوں نے 12 مئی کے واقعات کے بعد بار بار یہ بتانے کی کوشش کی کہ ان پر فائرنگ کی گئی اور ان کی گاڑیاں جلائی گئیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کون فائرنگ اور جلاؤ گھیراؤ کررہا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’یہ جوگاڑیاں جلائی جارہی ہیں یہ متحدہ کے کارکنوں کی ہیں۔‘ وڈیو میں متحدہ کے کارکنوں کو الگ الگ مناظر میں دو افراد کی لاشیں لے جاتے دکھایا گیا جن کے بارے میں فیصل سبزواری نے کہا کہ ’یہ متحدہ کے ذمہ داران بابر اور اسلم پرویز ہیں جنہیں نام نہاد جمہوریت، سیکولرازم اور مذہب کے عملبردارں نے شہید کیا۔‘ فلم کے ایک دوسرے منظر میں شاہراہ فیصل سے گزرتے ہوئے اے این پی کا ایک جلوس دکھایا گیا جس میں بعض گاڑیوں پر سوار ہتھیاروں کی نمائش کرتے ہوئے افراد کو دکھایا گیا۔ اس کے فوری بعد جناح ہسپتال میں پی پی کراچی کے سیکریٹری اطلاعات سعید غنی کی موجودگی میں پی پی کے کارکنوں کو متحدہ کے ایک کارکن کو تشدد کا نشانہ بناتے دکھایا گیا۔ اسی ہسپتال کے ایک دوسرے منظر میں اسلامی جمعیت طلباء کے جھنڈے اٹھائے افراد کو پولیس اہلکاروں سے ہسپتال سے باہر بھیجتے دکھایا گیا۔ حیدر عباس رضوی اور فیصل سبزواری نے اس موقع پر مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ تشدد کے یہ مناظر متحدہ کی میڈیا کمیٹی نے فلمبند کیے جبکہ بعض مناظر لوگوں نے اپنے وڈیو موبائل فون سے بھی ریکارڈ کیے اور متحدہ کو فراہم کیے۔ انہوں نے 12 مئی کے واقعات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرانے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ ہماری آواز سنی جائے گی۔‘ متحدہ کے رہنماؤں اور ارکان اسمبلی نے صحافیوں کو اپنے سوالات وڈیو فلم تک محدود رکھنے کا کہا تھا۔ |
اسی بارے میں یومِ سیاہ، ملک گیر ہڑتال کی کال12 May, 2007 | پاکستان چیف جسٹس کی واپسی، ہنگاموں میں 34 ہلاک12 May, 2007 | پاکستان ہمارے رپورٹرز سے: لمحہ بہ لمحہ12 May, 2007 | پاکستان ’لاڈلوں نے کراچی سے انتقام لیا‘13 May, 2007 | پاکستان سہراب گوٹھ سے ہنگاموں کا آغاز13 May, 2007 | پاکستان رہنما ہوش کے ناخن لیں: فاروق ستار13 May, 2007 | پاکستان کراچی: خون سے اخبارات رنگے رہے13 May, 2007 | پاکستان جلسے جلوسوں پر پابندی13 May, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||