ایم کیو ایم فوج کے ہاتھوں میں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی کا معاملہ بارہ مئی کو جو شکل اختیار کر گیا ہے اس نے لوگوں کے ذہنوں میں کئی سوالات پیدا کیے ہیں۔ نو مارچ کو صدر مشرف کی جانب سے چیف جسٹس افتخار چودھری کے خلاف ریفرینس کے بعد سے چیف جسٹس نے پاکستان کے مختلف شہروں میں بار کونسلوں سے خطاب کیے اور وکلا اور سیاسی جماعتوں نے بھرپور لیکن تقریبا پر امن احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا۔ آخر چیف جسٹس کے کراچی کے دورے پر ہی صورتحال نے خوفناک حد تک پُرتشدد شکل کیوں اختیار کی۔ حکومت نے ان کو بار بار یہ مشورہ کیوں دیا کہ وہ کراچی نہ جائیں کیونکہ ان کے کراچی جانے سے شہر میں حالات خراب ہو سکتے ہیں۔ اِن سوالات کے جواب معلوم کرنے کے لیے ہمیں گزشتہ بائیس برسوں کے دوران کراچی پر بلاشرکتِ غیرے راج کرنے والی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے سیاسی کردار کا جائزہ لینا ہوگا۔ انیس سو پچاسی میں بشریٰ زیدی نامی طالبہ کی ایک ٹریفک حادثے میں ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے عوامی احتجاج کو نسلی فسادات میں بدل دیا گیا۔ اُس عوامی احتجاج کے اندر ایک موثر تحریک بن کر اندرون سندھ اور آنے والے دنوں میں پورے ملک میں مارشل لا حکومت کے خلاف ایک بڑی تحریک سے جڑ جانے کی پوری صلاحیت موجود تھی۔
کراچی کے شہریوں کو یہ اچھی طرح یاد ہوگا کہ شہر میں کس طرح افواہیں پھیلائی گئیں کہ پٹھان مہاجر بستیوں پر حملہ کرنے آ رہے ہیں۔ پٹھان علاقوں میں بھی اسی طرح کی افواہیں پھیلائی گئیں۔ کراچی یونیورسٹی میں ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن نامی تنظیم کے طلبہ و طالبات نے طے کیا کہ وہ پٹھانوں کے ایک علاقے بنارس جا کر وہاں لوگوں کو اِس سازش کے بارے میں سمجھائیں گے۔ لیکن نامعلوم افراد نے بنارس میں یہ افواہ پھیلا دی کہ مہاجر ایک بس میں بھر کر پٹھانوں پر حملہ کرنے آ رہے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ اس بس کے طلبہ پر تشدد ہوا، کچھ طلبہ زخمی ہوئے اور علاقے کے لوگوں تک اپنا پیغام پہنچائے بغیر وہاں سے چلے گئے۔ لیکن شہر میں یہ افواہ پھیلا دی گئی کہ بس میں سوار مہاجر طالبات کو پٹھانوں نے اغوا کر لیا ہے۔ امن قائم کرنے کی کوئی کوشش امن خراب کرنے والوں کے ہاتھوں کامیاب نہ ہوسکی۔ شہر میں امن ریلیاں بھی نکلیں لیکن بے سود رہیں۔ اُن دنوں کے فسادات میں بڑے پیمانے پر پٹھانوں، پنجابیوں اور مہاجروں کے درمیان مسلح جھڑپوں میں سیکڑوں افراد ہلاک اور اربوں روپے کی املاک تباہ ہوئیں اور شہر کی اردو بولنے والی آبادی کی اکثریت نے ایم کیو ایم کے سائے تلے پناہ لے لی ۔ اس وقت کے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاالحق کی قیادت میں فوجی ایسٹیبلشمنٹ نے اس طرح کئی فائدے حاصل کیے۔ جنرل ضیاالحق کے خلاف صوبہ سندھ میں تحریک برائے بحالی جمہوریت ( ایم آر ڈی ) کی تحریک کمزور ہوئی۔ پاکستان کی سب سے بڑی مڈل کلاس آبادی کو مرکزی دھارے کی سیاست سے کاٹ کر ملک کی جمہوری قوتوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہچایا گیا۔ اس وقت سے آج تک کراچی ملک کے مرکزی دھارے کی سیاست سے کٹا ہوا ہے اور اِس شہر کی منتخب جماعت جمہوریت کے خلاف فوج کے ہاتھوں استعمال ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ تشدد کے نتیجے میں وجود میں آنے والی یہ جماعت آج تک تشدد کی سیاست سے باہر نہیں نکل سکی۔
فوج نے ایم کیو ایم کے لیے سیاست میں جو کردار متعین کیا ہوا ہے ایم کیو ایم نہ تو اس سے باہر آ سکی ہے نہ اسے ایسا کرنے دیا گیا ہے۔ انیس سو بانوے اور پھر انیس سو پچانوے میں کراچی میں دو ریاستی آپریشنوں کے ذریعے ایم کیو ایم کو یہ بات پوری طرح سمجھا دی گئی ہے کہ اُسے فوج کے بتائے ہوئے راستے پر ہی چلنا ہے۔ فوج کے لیے مرکزی دھارے سے کٹی ہوئی جماعت کو یہ سمجھانا آسان ہوتا ہے۔ ریاستی آپریشن کے دوران جب ایم کیو ایم کے رہنما چھپتے پھر رہے تھے اور کارکنوں کے جعلی مقابلوں میں ماورائے عدالت قتل ہو رہے تھے تو یہ میڈیا ہی تھا جس نے اِس کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ بعد میں جماعت کے ایک اہم رہنما آفتاب شیخ نے کراچی پریس کلب کی ایک تقریب میں صحافیوں سے میڈیا کے ساتھ اپنے رویے کی کھلے عام معافی مانگی تھی۔ کراچی میں بارہ مئی کو ’آج‘ ٹی وی پر کئی گھنٹوں تک ہونے والی فائرنگ کی معافی کے لیے بھی شاید لوگوں کو کئی برس تک انتظار کرنا ہوگا۔ وہ انیس سو اٹھاسی اور انیس سو ترانوے میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومتیں ہوں یا انیس سو نوے اور ستانوے میں مسلم لیگ نواز کی حکومتیں، ایم کیو ایم کو اِن منتخب حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ ایم کیو ایم نےان حکومتوں میں شامل ہوتے ہوئے بھی اِن ہی کے خلاف کام کیا اور ملک میں جمہوریت کے خلاف سازش میں اہم کردار ادا کیا۔ انیس سو ستانوے میں قومی اسمبلی کے انتخابات میں تقریبا یقینی جیت کے باوجود عین وقت پر بائیکاٹ کرکے اس جماعت نے سب کو حیران کر دیا تھا۔ ٹھیک دو دنوں کے بعد صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں ایم کیو ایم نے حصہ لیا اور بھرپور کامیابی حاصل کی اور ثابت کیا کہ شہر کی سب سے مقبول جماعت ہونے کے باوجود اس جماعت کے انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کا فیصلہ نائن زیرو میں نہیں بلکہ کہیں اور کیا جاتا ہے۔ ایم کیو ایم نے لوگوں کی اِس امید کو بھی ختم کر دیا کہ متوسط طبقے کی نمائندگی کرنے والی جماعت ملکی سیاست میں مثبت کردار ادا کر سکتی ہے۔ وکلا کی تحریک متوسط طبقے ہی کی تحریک ہے اور دیکھا جائے تو ایم کیو ایم کو اس کا حصہ ہونا چاہیے تھا ۔
ایم کیو ایم کے اسی کردار کے تناظر میں اگر دیکھیں تو بارہ مئی کو چیف جسٹس کی کراچی آمد اور جبری واپسی کے موقع پر کراچی میں ہونے والا تشدد اور ایک ہی دن میں چونتیس افراد کی ہلاکت کا معاملہ سمجھ میں آنے لگتا ہے۔ چیف جسٹس افتخار چودھری کی معطلی کے خلاف ملک بھر میں وکلا اور سیاسی جماعتوں کا احتجاج اور چیف جسٹس کے ملک کی مختلف بار کونسلوں سے خطاب کے موقع پر ججوں کی اکثریت کا موجود ہونا، اس سارے معاملے کو نشر کرنے کے دوران میڈیا پر حکومتی دباؤ اور ٹی وی چینلوں پر حملوں کے باوجود میڈیا کی جانب سے اس دباؤ کا سامنا کرنا، یہ سب وہ عوامل ہیں جنھوں نے موجودہ حکومت اور اس کے فوجی سربراہ جنرل مشرف کو سخت پریشانی میں مبتلا کیا ہوا ہے اور ظاہر ہے فوج کو بھی ایک ادارے کی حیثیت سے ہر وہ تحریک پسند نہیں جس سے ملک میں جمہوریت اور قانون کی بالادستی کا کوئی امکان پیدا ہو۔ اس موقع پر ایم کیو ایم ایک مرتبہ پھر فوج کے کام آئی ہے اور چیف جسٹس کی معطلی کے خلاف چلنے والی پر امن تحریک میں تشدد کا عنصر کراچی کے ذریعے داخل کیا گیا ہے ۔ اسی دوران صدر مشرف اور پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو کے درمیان رابطوں اور ڈیل کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ وہ صدر مشرف جو ظفراللہ جمالی جیسے بے ضرر وزیراعظم کو بھی برداشت نہیں کر سکے وہ بے نظیر سے بات کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ فوج کے اندر بھی یہ احساس پایا جاتا ہے کہ صدر مشرف اپنے آٹھ سالہ دورِ حکومت میں جتنے کمزور آج ہیں اتنے پہلے کبھی نہیں تھے۔
اسی لیے موجودہ فوجی ایسٹیبلشمنٹ مجبوراً یہی چاہتی ہے کہ اب پیپلز پارٹی جیسی عوامی جماعت کو شریکِ اقتدار کر کے صدر مشرف کو مزید موقع دیا جائے۔ ادھر موجودہ حالات میں امریکہ کی طرف سے بھی یہ اشارے ہیں کہ ماشل لا یا ایمرجنسی فی الحال اُسے قبول نہیں۔ خاص طور پر وہ اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس پاکستان میں کوئی جہادی جنرل اقتدار پر قابض نہ ہو جائے۔لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ ہرگزرتے دن کے ساتھ صدر مشرف کی اقتدار پرگرفت کمزور ہورہی ہے اور بظاہر یہ دکھائی دے رہا ہے کہ اگر صدر مشرف نے جلد ہی پیلپز پارٹی کے ساتھ معاملات طے نہیں کیے تو نہ وہ وردی نہ ہی بغیر وردی کے صدر رہیں گے۔ان حالات میں امریکہ کے لیے یہی مناسب ہے کہ صدر مشرف بے نظیر کے ساتھ مل کر حکومت کریں اور امریکی یہ بات صدر مشرف کو بھی سمجھا رہے ہیں۔ اسی تناظر میں اگر وکلا اور سیاسی جماعتوں کی موجودہ تحریک کے دباؤ میں آ کر فوج پیپلز پارٹی کے ساتھ اقتدار کی شراکت پر مجبور ہو جاتی ہے تو اس شراکت میں اسے بہت سے اختیارات سے محروم ہونا پڑے گا اور اقتدار کا ایک بڑا حصہ سیاسی جماعتوں کو منتقل ہو جائےگا۔ ایم کیو ایم کے ذریعے کراچی میں تشدد کروا کر یا جامعہ حفصہ کا معاملہ کھڑا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ عدلیہ کی آزادی کے نام پر چلنے والی اس تحریک کو جس حد تک ممکن ہو کمزور کر دیا جائے تاکہ اقتدار کی اس شراکت میں فوج اپنے لیے زیادہ سے زیادہ حصے کو یقینی بنا سکے۔ |
اسی بارے میں تشدد کی ذمہ دار حکومت ہے: اعتزاز12 May, 2007 | پاکستان پولیس نے استقبالیہ کیمپ اکھاڑ دیے10 May, 2007 | پاکستان جوڈیشل کونسل پرحکم امتناعی 15 May, 2007 | پاکستان ’حکومت کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں‘09 May, 2007 | پاکستان ’اعتزاز کو ملنے دیا جائے‘15 March, 2007 | پاکستان صدارتی ریفرنس، درخواستیں مسترد12 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||