BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 12 May, 2007, 10:04 GMT 15:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدارتی ریفرنس، درخواستیں مسترد

صدارتی ریفرنس کو سیاسی حربہ سمجھاگیا ہے
سپریم کورٹ نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف صدراتی ریفرنس کےحق میں دائر دو آئینی درخواستوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ رجسٹرار نے مولوی اقبال حیدر کی دونوں آئینی درخواستوں کو ’غیر سنجیدہ‘ قرار دیتے ہوئے ان کو لوٹا دی ہیں۔ سپریم کورٹ مولوی اقبال حیدر کی دونوں درخواستوں کو رجسٹر بھی کر چکا تھا اور ان کے نمبر بھی لگ چکے تھے۔

سپریم کورٹ آفس نے مولوی اقبال حیدر کو درخواستیں واپس کرتے ہوئے کہا کہ ان کی درخواستیں غیرسنجیدہ ہیں اور ان کو غلطی سے رجسٹر کر لیا گیا تھا۔

مولوی اقبال حیدر نے پانچ مئی کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے سامنے انتہائی جارحانہ انداز میں عدالت سے مخاطب ہوتے ہوئے ججوں پر الزامات لگائے تھے کہ وہ غیر جانبدار نہیں ہیں اور ان کو جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست نہیں سننی چاہیے۔

اقبال حیدر کے الزامات
 اقبال حیدر نے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس ایم جاوید بٹر پر الزام لگایا تھا کہ ان کی بہن جسٹس افتخار محمد چودھری کے حق میں مظاہرے کر رہی ہیں جبکہ جسٹس راجہ فیاض احمد چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ہم زلف ہیں اور وہ انصاف نہیں کر سکیں گے۔
اقبال حیدر نے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس ایم جاوید بٹر پر الزام لگایا تھا کہ ان کی بہن جسٹس افتخار محمد چودھری کے حق میں مظاہرے کر رہی ہیں جبکہ جسٹس راجہ فیاض احمد چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ہم زلف ہیں اور وہ انصاف نہیں کر سکیں گے۔ سپریم کورٹ نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

مولوی اقبال حیدر نے اپنی ایک درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 207 کے مطابق کوئی جج خود مقدمہ دائر کرنے کے اہل نہیں ہے اور جسٹس افتخار محمد چودھری نے سپریم کورٹ کے سامنے آئینی درخواست دائر کر کے اپنے آپ کو بطور جج نااہل کر لیا ہےاور ان کی بطور جج تعیناتی ختم کر دی جائے۔

اپنی دوسری درخواست میں اقبال حیدر نے موقف اختیار کیا تھا کہ صدر پاکستان چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا حق رکھتے ہیں اور صدر جنرل پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف ریفرنس دائر کر کے اپنا آئینی فریضہ سر انجام دیا ہے۔

سپریم کورٹ کے دفتر نے مولوی اقبال حیدر کو ان کی درخواستیں واپس کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اس طرح آئینی درخواست دائر کرنے کا کوئی حق نہیں بنتا اور ان کی آئینی درخواستیں غور کے قابل نہیں ہیں۔

مولوی اقبال حیدر نے اپنی آئینی درخواستیں رد ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سینیئر جج جسٹس جاوید اقبال سے رابطہ کیا ہے اور ان سے درخواست کی ہے کہ وہ سابق جسٹس اجمل میاں کی طرح اپنا فریضہ انجام دیں اور ان کی درخواستوں کو سننے کے لیے کسی اور جج کے سامنے لگانے کا حکم جاری کریں۔

جسٹس صبیح’جج اور صحافی برابر‘
ججوں کو بھی دھمکیاں ملتی ہیں: جسٹس وجیہ
جسٹس افتخارجسٹس کا قافلہ
جسٹس افتخار کا اسلام آباد تا لاہور سفر
فل کورٹ کیسا ہوگا
فل کورٹ کیسا ہوگا یہ ابھی واضح نہیں
 جسٹس افتخار چودھری ہڈی اور سیاسی گلے
جسٹس افتخارگلے کی’ہڈی‘ بنتے جا رہے ہیں
رب جانے یا مشرف
’جسٹس ریلی حکومتی ریلیوں کے بیچ سینڈوچ‘
پرویز مشرفمشرف کی ریلیاں
صدر کے جلسوں سے کیا پیغام ملتا ہے؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد