فل کورٹ کی ہیئت کیا ہوسکتی ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کو سپریم کورٹ کے فل بینچ کے حوالے کرنے کا حکم جاری کیا ہے لیکن فل کورٹ کتنے ججوں پر مشتمل ہو گا ابھی واضح نہیں ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف کے وکیل سید شریف الدین کےمطابق موجودہ صورتحال میں سپریم کورٹ کا فل بینچ بارہ ججوں پر مشتمل ہو گا۔سید شریف الدین پیرزادہ سپریم کورٹ کے دو ایڈہاک ججوں کو فل کورٹ بینچ میں شامل کرنے کے حق میں نظر نہیں آتے لیکن جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکلاء کے مطابق ایڈہاک جج بھی سپریم کورٹ کا جج ہوتا ہےاور ان کو فل کورٹ بینچ سے باہر رکھنا ممکن نہیں گا۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے وہ جج جو سپریم جوڈیشل کونسل کےممبر ہیں یا پہلے رہے ہیں ، ان کے علاوہ تمام ججوں پر مشتمل بینچ تشکیل دیا جائے۔ قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس، جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر، اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل کے ممبر ہیں جبکہ سردار رضا خان جسٹس بھگوان داس کی ملک سے غیر حاضری کے دوران سپریم جوڈیشل کونسل کے ممبر رہے ہیں اور یہ چاروں جج فل کورٹ میں شامل نہیں ہو سکیں گے۔
سپریم کورٹ میں ججوں کی سینارٹی لسٹ کے مطابق جسٹس خلیل الرحمن رمدے، فل کورٹ بینچ کی سربراہی کریں گے۔ فل کورٹ کے باقی ممبران میں جسٹس محمد نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس فلک شیر، جسٹس میاں شاکر اللہ جان، جسٹس ایم جاوید بٹر، جسٹس تصدیق حسین جیلانی، سید اشہد سعید، جسٹس ناصر الملک، جسٹس راجہ فیاض، جسٹس چودھری اعجاز احمد، جسٹس سید جمشیدعلی، جسٹس حامد علی مرزا، اور جسٹس غلام ربانی شامل ہوں گے۔ سپریم کورٹ کے جج سید جمشید علی شدید علیل ہیں اور بینچ میں شامل ہونے کے قابل نہیں ہوں گے ۔ سوموار کو جسٹس افتخار احمد چودھری کے مقدمے کی سماعت کے دوران وکیل اعتزاز احسن نے عدالت کو بتایا تھا کہ سپریم کورٹ کے بعض ججوں کی جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ سینارٹی کے مسائل تھے اور فل کورٹ بینچ کی صورت میں بعض ججوں پر اعتراض کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ |
اسی بارے میں فُل بینچ تشکیل دیں: مشرف وکلاء02 May, 2007 | پاکستان صدر کی درخواست نظر انداز04 May, 2007 | پاکستان جسٹس کیس: کب کیا ہوا؟05 May, 2007 | پاکستان ’فل کورٹ بینچ کا مطالبہ بدنیتی ہے‘03 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||