’حکومت کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’معطل‘ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل بیرسٹر اعتزار احسن نے انکشاف کیا ہے کہ صدارتی ریفرنس دائر ہونے کے بعد جسٹس افتخار سے ملاقات کرنے والے سب پہلے سیاست دانوں میں حکمران مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین شامل تھے جو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے استعفے کا ’عندیہ‘ لے کرگئے تھے۔ اعتزاز احسن نے بدھ کو لاہور پریس کلب میں پروگرام ’میٹ دی پریس‘ میں اس تاثر کی بھی تردید کی کہ حکومت اور چیف جسٹس کے درمیان مفاہمت کی کوئی کوشش ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ ایسا کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری نے خود کسی سیاست دان کے پاس جا کر ملاقات نہیں کی اور نہ وہ سیاست میں آنے کا ارادہ رکھتے ہیں، انہوں نےصرف بار ایسوسی ایشنوں سے خطاب کیا ہے جن میں پیشہ ورانہ موضوعات پر تقریریں کیں۔ جسٹس افتخار نے کوئی سیاسی بیان دیا ہے اور نہ کوئی سیاسی تقریر کی ہے۔
اعتزاز احسن کے مطابق اس برعکس صدر جنرل پرویز مشرف آرمی چیف اور صدر مملکت ہونے کے باوجود حکمران سیاسی جماعت کی ریلیوں کی قیادت کر رہے ہیں اور ایک سیاسی جماعت کے جلسوں میں شرکت کرتے ہیں بلکہ روزانہ اوسطاً دو بیان دیتے ہیں جو ان کے حلف کی خلاف وزری ہے۔ بیرسٹر اعتزاز احسن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وکلاء کی تحریک کے ممکنہ نتائج کے بارے میں حتمی پیشنگوئی کرنا آسان نہیں ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں عوام جمہوری عمل اور ووٹ کی قدر وقمیت سے آگاہ ہیں، اس لیے ایک اور مارشل لا نافذ ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہے بلکہ اس مرتبہ کوئی نئی بات ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم ریلی نکال کر خود اپنی سیاست کی نفی کر رہی ہے۔ اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے موجودہ موقف کی وجہ سے جماعت میں خاصا تناؤ ہے اور اس کے کارکن تذبذب کا شکار ہیں، تاہم بارہ مئی کو ایم کیوایم سے تعلق رکھنے والے افراد کراچی میں چیف جسٹس پاکستان کی تقریب میں شرکت کریں گے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جسٹس افتخار محمد چودھری کے مقدمے کے لیے بجائے خود کسی ریلی کی ضرورت نہیں ہے۔ چیف جسٹس پاکستان کا ریکارڈ شفاف ہے۔ وہ نہ صرف بےگناہ ہیں بلکہ مظلوم بھی ہیں اور ان کا مقصد حکومت کے لئے خطرہ بننا نہیں ہے بلکہ وہ اپنے عہدے پر بحالی کے لیے داد رسی چاہتے ہیں۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اگر حکومت چیف جسٹس کے دوروں کی وجہ سے ایمرجنسی لگا دیتی ہے تواس کا مطلب یہ ہوگا کہ حکومت نہ صرف کمزور ہے بلکہ کمزور دل بھی ہے۔ اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ جسٹس افتخار محمد چودھری نے عام آدمی کی داد رسی کی ہے اور لوگوں نے ان سے امیدیں لگا رکھی ہیں کہ وہ چیف جسٹس کے منصب پر بحال ہونگے تو ان کی داد رسی ہوگی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان کی درخواست پر سپریم کورٹ کے روبرو ہونے والی کارروائی کھلی عدالت میں ہو گی جس میں میڈیا کے ارکان بھی موجود ہونگے۔ | اسی بارے میں ’اعتزاز کو ملنے دیا جائے‘15 March, 2007 | پاکستان ’کوریج میں احتیاط، میڈیا کو ہدایت‘14 March, 2007 | پاکستان جسٹس کیس: کب کیا ہوا؟05 May, 2007 | پاکستان جوڈیشل کونسل کی کارروائی معطل07 May, 2007 | پاکستان نشریات کے تعطل پر واک آؤٹ08 May, 2007 | پاکستان پیمرا کا ’آج‘ ٹی وی کو نوٹس23 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||