BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 May, 2007, 09:12 GMT 14:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوڈیشل کونسل کی کارروائی معطل

سپریم کورٹ کے باہر کشیدگی(فائل فوٹو)
سپریم کورٹ کے باہر حکومتی مؤقف کے مخالف وکلاء کا احتجاج
سپریم کور ٹ کے پانچ رکنی بینچ نے سپریم جوڈیشل کونسل کو حکم دیا ہے کہ وہ جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف صدارتی ریفرنس کی کارروائی کو روک دے۔

سپریم کورٹ کے بینچ نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کو سننے کے لیے قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس، جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبد الحمید ڈوگر اور جسٹس سردار رضا کے علاوہ تمام ججوں پر مشتمل فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کی نتیجے میں جسٹس افتخار محمد چودھری کی عملی غیر معطلی جاری رہے گی اور وہ بطور چیف جسٹس کام نہیں کر سکیں گے۔

جسٹس افتخار محمد چودھری کے ایک وکیل منیر اے ملک نے بند کمرے میں جاری سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو روکنے کے حکم کو جسٹس افتخار محمد چودھری کی فتح قرار دیا۔

سوموار کے روز پانچ رکنی بینچ نے جب جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست شروع کرنی چاہی تو صدر جنرل مشرف کے وکلاء نے اعتراض کیا کہ موجودہ بینچ اس مقدے کی سماعت نہ کرے۔ سپریم کورٹ کا بینچ جسٹس ایم جاوید بٹر، جسٹس ناصر الملک ، جسٹس راجہ فیاض، جسٹس اعجاز احمد اور جسٹس حامد علی مزرا پر مشتمل تھا۔

 فل کورٹ سے مراد سپریم کورٹ کے بارہ ججوں پر مشتمل ایک ایسا بینچ ہے جس میں سپریم جوڈیشل کونسل میں شامل تین جج اور کونسل کے ابتدائی اجلاسوں میں شرکت کرنے والے جسٹس سردار محمد رضا خان شامل نہ ہوں۔
شریف الدین پیرزادہ

صدر جنرل مشرف کے ایک وکیل ایڈوکیٹ احمد رضا قصوری نے عدالت کو کہا کہ اس مقدمے کو فل کورٹ بینچ میں بھیجنا چاہیےاور فریق مخالف کو عدالت میں سیاست سے گریز کرنا چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ وہ یقین رکھیں کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا۔

اسی موقع پر ایک حکومتی موقف کے حامی درخواست گزار مولوی اقبال حیدر نے کہا کہ رانا بھگوان داس نے انتہائی جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف موجودہ بینچ پر اعتراضات والی درخواست عدالت کے سامنے نہیں رکھی ہے بلکہ ان کی آئینی درخواست کو عدالت کے سامنے نہیں آنے دیا ہے۔

مولوی اقبال حیدر نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے کہ جسٹس افتخار محمد چودھری کے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی جائز عمل ہے اور وکلاء کو اس کے راستے میں روڑے نہیں اٹکانے چاہئیں۔

مولوی اقبال حیدر نے انتہائی جارحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ بینچ سے انصاف کی توقع نہیں کیونکہ بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید بٹر کی بہن آمنہ بٹر سپریم کورٹ کے باہر جسٹس افتخار محمد چودھری کے حق میں مظاہرے کرتی نظر آتی ہیں جبکہ بینچ پر موجود ایک جج جسٹس افتخار کے ہم زلف ہیں۔ مولوی اقبال حیدر نے یہ بھی کہا کہ بینچ میں شامل جسٹس حامد علی مرزا ایک ایڈہاک جج ہیں اور ان کی تعیناتی چیلنج ہو چکی ہے۔

’فل کورٹ بینچ کی تشکیل چیف جسٹس کی صوابیدی اختیار ہے‘

جب عدالت نے مولوی اقبال حیدر سے کہا کہ قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس عدالت میں ہیں اور انہیں وہاں اپنے ساتھ ہونے والی مبینہ جانبداری کا شکوہ کرنا چاہیے تو انہوں نے کہا کہ وہ قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس سے ’نمٹ’ لیں گے لیکن وہ اس وقت تک روسٹرم نہیں چھوڑیں گے جب تک عدالت اسے واضح جواب نہیں دے دیتی۔ مولوی اقبال حیدر نے کہا کہ عدالت کو یا تو اس کی بات ماننا ہوگی یا اسے جیل بھیجا ہو گا۔

اس پر پانچ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید بٹر نے کہا کہ عدالت محسوس کر رہی ہے کہ سب کچھ کسی کے کہنے پر ہو رہا ہے۔ اس موقع پر صدر پرویز مشرف کے وکیل شریف الدین پیرزادہ اٹھے اور کہا کہ اس اہم مقدمے کو تمام ججوں پر مشتمل فل کورٹ کے حوالے کر دیا جائے۔

فل کورٹ بینچ کے بارے میں جسٹس جاوید بٹر کے استفسار پر سید شریف الدین پیرزادہ نے کہا فل بینچ موجودہ سپریم جوڈیشل کونسل میں شامل یا پہلے اس کا حصہ رہنےوالے ججوں کے علاوہ سپریم کورٹ کے تمام ریگولر ججوں پر مشتمل ہو اور موجودہ صورتحال میں وہ بارہ رکنی بینچ بنتا ہے۔

سید شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کی روایت ہے کہ اہم نوعیت کے معاملات فل کورٹ کے سامنے رکھے جاتے ہیں۔ اسی مقدمے میں وفاقی حکومت کے وکیل ملک قیوم نے کہا کہ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد بائیس مختلف مواقعوں پر فل کورٹ بینچ تشکیل دیے گئے ہیں۔

اعتراضات
 بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید بٹر کی بہن غیر فعال چیف جسٹس کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں میں شرکت کر رہی ہیں جبکہ بینچ میں شامل ایک اور جج غیر فعال چیف جسٹس کے ہم زلف ہیں جبکہ بینچ کے ایک رکن حامد علی مرزا ایڈہاک جج ہیں
مولوی اقبال حیدر

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں سپریم کورٹ بار کے انتخابات کے تنازعے کو حل کرنے کے لیے فل کورٹ بینچ تشکیل دیا گیا تھا اور اب جب مسئلہ چیف جسٹس سے متعلق ہے تو اس کو بھی فل کورٹ کے حوالے کرنا ضروری ہے۔ جسٹس جاوید بٹر نے کہا دونوں فریق مختلف مواقعوں پر فل کورٹ بینچ کی تشکیل کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل چودھری اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ بات ٹھیک ہے کہ انہوں نے فل کورٹ بینچ کی تشکیل کا مطالبہ کیا تھا لیکن اب وہ اس کے مخالف ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے فل کورٹ کا مطالبہ کیا تھا تو حکومت کی طرف سے اس کی تحریری مخالفت کی تھی اور اب حکومت کی طرف فل کورٹ کا مطالبہ تاخیری حربہ ہے۔

عدالت نے وکلاء سے کہا کہ وہ صرف ایک نکتے پر عدالت کی معاونت کریں کہ کیا موجودہ بینچ حکم جاری کر سکتا ہے کہ اس معاملے کو فل کورٹ کے سامنے لگایا جائے یا وہ چیف جسٹس سے سفارش کرے کہ وہ اس مقدمے کو فل کورٹ بینچ میں بھیجنے پر غور کریں۔

جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل اعتراز احسن نے کہا کہ بینچ کی تشکیل چیف جسٹس کی صوابیدی اختیار ہے اور عدالت صرف سفارش کر سکتی ہے جبکہ حکومتی وکلاء کا موقف تھا کہ عدالت خود حکم جاری کر سکتی ہے کہ مقدمے کو فل کورٹ کے سامنے لگایا جائے۔

اٹارنی جنرل مخدوم علی خان نے اپنے مختصر دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ کے سامنے کم از کم چار درخواستوں میں قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس کو فریق بنایا گیا ہے لہذا وہ بینچ تشکیل دینے کے اہل نہیں اور عدالت حکم جاری کرنا ہے کہ یہ مقدمہ فل کورٹ بینچ کے سامنے رکھا جائے۔

جسٹس جاوید بٹر نے کہا کہ عدالت میں جس طرح کے الزامات لگائےگئے ہیں وہ ان کے لیے پریشان کن ہیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور دو درجن کے قریب دیگر ایسی درخواستیں جن میں سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل پر سوالات اٹھائے گئے ہیں، انہیں سپریم کورٹ کے سامنے رکھا جائے اور اس دوران سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف کارروائی کو روک دے۔

جسٹس افتخار’جسٹس کیس‘
سپریم کورٹ سے جی ٹی روڈ کا سفر تاریخوں میں
جسٹس صبیح’جج اور صحافی برابر‘
ججوں کو بھی دھمکیاں ملتی ہیں: جسٹس وجیہ
وکلاء احتجاججسٹس کیس
جسٹس افتخار کی پیشی، وکلاء سڑکوں پر
اسی بارے میں
جسٹس کیس: کب کیا ہوا؟
05 May, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد