BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 06 May, 2007, 07:13 GMT 12:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’آمرانہ نظام ، تباہی اور بربادی‘

جسٹس افتخار کی تقریر سننے کے لیے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے بیس ریٹائرڈ جج بھی موجود تھے

غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ تاریخ بتاتی ہے کہ وہ قومیں اور ریاستیں جن کی بنیاد آئین کی بالا دستی، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کی حفاظت کی بجائے آمرانہ نظامِ حکومت پر قائم ہو، وہ تباہ و برباد ہو جایا کرتی ہیں۔

جسٹس افتخار چودھری نے یہ بات لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں سولہ گھنٹے سے ان کی تقریر کے منتظر کئی حاضر اور ریٹائرڈ جج صاحبان کے علاوہ ہزاروں جوشیلے وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

شدید گرمی اور چلچلاتی دھوپ میں وکلاء کی بہت بڑی تعداد لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں موجود تھی۔ بیشتر وکلاء جن میں خواتین وکلاء کی بھی خاصی نمائندگی تھی، رات بھر پنڈال میں موجود رہے جس کے ارد گرد استقبالی کیمپوں میں قومی ترانے اور فیض احمد فیض کی مشہور نظم ’لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘ گونجتی رہی۔

اپنی پون گھنٹے کی تقریر میں جو تقریباً صبح دس بجے شروع ہوئی، جسٹس چودھری نے بار بار بنیادی انسانی حقوق اور ان کی حفاظت کا ذکر کیا اور آئین کے مختلف آرٹیکلز کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ شخصی آزادی کے بغیر مہذب معاشرے کی تشکیل ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی حقوق اور آزادی ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ انہوں نے کہا: ’آئین کے آرٹیکل چار کے مطابق ہر شخص کا بنیادی حق ہے کہ اس کے ساتھ قانون اور آئین کے مطابق سلوک کیا جائے۔‘ جسٹس افتخار نے کہا کہ ان کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہے۔

پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق جسٹس افتخار چودھری کو ہفتے کی شام پانچ بجے لاہور ہائی کورٹ پہنچنا تھا لیکن ان کا قافلہ اسلام آباد سے مختلف مقامات پر رُکتے ہوئے بالآخر تقریباً چوبیس گھنٹے کے طویل سفر کے بعد جب لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں پہنچا تو اس کا شاندار استقبال کیا گیا۔

عینی شاہدوں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ لاہور میں کسی غیر سیاسی شخصیت کے لیے اس طرح کا استقبال ماضی میں بہت کم دیکھنے میں آیا ہے۔ ہزاروں وکلاء کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی گزشتہ سولہ گھنٹے سے پنڈال میں اور اس کے ارد گرد جمع تھے۔

جسٹس افتخار چودھری سے اظہارِ یکجتی کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے تینتیس ججوں میں سے سولہ جج موجود تھے۔ایک جج بیرونِ ملک گئے ہوئے ہیں۔ یہ جج رات بھر جسٹس چودھری کے انتظار میں لاہور ہائی کورٹ میں اپنے چیمبرز ہی میں رہے۔ آنے والے ججوں میں ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی کے چھ کے چھ جج موجود تھے جو عہدے کے لحاظ سے سینئر ترین ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ کئی ریٹائرڈ جج بھی جسٹس چودھری کی آمد پر پنڈال میں آئے ہوئے تھے جن میں سابق صدرِ پاکستان اور جج محمد رفیق تارڑ اور جاوید اقبال بھی شامل تھے۔ جسٹس چودھری کے ساتھ حکومت کی ’بدسلوکی‘ پر استعفیٰ دینے والے جج جواد ایس خواجہ بھی پنڈال میں موجود تھے۔تقریب میں لاہور ہائی کورٹ کے چار سابق چیف جسٹسسز جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال، جسٹس ریٹائرڈ ایس اے سلام، جسٹس ریٹائرڈ میاں اللہ نواز اور جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمن نے بھی شرکت کی۔ اس کے علاوہ حاضر سروس وفاقی ٹیکس محتسب جسٹس ریٹائرڈ منیر اے شیخ بھی تقریب میں شامل تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون نے مطالبہ کیا کہ انیس سو تہتر کا آئین اپنی اصل شکل میں بحال کیا جائے، جلا وطن وزارئے اعظم بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو وطن واپس آ کر انتخابی عمل میں شرکت کرنے دی جائے، جمہورت بحال کی جائے اور فوج ہمیشہ کے لیے اپنی بیرکوں میں واپس چلی جائے۔

جسٹس افتخار چودھری کو لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا تا حیات رکن بنانے کا بھی اعلان کیا گیا۔ انہیں انیس سو تہتر کی اصل آئین کی ایک کاپی بھی دی گئی۔

سینکٹروں گاڑیوں، ویگنوں اور بسوں پر مشتمل جسٹس چودھری کا قافلہ جس میں ہزاروں کی تعداد میں سیاسی کارکن اور وکلاء شامل تھے ہفتے کا پورا دن اور ساری رات سفر کرکے اتوار کی صبح چار بجے کے قریب شاہدرہ پہنچا تھا۔ شاہدرہ سے مینارِ پاکستان اور داتا دربار سے ہوتا ہوا یہ قافلہ تقریباً پانچ گھنٹے میں لاہور ہائی کورٹ پہنچا۔

لاہور میں سیاسی کارکنوں اور وکلاء کے علاوہ چیف جسٹس کے استقبال کے لیے عام آدمی بھی بہت بڑی تعداد میں سڑکوں پر موجود تھے جبکہ قافلے کے راستے کے دونوں اطراف عمارتوں پر عورتوں اور بچے بھی بڑی تعداد میں نظر آرہے تھے۔

اسلام آباد اور لاہور کے درمیان تمام بڑے چھوٹے شہروں میں چیف جسٹس کا زبردست استقبال کیا گیا۔ جہلم، گجرات اور گوجرانوالہ میں ان کا بڑے پیمانے پر استقبال ہوا جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔

جہلم اور گوجرانوالہ میں صورت حال چھوٹے چھوٹے ناخوشگوار واقعات کی وجہ سے کچھ کشیدہ بھی ہوگئی تھی لیکن مجموعی طور پر یہ قافلہ جس میں شامل لوگوں کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا بڑے پرامن انداز میں اپنی منزل تک پہنچ گیا۔

اسلام آباد سے لاہور تک اس قافلے کے ساتھ سفر کرنے والے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نمائندے رفاقت علی کے مطابق تمام راستے صدر جنرل پرویز مشرف وکلاء، سیاسی کارکنوں اور عام لوگوں کی طرف سے لگائے گئے نعروں کا نشانہ رہے۔

گجرات میں پنجاب کے وزیر اعلی چودھری پرویز الہی اور حکمران جماعت کے صدر چودھری شجاعت حسین کے خلاف بھی نعرے بازی کی گئی۔ چودھری شجاعت اور چودھری پرویز الہی کے آبادی شہر گجرات میں جس پیمانے پر چیف جسٹس کا استقبال ہوا اس کو بھی مثالی قرار دیا جا رہا ہے۔

گجرات ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس افتخار نے کہا کہ وکلاء کو اب قانون کی حکمرانی کا بیڑا اٹھا لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ بار نے انہیں دوبارہ بلایا تو وہ خصوصی طور پر گجرات آئیں گے۔

جسٹس صبیح’جج اور صحافی برابر‘
ججوں کو بھی دھمکیاں ملتی ہیں: جسٹس وجیہ
قانونی نکات
جسٹس افتخار کی پیٹیشن کے قانونی نکات
داتو پرام کمارا سوامے جیورسٹس کمیشن
پاکستان میں عدلیہ کی آزادی پر تشویش
احتجاجسیاسی میلے
وکلا کے جذبے میں کوئی کمی دکھائی نہیں آئی
جسٹس افتخار کیس
’غیر فعال‘ چیف جسٹس کیس میں کب کیا ہوا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد