BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 06 May, 2007, 12:40 GMT 17:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور میں جسٹس افتخار کی تقریر کا متن

جسٹس افتخار
لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی تقریب سے غیر فعال چیف جسٹس جسٹس افتخار محمد چودھری کے خطاب کا متن۔

جناب سیکرٹری جنرل بار ایسوسی ایشن، بار کونسل کے عہدیداران اور ممبران بار

السلام علیکم

یہاں زندہ دلانِ لاہور میں خطاب کے لیے دعوت پر میں آپ سب کا مشکور ہوں۔ اس سے پہلے بھی مجھے متعدد بار آپ لوگوں سے ملاقات اور خطاب کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ آپ لوگوں کا رویہ میرے ساتھ ہمیشہ پُرتپاک اور مشفق رہا ہے۔ میں بار کے لیے کوئی اجنبی شخص نہیں ہوں۔ یہ بات میرے لیے قابلِ شرف ہے کہ میں وکلاء برادری کا ممبر بھی رہا ہوں۔ اس بار نے اپنے لیے ایک خاص مقام حاصل کیا ہے۔ قانون کے حکمرانی اور آئین کی حفاظت کی خاطر جد و جہد کرنے کی وجہ سے اس بار کو ہمیشہ پاکستانی قوم سے بے پناہ تعریف اور پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔

یہی وہ گروہ ہے کہ جس کی شب و روز محنت، جستجو اور انتھک کوشش سے مسلمانانِ ہند کے لیے ایک الگ مملکت کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکا اور یہی وہ گروہ ہے جس نے ہمیشہ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لیے مسلسل جد وجہد جاری رکھی۔ یہاں میں اس مشہور کہاوت کو دہرانا چاہتا ہوں کے جج صاحبان اور وکلاء حضرات ایک گاڑی کے دو پہیوں کی مانند ہیں۔ یہ صرف ایک کہاوت نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک گہرا مفہوم پوشیدہ ہے۔ در حقیقت قانون کی حکمرانی کے نظام کی بنیاد اسی نظریے اور فلسفے پر ہے۔ یہ دونوں نہ صرف ایک دوسرے کا لازمی جز ہیں بلکہ ایک دوسرے پر مکمل انحصار کرتے ہیں۔ وکلاء حضرات کی معاونت کے بغیر عدالتیں اپنا کام صحیح طور پر انجام نہیں دے سکتی ہیں اور اسی طرح عدلیہ کے بغیر انصاف کا حصول ممکن نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بنچ اور بار ہمیشہ حصول انصاف کے لیے بنیادی عناصر رہے ہیں۔

میری آج کی تقریر کا موضوع ہے ’بنیادی انسانی حقوق کے حصول میں سپریم کورٹ کا کردار‘ بنیادی انسانی حقوق کسی بھی مہذب معاشرے کی تشکیل میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آئین کی بالا دستی، قانون کی حکمرانی، بنیادی انسانی حقوق اور آئین میں فراہم کی گئی شخصی آزادی کے تحفظ کے بغیر مہذب معاشرے کی تشکیل نا ممکن ہے۔ انسانی شخصیت کی تشکیل اور افراد کے محفوظ اور پُر امن زندگی کے حصول کا انحصار بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی پر ہے۔ ایسی زندگی جس میں ہر شخص کو زندہ رہنے کا حق، شخصی آزادی اور جائیداد کا تحفظ، مساوات، تقریر، اظہارِ خیال، نقل و حرکت اور اجتماع کی آزادی حاصل ہو۔

ہمیں تاریخ کے مطالعے سے اس بات کا بخوبی علم ہوتا ہے کہ کسی بھی قوم کی سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کا دارومدار آئین کی بالا دستی، جمہوریت کے اصول اور قانون کی حکمرانی پر ہوتا ہے۔ وہ قومیں اور ریاستیں جن کی بنیاد آئین کی بالا دستی، قانون کی حکمرانی اور بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت کی بجائے آمرانہ نظامِ حکومت پر قائم ہو، وہ تباہ و برباد ہو جاتی ہیں۔ آمرانہ نظامِ حکومت اور اجتماعیت کا تصور اب ختم ہو چکا ہے۔ یہ سب تاریخ کے کڑوے اسباق ہیں اور جو قومیں تاریخ سے سبق حاصل نہیں کرتیں اور انہی غلطیوں کو دہراتی ہیں انہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ پاکستان کے آئین میں بنیادی انسانی حقوق کو مکمل تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ یہ بنیادی انسانی حقوق نہ صرف تمام پاکستانی شہریوں کو بلکہ ان تمام افراد کو بھی حاصل ہیں جو کہ فی الوقت پاکستان میں موجود ہوں۔ آئین میں ان تمام بنیادی انسانی حقوق جنہیں تحفظ فراہم کیا گیا ہے کی ایک تفصیلی فہرست موجود ہے اس کے علاوہ حکمت عملی کے اصول اور آئین کے آرٹیکل تین اور چار میں بھی بنیادی انسانی حقوق کا ذکر کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے بھی انہی بنیادی انسانی حقوق جو کہ کئی ابواب پر مشتمل ہیں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ بنیادی انسانی حقوق اور آزدی ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ آئین میں بیان کی گئی تمہید جس کو آئین کا لازمی کا جز قرار دیا گیا ہے میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ پاکستان کے جمہور کی منشا ہے کہ ایک ایسا نظام قائم کیا جائے جس میں ممکت اپنے اختیارات و اقتدار کو جمہور کے منتخب کردہ نمائندے کے ذریعے استعمال کرے گی۔

(a) جس میں جمہوریت، آزادی، مساوات، راواداری اور عدلِ عمرانی کے اصولوں پر جس طرح اسلام نے ان کی تشریح کی ہے، پوری طرح عمل کیا جائے گا۔ جس میں مسلمانوں کو انفرادی حلقہ ہائے عمل میں اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات و مغزیات کے مطابق ’جس طرح قرانِ پاک میں ان کا تعین کیا گیا ہے‘ ترتیب دے سکیں۔
(b)جس میں قرار واقعی انتظام کیا جائے گا کہ اقلیتیں آزادی سے اپنے مذاہب پر عقیدہ رکھ سکیں اور ان پر عمل کر سکیں اور اپنی ثقافتوں کو ترقی دے سکیں۔
(c) جس میں بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے گی اور ان حقوق میں قانون اور اخلاقِ عامہ کے تابع حیثیت اور مواقع میں مساوات، قانون کی نظر میں برابری، معاشرتی، معاشی اور سیاسی انصاف اور خیال، اظہارِ خیال، عقیدہ، دین، عبادت اور اجتماع کی آزادی شامل ہوگی۔
(d) جس میں اقلیتوں اور پسماندہ اور پست طبقات کے جائز مفادات کے تحفظ کا قرار واقعی انتظام کیا جائے گا، جس میں عدلیہ کی آزادی پوری طرح محفوظ ہو گی۔

آئین کے آرٹیکل 3 میں مخصوص بنیادی انسانی حقوق کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اسی آرٹیکل کے تحت مملکت کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ ہر قسم کے استحصال کے خاتمے اور بنیادی حقوق کی بتدریج فراہمی کو یقینی بنائے جیسے کہ آرٹیکل میں کسی ایک گروہ کے کسی دوسرے گروہ کے خلاف ناجائز انتقاع سے تحفظات فراہم کیے گئے ہیں۔ اسی طرح آئین کے ارٹیکل 4 کے مطابق ہر شہری کا یہ بنیادی حق ہے کہ اس کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے۔

یہاں یہ بات واضح کر دینا بھی ضروری ہے کہ آئین کے آرٹیکل 3 اور 4 بنیادی انسانی حقوق سے متعلقہ باب میں شامل نہ ہیں بلکہ اس کے علاوہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس باب میں شامل تمام حدود و قیود سے آزاد ہیں۔ حتٰی کہ ان بنیادی حقوق کو ہنگامی حالات میں بھی معطل نہیں کیا جا سکتا۔ درحقیقت آرٹیکل 4 کو امریکی اصول’Due Process of Law‘ اور برطانوی اصول’ Rule of Law‘ کے مساوی اور ہم پلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ آرٹیکل 4 ریاست پر ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ معاشرے میں قانون کی حکمرانی قائم کرے۔ یہی وجہ ہے کہ عدالتیں بھی اس عمل کی پابند ہوتی ہیں کہ وہ انتظامیہ یا مقننہ کی طرف سے قانون کی حکمرانی کے خلاف کسی بھی اقدام کو روکیں۔

بنیادی انسانی حقوق کے متعلق باب میں بنیادی حقوق اور آزادی کی لاتعداد اقسام بیان کی گئی ہیں۔ آئین میں بنیادی انسانی حقوق کو اہم ترین حیثیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ تو انتظامیہ ایسا کوئی فعل سر انجام دے سکتی ہے اور نہ مقننہ کوئی ایسی قانون سازی کر سکتی ہے جو ان بنیادی حقوق سے متصادم ہو۔ یہی وجہ ہے کہ کہ کوئی بھی فعل یا قانون جو ان بنیادی حقوق سے متصادم ہو وہ آئین کے تحت کالعدم ہوگا۔ اور اعلٰی عدلیہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہرایسے انتظامی عمل اور قانون سازی کو کالعدم قرار دے کر منسوخ کر دے۔ آئین میں اعلٰی عدلیہ کو یہ اختیار عدالتی نظرِ ثانی کے اصول کے تحت حاصل ہے۔

ہمارے آئین کے بنیادی انسانی حقوق سے متعلقہ باب میں بیان کیے گئے مفہوم بنیادی انسانی حقوق سے متعلقہ بین الاقوامی دستاویزات خصوصاً Universal Declaration of Human Rights 1948 سے مستعار لیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں
Universal Declaration of Human Rights 1948 نے امریکی British, French Declaration of Man 1791, Bill of Rights 1891,
Magna Carta 1215 اور Diey's expostion of rule of law سے تحریک حاصل کی ہے۔

بنیادی انسانی حقوق جنہیں آئینی تحفظ حاصل ہے کی تفصیل یہ ہے۔ زندگی اور آزادی کا حق، گرفتاری اور نظر بندی سے تحفظ بشمول وجوہاتِ گرفتاری سے آگاہی کا حقت چوبیس گھنٹوں کے دوران عدالت کے سامنے پیش کیے جانے کا حق، اپنی پسند کے کسی قانونی پیشہ سے منسلک شخص سے مشورہ کرنے اور اس کے ذریعے صفائی پیش کرنے کا حق، ایک ہی جرم میں دوہری سزا نہ دیے جا سکنے کا حق، مؤثر بہ ماضی سزا سے تحفظ، اپنے آپ کو ملزم گرداننے سے تحفظ،شرفِ انسانی کی حرمت، چادر اور چار دیواری کا تقدس، جائیداد کے حصول، قبضہ میں رکھنے اور فروخت کرنے کا حق، سوائے قانون کی اجازت کے جائیداد سے محروم نہ کیے جانے کا حق، شہریوں سے مساوات اور مساوی قانونی تحفظ، عام مقامات میں داخلے سے متعلق عدمِ امتیاز کا حق، ملازمتوں میں امتیاز کے خلاف تحفظ، نسل کشی، غلامی، بیگار اور جبری مشقت کی ممانعت، مذہبی آزادی، تجارت کاروبار و پیشے کی آزادی وغیرہ۔

اس کے علاوہ عدالتِ عظمٰی نے اپنے لازوال فیصلوں کے ذریعے ان بنیادی انسانی حقوق اور آزادی کے اصولوں کو مزید وسعت عطا کی ہے۔

آئین کے تحت عدالتِ عظمی اور عدالتِ عالیہ کو بنیادی انسانی حقوق کے نفاذ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت آئین کے حصہ دوئم کے باب 1 میں تفویض کردہ حقوق میں کسی حقکے نفاذ کے لیے عدالتِ عالیہ کو اختیارِ سماعت دیا گیا ہے۔ آرٹیکل (3) 184 کے رو سے بنیادی حقوق میں کسی حق کے نفاذ کے سلسلے میں عوامی اہمیت کے سوال کی صورت میں عدالتِ عظمیٰ کو اختیارِ سماعت حاصل ہے۔ اس سلسلے میں عدالتِ عظمیٰ کو آرٹیکل 187، 189 اور 190 کے تحت بھی اختیار حاصل ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے بنیادی حقوق کے نفاذ اور فوری اور سستے انصاف کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ جدوجہد کی ہے۔ مزید یہ کہ عدالتِ عظمیٰ کو اپنے مقصد میں کامیاب کروانے کی غرض سے آئین نے ’عدلیہ کی آزادی‘ اور ’انتظامیہ سے علیحدگی‘ کے واضح اصول فراہم کیے ہیں۔ بِلا شک و شبہہ ایک آزاد عدلیہ ہی آئین کو تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کو بنیادی حقوق کے سلسے میں عوامی اہمیت کے سوال پر از خود نوٹس لینے کا اختیار بھی حاصل ہے اور اس سلسلے میں عدالتِ عظمیٰ نے ہمیشہ سعی اور کوشش کی ہے اور اس عمل کو پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے اپیل بر بنائے حق اور درخواست برائے اجازت اپیل کے مقدمات کے علاوہ خطوط کے ذریعے موصول ہونے والی شکایات پر بھی قانونی کارروایی کی ہے۔

میں نے بطور چیف جسٹس موصول ہونے والی لاتعداد درخواستوں اور خطوط پر از خود کارروائی کی ہے۔ عدالت میں کام کی زیادتی بھی ہمیں انسانی حقوق کے مقدمات کو نمٹانے میں رکاوٹ نہ بن سکی۔ کیونکہ ہم کسی بھی ایسے مجبور اور لاچار شخص پر انصاف کے دروازے بند نہیں کر سکتے جو عمومی چارہِ کار آزمانے کے باوجود انصاف حاصل نہ کر سکا ہو۔ اسی اختیارِ سماعت کے تحت لا تعداد مقدمات اورشکایات زیرِ غور لائی گئیں۔ رواں سال کے تیسرے مہینے میں یہ تعداد بارہ ہزار سے زیادہ ہو چکی تھی۔ ہم نے اپنے دیگر امور کو انجاز دینے کے ساتھ ساتھ گ تقریباً 6000 شکایات کو بھی نمٹایا جن میں سائیلان کو انصاف فراہم ہوا۔ اس سلسے میں چند امور کی تفصیل یہ ہے۔

1) زناء اغوا اور غیرت کے نام پر قتل جیسے مقدمات پر فوری کارروائی
2) ونی اور سوارہ جیسی غلط رسومات کے خلاف کارروائی کی گئی
3) قانون کی خلاف ورزی اور طاقت کے ناجائز استعمال کے خلاف مناسب احکامات جاری کیے گئے
4) کسی فرد یا افراد یا گروہ کے خلاف ناجائز حراست پر کارروائی کی گئی اور اس سلسلے میں غریب، نادار، غیر محفوظ افراد خصوصاً عورتوں اور بچوں، قیدیوں، اقلیتوں اور محنت کشوں کو اہمیت دی گئی
5) ماحولیاتی آلودگی کے سلسے میں شکایات پر کارروائی کی گیی جس میں نیو مری پروجیکٹ، مارگلہ ہل پر بننے والے ہوٹل بھی شامل ہیں
6) نجکاری سکیم کے خلاف شکایت پر کارروائی کی گئی
7)سرکاری زمین کی ناجائز الاٹمنٹ کے خلاف کارروائی
8)بجلی کا کرنٹ لگنے کے باعث ہلاکتوں پر کارروائی اور دیت کی ادائیگی کے لیے اقدامات
9) پولیس کے پیٹرول پمپ اور دیگر جائدادوں پر ناجائز قبضے کے خلاف کارروائی
10) عام لوگوں کو غیر قانونی حراست میں رکھنے کے خلاف کارروائی
11) ریٹائرڈ ملازمین اور بیوہ عورتوں کو بروقت پینشن کی فراہمی کے خلاف شکایات پر کارروائی وغیرہ شامل ہیں۔

چھ ہزار انسانی حقوق کے مقدمات کے علاوہ دیگر زیرِ سماعت مقدمات میں کمی معمولی کارنامہ نہیں جس کا سہرا میرے ساتھی جج صاحبان کو جاتا ہے جن کی انتھک محنت اور کوشش سے یہ سب ممکن ہو سکا۔

ہمارا یہ عمل کسی خاص فرد یا ادارے کے خلاف نہیں تھا بلکہ یہ عوام کی بھلائی اور معاشرے کی فلاح کی خاطر تھا۔ اس کا مقصد صرف معاشرے میں آئین کی بالادستی اور قانون کی فراہمی تھا۔

جسٹس صبیح’جج اور صحافی برابر‘
ججوں کو بھی دھمکیاں ملتی ہیں: جسٹس وجیہ
قانونی نکات
جسٹس افتخار کی پیٹیشن کے قانونی نکات
داتو پرام کمارا سوامے جیورسٹس کمیشن
پاکستان میں عدلیہ کی آزادی پر تشویش
احتجاجسیاسی میلے
وکلا کے جذبے میں کوئی کمی دکھائی نہیں آئی
جسٹس افتخار کیس
’غیر فعال‘ چیف جسٹس کیس میں کب کیا ہوا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد