فل کورٹ: سماعت چودہ مئی سے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے سپریم کورٹ کا فل کورٹ تشکیل دے دیا ہے جو چودہ مئی سے روزانہ صدر مشرف کے خلاف غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی سماعت کرے گا۔ قائم مقام چیف جسٹس نے یہ اقدام پیر کے روز سپریم کورٹ کے ایک پانچ رکنی بینچ کے فیصلے کی روشنی میں کیا ہے جس نے سپریم جوڈیشل کونسل کو جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف صدارتی ریفرنس کی کارروائی روکنے اور آئینی درخواست کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کے تمام دستیاب ججوں پر مشتمل فل کورٹ تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ میں ججوں کی سینارٹی لسٹ کے مطابق فل کورٹ کی سربراہی جسٹس خلیل الرحمن رمدے کریں گے جبکہ اس کے باقی ارکان میں جسٹس محمد نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس فلک شیر، جسٹس میاں شاکر اللہ جان، جسٹس ایم جاوید بٹر، جسٹس تصدیق حسین جیلانی، جسٹس سید سعید اشہد، جسٹس ناصر الملک، جسٹس راجہ فیاض، جسٹس چودھری اعجاز احمد، جسٹس سید جمشید علی، جسٹس حامد علی مرزا اور جسٹس غلام ربانی شامل ہوں گے۔ پیر کو جسٹس افتخار احمد چودھری کے مقدمے کی سماعت کے دوران وکیل اعتزاز احسن نے عدالت کو بتایا تھا کہ سپریم کورٹ کے بعض ججوں کے جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ سینارٹی کے مسائل تھے اور فل کورٹ بینچ کی صورت میں وہ بعض ججوں پر اعتراض کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ |
اسی بارے میں فل کورٹ کی ہیئت کیا ہوسکتی ہے؟07 May, 2007 | پاکستان جوڈیشل کونسل کی کارروائی معطل07 May, 2007 | پاکستان بدسلوکی کیس میں فیصلہ محفوظ08 May, 2007 | پاکستان جسٹس کا دورہِ لاہور، توجہ کا مرکز04 May, 2007 | پاکستان اگلی سماعت پانچ دن بعد03 May, 2007 | پاکستان سپریم جوڈیشل کونسل میں سماعت شروع18 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||